شارلن چوپڑا نے کھولے راز، فلم صنعت میں یہ ہوتا ہے ’ ڈنر‘ کا اصلی مطلب

ممبئی۔ شارلن چوپڑا (Sherlyn Chopra) اپنے بولڈ انداز کے لئے پہچانی جاتی ہیں۔ ہمیشہ وہ کچھ ایسا کر جاتی ہیں جو انہیں سرخیوں میں لے آتا ہے۔ بالی ووڈ میں آنے کے ساتھ انہوں نے اپنی بولڈ اداوں سے لوگوں کو اپنا دیوانہ بنایا۔ حالیہ دنوں میں فلمی دنیا کے کاسٹنگ کاوچ (Casting Couch) کو لے کر کئی باتیں سامنے آئیں۔ کئی اداکاراوں نے گلیمر سے بھری اس دنیا کی سچائی اور اپنے تجربے کو دنیا کے سامنے ساجھا کیا۔ اب اس معاملہ پر اداکارہ شارلن چوپڑا نے کھل کر بات کی ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ کیرئیر کے آغاز میں انہیں کام کے لئے کیا کیا برداشت کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ کاسٹنگ کاوچ کے فلمی دنیا میں کون سا کوڈ لفظ استعمال ہوتا ہے۔

فلم صنعت گلیمر کی بالکل الگ دنیا ہے۔ گلیمر کی اس دنیا میں کاسٹنگ کاوچ کی باتیں بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔ اب اس معاملہ پر اداکارہ شارلن چوپڑا نے کھل کر بات کی ہے۔ شارلن چوپڑا نے بتایا کہ جب وہ اپنے کیرئیر کا آغاز کر رہی تھیں تو انہیں فلم ساز نے آدھی رات کو ’ ڈنر‘ پر بلایا تھا۔


شارلن چوپڑا نے حال ہی میں کاسٹنگ کاوچ کو لے کر کئی راز کھولے ہیں۔ Koimoi کو دئیے انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ آغاز میں جب میں نے فلمی دنیا میں قدم رکھا تھا اور کوئی مجھے نہیں جانتا تھا تو میں فلم سازوں سے رابطہ کرتی تھی کہ وہ میری قابلیت دیکھیں گے جسے میں خود اپنے اندر رکھتی ہوں۔ میں اپنے پورٹ فولیو کے ساتھ ان کے پاس جاتی تھی اور وہ مجھے سے کہتے تھے ’ اچھا او کے ، ٹھیک ہے، ہم ملتے ہیں ڈنر پر‘۔ مجھے لگتا تھا کہ یہ شاید وہی ڈنر ہو گا جس کو ہم سب بچپن سے جانتے ہیں۔ اس لئے میں پوچھتی تھی کہ مجھے ڈنر پر کب آنا چاہئے تو وہ مجھے رات کے گیارہ بجے یا بارہ بجے آنے کے لئے کہتے تھے۔

ڈنر سے ان لوگوں کا اصلی مطلب کمپرومائز ہوتا تھا۔ جب ایسا چار سے پانچ بار ہو گیا تو میں سمجھی کہ ’ ڈنر‘ کا اصلی مطلب کیا ہوتا ہے۔ ’ ڈنر‘ کا فلم صنعت میں مطلب ہے ’ میرے پاس آو بیبی‘۔

شارلن نے بات چیت میں آگے بتایا کہ فلم سازوں کے ارادوں کو جاننے کے بعد میں ان سے منع کرنے لگ گئی کہ ان کی اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اس کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے ’ ڈنر‘ ہی نہیں کرنا ہے۔