تبلیغی جماعت کے لوگوں کو گھر جانے کی اجازت

دہلی حکومت نے کورونا وائرس انفیکشن سے صحت مند ہونے والے تبلیغی جماعت کے لوگوں کو گھر جانے کی اجازت دے دی ہے۔
دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت کے جو متاثرین ٹھیک ہو چکے ہیں اور ان کی کوارنٹائن کی مدت بھی ختم ہو چکی ہے، انہیں گھر جانے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان جماعت والو ں میں سے جن پر بھی مقدمہ ہے ان پر دہلی پولیس کی کارروائی کرے۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کو پولیس حراست میں بھیجے اور باقی کو گھر جانے دے۔

غور طلب ہے کی مارچ کے آخر میں نظام الدین مرکز سے یا کچھ دوسری جگہوں سے چار ہزار سے زیادہ جماعتی پھنسے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک ہزار سے زیادہ کورونا متاثرہ پائے گئے تھے، باقی لوگوں کو مختلف کوررنٹن سینٹر میں رکھا گیا تھا۔ ان تمام نے حضرت نظام الدین مرکزمیں منعقد مذہبی پروگرام’جوڑ‘ میں شرکت کی تھی۔

واضح رہے ایک بڑی تعداد میں تبلیغی جماعت سے جڑے لوگ لاک ڈاؤن کے اعلان کے وقت دہلی سے باہر تھے لیکن ان کو دہلی میں واپس لا کر کوارنٹائن مراکز میں رکھا گیا ہے اور ان کوارنٹائن مراکز میں رہتے ہوئے ایک ماہ سے زیادہ ہو گیا ہے لیکن ان کو ابھی تک واپس اپنے گھر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اس تعلق سے دہلی اقلیتی کمیشن کے چئیرمین ظفر الاسلام نے دہلی حکومت کو خط بھی لکھا تھا لیکن اس تعلق سے ابھی بھی کوئی واضح اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔ ستیندر جین کا اعلان ان تبلیغی جماعت کے لوگوں سے تعلق رکھتا ہے جن کو مرکز سے گرفتار کیا گیا تھااور ان کو کوارنٹائن مراکز بھیج دیا گیا تھا۔ اس میں حکومت کی جانب سے اس وضاحت کی ضرورت ہے کہ کیا اس اعلان کے بعد تبلیغی جماعت کے ان لوگوں کوبھی چھوڑدیا جائے گا جن کو لاک ڈاؤن کے بعد کوارنٹائن مراکز میں رکھا گیا ہے۔