لاک ڈاؤن ضابطوں کو نظر انداز کرنے سے بڑھ سکتے ہیں کورونا کے معاملے

نئی دہلی: لاک ڈاؤن کے دوران ملک کے کئی حصوں میں رعایت دی جا رہی ہے لیکن اس دوران اگر لوگوں نے سماجی فاصلہ برقرار رکھنے اور صحت کی ضروری دیکھ بھال کی ہدایات پر عمل نہیں کیا تو اب تک جو محنت کی گئی تھی اس کے نتائج بدل سکتے ہیں اور کورونا انفیکشن کے معاملات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

امریکہ میں یہی ہوا ہے اور لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں نے ضروری رہنما ہدایات پر عمل نہیں کیا جس کا نتیجہ وہاں کیسوں کی تعداد میں اضافہ کے طور پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ راجدھانی دہلی میں شراب کی دکانیں کھولنے کے بعد جس طرح کی بھیڑ نکلی اسے کنٹرول کرنے کے لئے پولیس فورسز کو خاصی محنت کرنی پڑی اور جس طرح سے دھکا مکی ہوئی تھی اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان میں اگر کورونا کے کچھ مشتبہ مریض ہوئے تو انہوں نے کتنے لوگوں کو متاثر کیا ہوگا۔

کئی رہنماؤں اور ڈاکٹروں نے حکومت کے اس فیصلے کی مذمت بھی کی ہے۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک طرف وزارت داخلہ عوامی مقامات پر تھوکنے پر لوگوں پر جرمانہ لگانے کا التزام کررہی ہے لیکن پان اور گٹکھے کی دکانوں کو کھولنے کی اجازت دے دی ہے تو لوگ سڑکوں پر پان اور گٹکھا کی پیک تھوکیں گے جس کے سبب انفیکشن میں اضافہ سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

مرکزی وزارت صحت نے واضح کیا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران جن علاقوں میں چھوٹ دی گئی ہے اگر وہاں لوگ سماجی فاصلے اور صحت دیکھ بھال کی رہنما ہدایات پر عمل نہیں کریں گے تو وہاں کوروناوائرس ’كووڈ -19‘ کے انفیکشن کے معاملوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور ایسے میں دوبارہ سے پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔

وزارت صحت کے ترجمان لو اگروال نے پیر کے روز پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ لاک ڈاؤن کے دوران ملک کے کئی حصوں میں رعایت دی جا رہی ہے لیکن اس دوران اگر لوگوں نے سماجی فاصلہ برقرار رکھنے اور صحت کی دیکھ بھال کی ضروری ہدایات پر عمل نہیں کیا تو اب تک جو محنت کی گئی تھی اس کے نتیجے بدل سکتے ہیں اور کورونا انفیکشن کے معاملوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ لہذا سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ کہیں بھی آتے جاتے وقت رہنما ہدایات پر عمل کریں اور اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے معاشرے اور قوم کے تئیں اپنا کردار ادا کریں۔