شہر قاضی ناگدا-کھاچرود کی امت مسلمہ سے اپیل :


عید الفطر پر خریدی نہ کی جائے ، غریبوں کی امداد اجر عظیم
کھاچرود 08مئی (نیا نظریہ بیورو) رمضان المبارک کا پہلا عشرا ( دس روزے ) مکمل ہو چکے ہیں ۔ اللہ تعالی ہماری عبادتوں کو قبول فرمائے ۔ اور ہمارے ملک اور عالم انسانیت کو کورونا وبا سے جلد سے جلد نجات فرمائے ۔ آمین ۔ کورونا وبا سے نجات کے سلسلے میں لا ک ڈاﺅن کا تیسرا مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔ لہٰذا انتظامیہ کی ہدایتوں پر سختی سے عمل کریں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ ” نہ خود نقصان اٹھاﺅ اور نہ کسی کو نقصان پہنچا ﺅ” کی روشنی میں گھروں میں ہی رہیں ۔ بلا ضرورت باہر نہ نکلیں۔ عید کی خریداری کے لیے اگر مارکیٹ کھلیں تو بھی بازاروں میں بھیڑ کی شکل میں جمع نہ ہوں
سوشل ڈسٹےسنگ بنا کر رکھیں۔ مقامی انتظامیہ ، پولیس ، صحت عملہ کی مدد کریں۔ آپ اپنے آس پاس باہر سے آنے – جانے والوں کی انتظامیہ کو اطلاع دیں اور ان کی طبی ا سکریننگ کر ائیں ۔ رمضان صبر کرنے اور غموں کو آ پس میں بانٹنے کا مہینہ ہے۔ چوںکی کورونا وائرس کی وجہ سے پورے ملک میں غم اور پریشانی کا ماحول ہے۔ بہت سے گھروں کے چراغ بجھے ہیں ، بہت سے بچے یتیم ہوئے ہیں ، کئی معمر والدین کا سہار اچھن چکا ہے ۔ایسے حالات میں ہماری دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم آنے والی عید الفطر کی خوشی سادگی سے منائیں۔ اس عید پر کوئی بھی نئے کپڑے ، نئے جوتے یا کوئی بھی نئی چیز ہرگز نہ خریدیں۔ اس خرچ کو بچا کر آپ غریب ، یتیم ، مجبور پڑوسی اور رشتہ داروں کے لیے ضرورت کے سامان کےساتھ کچھ نقد روپے دے کر ان کی مدد کریں۔ مالدار لوگ اپنی زکوٰتہ ادا کریں۔ مالدار ( وہ لوگ جو اسلامی سال گزرنے تک کم ازکم ساڑھے باون تولہ چاندی جس کی موجودہ قیمت 25000 رو پے یا اس سے زیادہ کیش ، زیور ، وغیرہ کے مالک ہوں) اپنی حلال کمائی کا2.5فیصد زکوٰتہ غریب ، یتیم ، بیوہ ، مجبور ، رشتہ دار یا پڑوسی کو اس کاحق دے کر مدد کریں ۔صدقہ فطر 50 روپے فی ممبر کے حساب سے رمضان میں ہی ادا کر دیں۔ عید کا انتظار نہ کریں۔ ہماری عید کی سچی خوشی تب ہی ہوگی جب ہم چھپا کر کی گئی مدد سے کسی غریب ، مجبور خاندان کے آنکھوں سے غم کے آنسو پوچھ کر چہرے پر سچی خوشی لا سکیں ۔مذکورہ اپیل شہر قاضی کھاچرود-ناگدا ڈاکٹر سید عروج احمد نے امت مسلمہ سے کی ہے ۔