آر ڈی گارڈی پر مہر بان ہے ا نتظامیہ و حکومت اس لئے نہیں ہو رہی کارروائی :کانگریس لیڈر روی رائے

اُجین04مئی (نیا نظریہ بیورو) کورونا بحران میں ضلع انتظامیہ مکمل طور پر غیرفعالیت اور ناکامی کے طور پر جانا جائے گا۔ دنیا میں کوروناسے موت کا فیصد6.99 ہے، بھارت میں 3.33 فیصد اور مدھیہ پردیش میں 5.45 فیصد ایسے میں اُجین میں کوروناسے موت کا فیصد 20.38 فیصد ہے، جو خوفناک ہے۔ آر ڈی گارڈ ی کالج کی بدانتظامی سامنے آنے پر ، ہر
روز لوگوں کی جان جانے کے باوجود بی جے پی لیڈران کے تحفظ میں چلنے والے آرڈی گارڈی پر کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔مذکورہ الزام لگاتے ہوئے شہر کانگریس ایگزیکٹو صدر جناب روی رائے نے کہا کہ فوراً اُجین کے
سلسلے میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہو اور جائزہ لیا جائے کہ متاثرہ مریضوں کے ٹھیک ہونے کی تعداد محض 16 کیوںہے اور مرنے والوں کی تعداد 35 ہے۔ یہ اعداد و شمار پورے ہندوستان، پورے مدھیہ پردیش میں سب سے زیادہ ہیں۔ فی الحال آر ڈی گارڈی میڈیکل کالج کو بی جے پی لیڈروں کے تحفظ میں چلتا ہے حکومت کی جانب سے تمام قسم کی سہولیات مہیا کرائی جا رہی ہے ۔ اس کے بعد بھی وہاں کی بدانتظامی ، اسٹاف کی ورکنگ، ڈاکٹروں کی ورکنگ نہ کے برابر ہے۔ ایسی صورت میں کونسلر مظفر حسین، منوج چودھری جیسی فعال شخصیت بغیر علاج کے ہی دنیا چھوڑ کر چلے گئے۔ آر ڈی گارڈ ی میڈیکل کالج کی کون شخص مارکیٹنگ کر رہا ہے اور روزانہ بیمار افراد کا جائزہ کون لے رہا ہے واضح نہیں ہے۔ مسلسل آ رہے ویڈیو سے جوکہ آر ڈی گاڑی کالج کی بدانتظامی کی جانب اشارہ کر رہے ہیں اس پر بھی انتظامیہ کارروائی نہیں کرتے ہوئے اسی کے بھروسے شہر کے مریضوں کو بھیجا جا رہا ہے۔ جبکہ شہر میں متعدد اسپتال ہیں جن میں ہر طرح کی سہولیات دستیاب ہیں لیکن آر ڈی گارڈی میڈیکل کالج ہی سے ضلع انتظامیہ کے افسران کو محبت کیوں ہے۔ یہ سوچنے کا موضوع ہے۔ ساتھ ہی مہد پو ر روڈ پر واقع پولیس ٹریننگ سینٹر پر بھیجے گئے افراد کو بھی وہاں پر کوئی علاج نہیں ہوتا۔ مادھو نگر ہاسپٹل میں بھی جب تک جانچ رپورٹ نہ آ جا ئے کسی بھی قسم کی کوئی دوا نہیں دی جارہی ہے اور نہ ہی بلڈ پریشر، شوگر لیول اور دیگر قسم کی تحقیقات کی جارہی ہے۔ بد انتظامی کی وجہ سے اُجین شہر کے شہریوں میں خوف ہے۔ پرائیویٹ اسپتال کوئی کام نہیں کر رہا ہے۔ ہر شخص کو بھلے ہی کوئی دوسری بیماری ہو تو اسے مادھونگر ہاسپٹل بھیجا جاتا ہے اور وہاں سے آر ڈی گاڑی کالج بھیجا جاتا ہے ایسی صورت میں دیگر بیماریوں کا علاج نہیں ہونے پر شخص گھبراہٹ میں ہی مر سکتا ہے۔ حکومت ہند اور مدھیہ پردیش حکومت دونوں کو ہی اُجین شہر کے ضلع انتظامیہ اور میڈیکل انتظامات کرنے والے عملہ کے سلسلے میں کام کرنا چاہئے۔ مذکورہ مطالبہ کانگریس لیڈر جناب روی رائے اور ریاستی سیکرٹری سید مقصود علی کی جانب سے کیا گیاہے۔ ساتھ ہی مطالبہ کیا گیا کہ شہر میں ہوئی اموات کی جواب دہی طے ہو۔