بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی

کیا ہم کوئی قوم ہیں یا ہمارا تعلق کسی تہذیب سے ہے ، شائد نہیں بلکہ یہ احساس یقین میں بدل گیاہے کہ ہم نہ کبھی ایک قوم تھے، اور نہ ہی کوئی تہذیب۔ دو روز پہلے مہاراشٹر میں ریل پٹری پر سو رہے۱۶ مہاجر مزدوروں کو مال گاڑی کچلتی ہوئی گزر جاتی ہے اور مجھ سمیت سماج میں کسی کو کوئی غصہ نہیں آتا ۔ افسوس صد افسوس ۔ اب اگر ہم کورونا وبا کے جانی اور مالی نقصان کم رکھنے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں تو دنیا اس کی تعریف کر سکتی ہے ، اس کو کامیابی کا لقب دے سکتی ہے لیکن ہم نہیں ۔

سوشل میڈیا سے لے عام گفتگو کے دوران شہرمیں رہنے والا ہر تیسرا عادمی یہ ذکر ضرور کر دیتا ہے کہ کورونا وبا سے پیدا ہونے والے حالات تکلیف دہ تو ہیں لیکن اس نے ہمارے ملک کے لئے مواقع بھی کھولے ہیں ۔ یہ لوگ چین کوکوستے ہوئے یہ ضرور دہراتے ہیں کہ ہندوستان کے پاس بڑا سنہرا موقع ہے اور بڑی بڑی کمپنیاں اب چین کو چھوڑ کر ہمارے ملک میں سرمایہ کاری کر سکتی ہیں بس حکومت کو یہ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہئے۔ یہ بھولی بھالی عوام اس حکومت سے اتنی بڑی بڑی امیدیں کیسے لگا لیتی ہے جو اپنے ملک کے مہاجر مزدور وں کے لئے کچھ نہیں کر پاتی اور وہ بیچارے ٹرین سے کچل کر مارے جاتے ہیں۔

ٹرین کی پٹری پر پڑی ان مزدوروں کی روٹیوں کی تصاویر آنکھوں کے سامنے سے ہٹنے کا نام نہیں لے رہی ہیں ۔ یہ تصویر چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ روٹی کے لئے ان مزدوروں نے اپنا گھر بار چھوڑا ، اپنا وطن چھوڑا ، اپنے عزیز و اقارب چھوڑے اور اب یہ مزدور ان روٹیوں کو ریل کی پٹری پر بکھیر کر ہمیشہ کے لئے دنیا سے چلےگئے۔ لیکن اپنے پیچھے چند شرمندہ کرنے والے سوال چھوڑ گئے ہیں۔ اس سارے معاملہ پر کسی بھی صحافی کو یا میڈیا ہاؤس کو اتنا غصہ نہیں آیا جتنا تبلیغی جماعت پر آیا تھا۔ وزیر کو تو چھوڑئے کسی عام آدمی کو بھی غصہ نہیں آیا جبکہ اسی ہندوستان نے وہ جنون بھی دیکھا جب جنوب کا کوئی رہنما اپنی پوری زندگی جی کر انتقال کر جاتا ہے تو بہت سے جزباتی لوگ اور اس کو اپنی زندگی سے زیادہ چاہنے والے لوگ خود کشی کر لیتےہیں ۔ آزادی کے اتنے سالوں بعد بھی کیا ہم بحران کے وقت اپنے شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم نہیں کر سکتے۔ ایسے کئی سوال ہیں۔

ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ کورونا وبا سے نمٹنے کے لئے جو تیاریاں کرنی چاہئے تھیں وہ تیاریاں کرنے میں ہم ناکام رہے ہیں ۔ ہم نہ صرف ان غریب مزدوروں کو راشن اور ضروری اشیا کی فراہمی کا کوئی مناسب نظام قائم کر پائے بلکہ ہمارے پاس اپنی ریل اور بسیں ہوتے ہوئے بھی ہم ان غریب مزدوروں کو ان کے گھروں تک پ پہنچا پائے ۔آج بھی ہزاروں مزدور پیدل سڑک کے راستہ اپنے گھر کی جانب گامزن ہیں ۔ ان غریبوں کے سامان میں راستہ کے لئے روٹیاں، بچوں کے لئے بسکٹ ہیں اور جیبوں میں سو دو سو روپے پڑے ہیں ۔ ان غریب مزدوروں کو بس یہ امید ہے کہ ایک بار وہ گھر پہنچ جائیں گے تو وہ کورونا سے چاہے مر جائیں لیکن بھوک سے نہیں مریں گے اور شہر میں ان کے لئے تصویر بالکل برعکس ہے ، یہاں وہ کورونا سے مرے یا نہ مریں لیکن بھوک سے ضرور مر جائں گے۔ خدا کے واسطے کوئی یہ سوال نہ پوچھے کہ یہ مزدور پٹری پرسوئے کیوں تھے اور کیا ان کو نہیں معلوم تھا پٹری پر ٹرین کبھی بھی آ سکتی ہے کیونکہ بھوک اور خوف کو آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھالا جا سکتا۔

بہرحال ہمیں خود سے بہت شرمندہ ہونا چاہئے کہ ایسا ہمارے ملک میں ہو رہا ہے ایسا اس ملک میں ہو رہا ہے جو سپر پاور بننے کی دوڑ میں شامل بتایا جاتا ہے ۔ ان غریب مزدوروں کی وجہ سے ہی ہم دنیا کے بڑے ممالک کی ضرورت بن رہے ہیں اور اس کو ہم اپنی ترقی سمجھ رہے ہیں ۔ ان مزدوروں کی وجہ سے ترقی یافتہ ممالک کے سربراہ اور کمپنیاں ہمارے ملک کو اہمیت دے رہی ہیں۔ سستے اورضرورت مند غریب مزدور ہونے کے ساتھ ساتھ یہ ان کمپنیوں کے مال کے خریدار بھی ہیں ۔ آج ہم ان کمپنیوں کی وجہ سے مزدور قوانیں میں تبدیلی کر رہے ہیں تاکہ سرمایہ لگانے والی کمپنیوں کے ہاتھوں یہ مزدور بندھوا ہو کر رہ جائیں ۔ جس سماج کے لوگوں کو ایسے واقعات پر بھی غصہ نہیں آتا اور ان کا خون نہیں کھولتا وہ سماج سپر پاور تو دور ترقی یافتہ بھی نہیں بن سکتا۔ اب تو ہمارے باوقارقوم اور تہذیب ہونے پر بھی سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔