دہلی: ایمس کے ڈاکٹر زاہد نے اپنی جان جوکھم میں ڈال بچائی کورونا مریض کی جان

دہلی واقع ایمس کے جلسہ گاہ میں جب ڈاکٹر زاہد نے قدم رکھا تو ساتھی ڈاکٹروں نے تالی بجا کر ان کا استقبال کیا۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے اور رمضان کے اس مہینے میں پابندی سے روزہ رکھ رہے ڈاکٹر زاہد نے کارنامہ ہی کچھ ایسا انجام دیا تھا کہ صرف ڈاکٹر طبقہ ہی نہیں بلکہ پورا ہندوستان ان کے حوصلے کی تعریف کر رہا ہے۔ انھوں نے کورونا کے ایک مریض کو بچانے کے لیے اپنی جان جوکھم میں ڈال دی، اور اب سبھی دعائیں کر رہے ہیں کہ ڈاکٹر زاہد کورونا کی زد میں نہ آئے ہوں۔

دراصل ایمبولنس میں سوار ایمس پہنچے وینٹی لیٹر پر پڑے ایک کورونا پازیٹو مریض کے ساتھ کچھ مسائل تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وینٹی لیٹر صحیح سے لگا ہوا نہیں ہے۔ انتہائی نگہداشت والے وارڈ میں ریزیڈنٹ ڈاکٹر کے طور پر کام کرنے والے ڈاکٹر زاہد پی پی ای (پرسنل پروٹیکشن ایکوئپمنٹ) پہنے ہوئے تھے جس کی وجہ سے وہ ایمبولنس میں مریض کی صورت حال کو ٹھیک سے دیکھ نہیں پا رہے تھے۔ ایسے مشکل وقت میں انھوں نے فیس شیلڈ اور چشمہ ہٹا کر مریض کو وینٹی لیٹر کا ٹیوب لگایا۔ اس وقت مریض کی حالت مستحکم ہے لیکن ڈاکٹر زاہد کو کوارنٹائن میں رکھا گیا ہے۔

ڈاکٹر زاہد نے اس پورے واقعہ کے بعد بتایا کہ “جمعرات کی رات تقریباً ڈھائی بجے 40 سالہ کورونا مریض کو سنگین حالت میں لایا گیا تھا۔ میں نے پی پی ای کٹ پہنی ہوئی تھی اور فیس شیلڈ اور چشمہ کے اندر فاگنگ زیادہ ہو گئی تھی جس کی وجہ سے ٹھیک سے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ مریض کے پاس زیادہ وقت نہیں تھا اور میں نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں فیصلہ لیا۔” ان کی اس بہادری والے عمل کی تعریف ایمس کے فیکلٹی اور ساتھی ڈاکٹر دل کھول کر رہے ہیں۔ کورونا کے خلاف جنگ میں وہ ایک سچے واریر یعنی جنگجو بتائے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر زاہد کا کہنا ہے کہ “انفیکشن کا ڈر ہمیشہ رہتا ہے۔ ڈاکٹر کے طور پر ہم مریضوں کی جان بچانے کا حلف لیتے ہیں اور کبھی اس ذمہ داری سے بھاگا نہیں جا سکتا۔”

محمد زاہد کے ایک معاون ہرجیت سنگھ بھٹی نے اس پورے واقعہ کے تعلق سے اپنے ٹوئٹر پر جانکاری شیئر کی ہے۔ انھوں نے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ “ڈاکٹر زاہد ایمس دہلی میں ڈی ایم کریٹیکل کیئر ڈاکٹر ہیں۔ انھوں نے اس وقت غیر معمولی بہادری اور خودسپردگی کا مظاہرہ کیا جب ایک کووڈ-19 پازیٹو مریض کو آئی سی یو میں منتقل کرنے کے لیے بلایا گیا۔” اپنے اگلے ٹوئٹ میں ہرجیت لکھتے ہیں کہ “بدقسمتی سے جب زاہد ایمبولنس کے پاس پہنچے تو مریض کو سانس لینے میں تکلیف محسوس کی اور اچانک کسی حادثہ ہونے کے اندیشہ میں انھوں نے فوراً اپنا چشمہ ہٹانے کا فیصلہ لیا کیونکہ پی پی ای کی وجہ سے ایمبولنس کے اندر کچھ بھی صاف نظر نہیں آ رہا تھا۔”

ہرجیت نے ایک کے بعد ایک اس سلسلے میں 4 ٹوئٹ کیے۔ اپنے اگلے ٹوئٹ میں انھوں نے لکھا ہے کہ زاہد نے اپنی جان جوکھم میں ڈال کر ایک کورونا مریض کو موت کے منھ میں جانے سے بچا لیا۔ ہرجیت نے یہ بھی لکھا ہے کہ ڈاکٹر زاہد نے فوری طور پر فیصلہ لیا اور دوبارہ اس سلسلے میں سوچا بھی نہیں کہ اس عمل سے ان کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے۔

بہر حال، اس وقت ڈاکٹر زاہد کوارنٹائن میں ہیں اور پورا ملک ان کی سلامتی کے لیے دعائیں کر رہا ہے۔ لوگ دست بہ دعا ہیں کہ اس بہادر ڈاکٹر پر کورونا کا حملہ نہ ہوا ہو تاکہ ایک بار پھر وہ کورونا کے خلاف لڑائی میں سرگرمی کے ساتھ اتر پائیں۔