پٹرول-ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے ساتھ ناانصافی: راہل گاندھی

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 10 اور 13 روپے فی لیٹر اضافہ کرنے کے حکومت کے فیصلے کو غیر منصفانہ اور ’آرتھک راشٹر دروہ‘ قرار دیتے ہوئے بدھ کو کہا کہ کورونا وائرس سے لڑ رہے ملک کے عوام کے مفاد میں یہ فیصلہ فوری طورپر واپس لیا جانا چاہیے۔
راہل گاندھی نے ٹوئٹ کیا کہ کورونا وائرس سے جاری لڑائی ہمارے کروڑوں بھائیوں اور بہنوں کے لئے سنگین اقتصادی مشکلا ت کی وجہ بن رہی ہے۔ اس وقت قیمتیں کم کرنے کے بجائے پٹرول اور ڈیزل پر 10-13روپے فی لیٹر ٹیکس بڑھانے کا حکومت کا فیصلہ نامناسب ہے اور اسے واپس لیا جانا چاہیے۔

بعد میں کانگریس کے محکمہ مواصلات کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’بین الاقوامی بازار میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ 130کروڑ اہل وطن کو دینے کے بجائے بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے کل رات کے اندھیر ے میں تقریباً 12 بجے ایک بار پھر پٹرول اور ڈیزل بالترتیب دس روپے اور 13روپے فی لیٹر کا فاضل ٹیکس لگا دیا۔

سرجے والانے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل پر بے رحمانہ طریقہ سے یہ ٹیکس لگاکر حکومت منافع خوری کر رہی ہے اور آفت کے اس وقت میں پٹرول۔ ڈیزل پر ٹیکس لگاکر اہل وطن کی سخت محنت کی کمائی کو لوٹ کر ’آرتھک راشٹر دروہ‘ کر رہی ہے۔ اس وبا کے سنگین بحران میں پوری دنیا کی حکومتیں عوام کی جیب میں پیسہ ڈال رہی ہیں لیکن بی جے پی حکومت اہل وطن سے منافع خوری اور جبراً وصولی کی ہر روز نئی مثال پیش کر رہی ہے۔

کانگریس ترجمان نے کہا کہ 14مارچ کو حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر تین روپے کا ٹیکس لگایا تھا اور اب پھر دس اور 13روپے بڑھا دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 14مارچ سے چار مئی کے درمیان 48 دن میں مودی حکومت نے ڈیزل پر 16روپے فی لیٹر اور پٹرول پر 13 روپے فی لیٹر ٹیکس لگایا۔ صرف اس ٹیکس سے مودی حکومت عوام کی جیب سے 1,40,000 کروڑ روپے کی سالانہ لوٹ کرے گی۔