پانچ ممالک کی خفیہ ایجنسیوں نے چین پر لگایا خطرناک الزام، نہیں چاہتا کورونا کا خاتمہ!

ایک طرف امریکہ سمیت کچھ دیگر ممالک بار بار چین پر یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ کورونا وائرس لیباریٹری میں تیار کیا گیا، اور اب ایسی خبریں آ رہی ہیں کہ چین کورونا کا خاتمہ نہیں چاہتا اس لیے ویکسین تیار کیے جانے کی کوششوں میں بار بار رخنہ اندازی کر رہا ہے۔ دراصل کورونا انفیکشن سے دنیا بھر میں تباہی مچانے کے بعد سے ہی چین پر کئی طرح کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس چین کی لیباریٹری میں ہی ایک ہتھیار کی شکل میں بنایا گیا اور بعد میں ایک غلطی کی وجہ سے باہر نکل گیا۔ اب امریکہ، برطانیہ، کناڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی خفیہ ایجنسیوں سے جڑے جاسوسوں نے دعویٰ کیا ہے کہ چین لگاتار کورونا کے ویکسین بنانے میں رخنہ پیدا کر رہا ہے۔

اس تعلق سے ‘دی سن’ میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ، برطانیہ، کناڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی خفیہ ایجنسیوں نے مل کر ایک 15 صفحہ کا ڈوزیر تیار کیا ہے۔ اس ڈوزیر کے مطابق چین نہیں چاہتا کہ دنیا کو جلد سے جلد کورونا وائرس کی ویکسین مل سکے۔ اس سلسلے میں اس نے لگاتار کئی ممالک اور آزاد سائنسی اداروں کو بھی کورونا کے لائیو سیمپل دینے سے انکار کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ اس نے کسی بھی سائنسداں کو گراؤنڈ زیرو پر جانے یا پھر کیس زیرو سے ملنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اسی ڈوزیر کی بنیاد پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ لگاتار چین پر حملہ آور ہیں۔

ڈوزیر میں کئی ایسی باتیں لکھی گئی ہیں جو چین پر سوالیہ نشان کھڑے کرتے ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ چین لگاتار اس بات سے انکار کرتا رہا ہے کہ کورونا انفیکشن انسانوں سے انسانوں میں پھیل رہا ہے، جب کہ اس بات کے پختہ ثبوت ملے ہیں کہ اسے اس بات کا بہت پہلے سے پتہ تھا۔ چین نے اس بات کا اعتراف کرنے میں ہفتوں لگا دیئے جس سے یورپ اور امریکہ میں کورونا انفیکشن نے زبردست تباہی مچا دی۔ علاوہ ازیں چین میں جس بھی ڈاکٹرس یا پھر صحافی نے کورونا وائرس اور اس کے خطرات کے بارے میں جانکاری دینا چاہی، وہ حیرت انگیز طریقے سے غائب ہو گئے۔

ڈوزیر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس بات کے پختہ ثبوت ملے ہیں کہ وہان کی ایک لیباریٹری میں چمگادڑوں میں پائے جانے والے مضر وائرس پر ریسرچ جاری تھی۔ اس لیب میں ریسرچ کے دوران کسی بھی طرح کے پروٹیکشن کا استعمال نہیں کیا جا رہا تھا۔ اس کی تصویریں سامنے آئیں جسے چین نے مٹا دیا۔ چین نے نہ صرف اس لیباریٹری میں موجود پورے ایک حصے کو ختم کر دیا بلکہ اس میں کام کر رہے لوگوں کو بھی غائب کر دیا۔

پانچوں ممالک کے خفیہ ایجنسیوں سے جڑے جاسوسوں کا کہنا ہے کہ چین لگاتار دنیا بھر کے سائنسدانوں کو کورونا وائرس کے لائیو سیمپل بھیجنے سے انکار کر رہا ہے جس سے ویکسین بنانے کی رفتار بہت دھیمی ہو گئی ہے۔ ڈوزیر میں اس بات پر بھی حیرانی ظاہر کی گئی کہ چین نے انفیکشن کے شروعاتی دنوں میں اپنے ملک میں سختی سے سفری پابندی نافذ کی لیکن دیگر ممالک سے کہا کہ یہ صرف احتیاطاً ہے، سب کو ایسا کرنے کی ضرورت نہیں۔