ظفر الاسلام پر مقدمہ منظم سازش کا حصہ: یوپی کانگریس

لکھنؤ دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئر مین و معروف دانشور ظفر الاسلام خان کے خلاف دہلی پولیس کی جانب سے مبینہ قابل اعتراض ٹوئٹ پرمقدمہ قائم کئے جانے کی اترپردیش کانگریس اقلیتی سیل نے مذمت کرتے ہوئے اسے ان کی حق گوئی کی پاداش میں انہیں ہراساں کرنے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔

اترپردیش کانگریس اقلیتی سیل کے چیئرمین شہنواز عالم نے یہاں جاری ایک بیا ن میں کہا کہ دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئر مین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کے خلاف مقدمہ،ان کے ذریعہ دہلی میں ہوئے فسادات میں پولیس کے مبینہ کردار کو اجاگر کرنے کے پاداش میں ہراسانی کی ایک سعی بھر ہے۔

شہنواز نے کہا کہ جس مبینہ ٹوئٹ کو دہلی پولیس نے قابل اعتراض اور ملک کی شبیہ خراب کرنے والا بتایا ہے وہ حقائق سے پرے ہے انہوں نے الزام لگایا کہ پوری دنیا میں آر ایس ایس کی اقلیتی مخالف فاششٹ نظریات نے ملک کی شبیہ کو زک پہنچایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف تو مودی حکومت خلیجی ممالک میں سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے والے ہندوستانیوں کو نفرت دے رہے ہیں کہ ایسا کرنا ہندوستان اقدارکے خلاف ہے تو وہیں ملک کے اندر ایسے پوسٹ پر سوال اٹھانے والے ڈاکٹر ظفرالاسلام خان جیسے دانشوروں پر فرضی مقدمے در کئے جارہے ہیں۔

شہنواز نے کسی بھی ملک میں اقلیتوں کی ہراسانی کو پوری انسانیت کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اسی طرح سے کسی بھی ملک کا اندرونی معاملہ نہیں ہوسکتا ہے جیسے جرمنی میں یہودیوں کاقتل عام جرمنی کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ پوری دنیا کا سوال تھا۔

انہوں نے مسلم رہنماؤں،طلبہ لیڈروں، دانشوروں کو ایک ایک کر کے جیل میں ڈالنے کی کاروائی کو منظم سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد مسلمانوں کو ہر شعبے میں قیادت سے عاری مسلمانوں کی حوصلہ شکنی کرنی ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس بی جے پی اور آر ایس ایس کے اس ملک مخالف منصوبے کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گی۔