حکومت کے دوکانیں کھولنے کے فیصلے کے خلاف شراب کاروباریوں نے عدالت میں دائرکی اپیل


بھوپال/جبل پور:5مئی( نیانظریہ بیورو)
ریاست میں شراب کی دکانوں کا معاملہ اب ہائی کورٹ تک پہنچ گیاہے۔ شراب ٹھیکیداروں نے دکانیں نہ کھولنے کاعہدکیاتھا ، جبکہ حکومت نے شراب کی دکانیں کھولنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ جس پر اب ٹھیکیداروں نے ہائی کورٹ سے رجوع کیاہے۔ ٹھیکیداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں شراب کی دکانیں کھول کر انہیں نقصان پہنچے گا۔ ہائی کورٹ نے شراب ٹھیکیداروں کی درخواست پر حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔شراب کی دکانیں گذشتہ 40 دنوں سے کھلی نہیں تھیں۔ اب حکومت نے شراب کی دکانوں کو کچھ مقامات پر 4 سے 5 گھنٹے کھولنے کی اجازت دی ہے ، یہ کہتے ہوئے کہ ریاست کو محصول کی کمی ہے۔ لیکن ٹھیکیداروں کا کہنا ہے کہ اگر وہ شراب کی دکان صرف چار سے پانچ گھنٹوں کے لئے کھولیں گے تو انھیں نقصان زیادہ ہوگا۔ پہلے حالات مختلف تھے لیکن لاک ڈاو¿ن کے بعد صورتحال پوری طرح سے تبدیل ہو گئی ہے۔
وہیںٹھیکیداروں کی جانب سے وکیل نے ہائی کورٹ سے مطالبہ کیا کہ لاک ڈاو¿ن سے قبل حالات مختلف تھے۔ لیکن گزشتہ 40 دنوں سے دکانیں بند ہیں اور اب صرف 4 سے 5 گھنٹے تک ہی دکانیں کھولنے کی اجازت ہے ۔ ایسے حالات میں جب تک لاک ڈاو¿ن مکمل طورپرنہیں کھل جاتا اس وقت تک شراب کی دکانیں نہیں کھولی جائیں۔دریں اثنا ٹھیکیداروں کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ہائیکورٹ نے اس معاملے میں حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔ پہلے حکومت نے شراب کی دکانیں بند کیں ، اب ٹھیکیدار خود ان کو بند کرنا چاہتے ہیں۔ اگر انسانیت کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو شراب کی دکانیں کھلنے سے تو نقصان ٹھیکیداروں سے زیادہ عوام کوہوگا،کیوں کہ کورونا وائرس کے پھیلاو¿ کی وجہ بنے گا۔جس کے سبب شراب ٹھیکیداروں نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر مطالبہ کیا گیا ہے کہ فی الحال شراب کی دکانیں نہ کھولی جائیں۔ ٹھیکیداروں کا مزیدکہنا ہے کہ لاک ڈاو¿ن میں شراب کی دکانیں کھول کر انہیں نقصان پہنچے گا۔