اتنے ضروت ہیں کہاں؟:

 


حکومت اورسماجی تنظیمیں ضرورت مندوںتک کھاناپہنچانے کاکررہی ہیں دعویٰ
بھوپال:7مئی (نیانظریہ بیورو)
کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاﺅن میں کاروبارباکل بندہوگئے ہیں،روزگار سے چھٹی اور روزکماکر چولہا جلانے والوں کے سامنے آئی دو وقت کی روٹی پریشانی۔ مشکل حالات میں ضرورت مندوں کی مدد کا جو جذبہ ان دو مہینے میں دیکھاگیا ہے، شاید وہ کبھی نہیں دیکھا گیا ہوگا ۔ مدد کرنے والے مدد کرنے سے نہیں تھک رہے ہیں اور لینے والوں کے جوش میں بھی کوئی کمی نہیں نظرآرہی ہے۔ حکومت سے لیکر سماجی خدمتگاروں کے ہزار دعوے اب یہ سوچنے پر مجبور کرنے لگے ہیں کہ جب کھلانے والے اتنے ہیں تو پھر کھانے والا کون ہے۔ محسوس ہونے لگا ہے کہ سارا شہر ضرورت مند ہوکر رہ گیا ہے، جس کو مفت کا کھانا ہضم کرنے کی عادت سی لگ گئی ہے۔ لاک ڈاﺅن کے تقریباًدومہینے کے دوران ضرورتمند وں کی فکر میں آئے لوگوں کی فہرست بڑی لمبی ہے۔ عمومی طور پر دعویٰ کرنے والوں کو دیکھا جائے تو انہیں دیکھ کر ہی شہر کی آدھی بھوک مٹانے کے حل کی امید کی جاسکتی ہے۔
حکومت کی رسوئی کا دعویٰ ہے کہ لاکھوں لوگوں کو روز دونوں وقت کھانا کھلارہے ہیں۔ شہر کے دو سابق وزیر نے ہزاروں لوگوں کو کھانا تقسیم کرنے کی ذمہ داری سنبھال رکھی ہیں۔ ایک کانگریس ایم ایل اے 14کچن سے 30ہزار لوگوں تک کھانا پہنچارہے ہیں۔دوسرے اقبال میدان ستیہ گرہ سے جڑے لوگ60کچن سے ڈیڑھ لاکھ لوگوں تک کھانا پہنچا رہے ہیں۔ ایک کانگریس لیڈر سابق وزیراعلیٰ کے حوالے سے 20ہزار لوگوں کو کھانا کھلانے کا دعویٰ کررہے ہیں۔وہیں ایک مسلم تنظیم نے اب تک ایک کروڑ 65لاکھ روپے کا کھانا اور راشن بانٹنے کا سوشل میڈیا پر تشہیر شروع کردیا ہے۔ مدھیہ پردیش وقف بورڈ کے سابق چیئرمین کے نام سے راشن کٹ بانٹنے کی سوشل میڈیا پر تشہیر کرنے میں مصروف ہیں۔گرودوارہ کے انتظامیہ کمیٹی ، جین سماج ،برہمن سماج،سندھی سماج،ریلوے ملازمین یونین سے لے کر پچاسوں مدد کرنے والے روز لوگوں کو کھانا اور راشن تقسیم کرنے میں مصروف ہیں۔کچھ ایسے بھی ہیں،جو سیدھے ہاتھ سے دی گئی امداد کی خبر الٹے ہاتھ تک نہیں پہنچنے دے رہے ہیں۔
دعوے سچے یا اعدادوشمار جھوٹے:ضرورت مندوں کو راشن اور کھانا مہیا کرانے والوں کی تعداد کے اصل اعدادوشمار پر پہنچا جائے تو اس سے آدھے سے زیادہ شہرکی بھوک مٹانے کا انتظام مانا جاسکتا ہے۔ لیکن دکھائے جانے والے اعدادوشمار سوشل میڈیا اور اخباروں میں کی جانے والی خود کی بے لوث خدمت کے پیچھے جھوٹ کا ایک پہاڑ بھی کھڑا ہے، جو بانٹنے والوں کی اس بڑی تعداد کے بعد بھی ضرورت پوری نہ ہونے کی کہانی کی وجہ سر اٹھاتا نظر آرہا ہے۔
رمضان کے تقاضے بھی ادھورے:ماہ رمضان میں مسلم سماج کے ذریعہ اپنے مال کی زکوة اور جان کا صدقہ دئے جانے کی تجویز ہے۔ کسی حقیقی ضرورت مندوں کو تلاش کر اس تک اس رقم کو پہنچایا جانا زکوة دینے والوں کے لئے ضروری ہے۔ لیکن غریبوں کو راشن اور کھانا مہیا کرانے کی آڑ میں لوگ بغیر تصدیق کے اپنی زکوة اور صدقے کا پیسہ خرچ کئے جارہے ہیں۔ ایسے میں جہاں اسلامی تقاضوں کی ادائیگی میں مشکلات سامنے آرہی ہے،وہیں اس رقم کا حقیقی حقدار تک نہیں پہنچ پانابھی صاف دکھائی دے رہاہے۔