لوگوں کی حفاظت میں مسلسل مستعد ہیں ڈی آئی جی ارشاد ولی اور کلکٹرترون پتھوڑے

کار بن گئی گھر،شہر بنا خاندان:

بھوپال:4مئی(نیانظریہ بیورو)
گذشتہ سال نومبر کے مہینے میں منعقد عالمی تبلیغی اجتماع کا دور شروع ہونے سے بہت پہلے تیاریوں میں مصروف ڈی آئی جی ارشاد ولی اور کلکٹر ترون پتھوڑے لمبے عرصے کے بعد ہمیشہ سرگرمی کے ساتھ ڈیوٹی پر تعینات دکھائی دے رہے ہیں۔ گذشتہ کچھ مہینوں میں الگ الگ ڈیوٹی کے دوران وہ سکون کے کچھ پل گذارنے گھر چلے بھی جاتے تھے،لیکن کورونا وائرس کی شہرمیں آمد نے انہیں اپنے گھروں سے بھی بےگانہ کر دیا ہے۔ ڈی آئی جی ارشاد ولی اور کلکٹر ترون پتھوڑے شہرکی صحت کے لئے اپنے آرام کو قربان کر بیٹھے ہیں۔ حالات پرسرگرمی سے نگرانی رکھنے کے لئے دونوں افسر مسلسل شہر میں دکھائی دے رہے ہیں۔ مہاماری کو لے کر خود کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لئے انہوں نے اپنی کار کو آشیانہ بنا لیا ہے۔ اپنے فیملی سے دور رہنا وہ اس شکل میں قبول کرتے ہیں کہ یہ سارا شہر ہی ہماری فیملی ہے۔ اس کی صحت یابی کو مہیا کرنا ہمارے لئے پہلی ترجیح ہے۔ انفیکشن کے پھیلے جال اور دن رات ان خطرات کے بیچ رہنے کی وجہ سے دونوں افسران نے اپنوں کو کسی خطرے سے دور رکھنے کے لئے ہی خود کو فیملی سے الگ کررکھا ہے۔ گھر کی طرف کب رخ ہوگا کے سوال پر ولی اور پتھوڑے کہتے ہیں کہ جب شہر صحت سے مالا مال ہوجائے گا۔ اس کے بعد وہ سکون سے گھر واپسی کریںگے۔
ملتے گئے ایک کے بعد ایک ٹاسک:
مندر،مسجد معاملے کو لے کر آنے والے فیصلے کے وقت بنے تذبذب کے حالات کے دور میں ڈی آئی جی ارشاد ولی اور کلکٹر ترون پتھوڑے نے شہر کے امن کو بحال رکھنے کے لئے مورچہ سنبھالا ۔ حالات سازگار ہونے کے چند دنوں بعد ہی شہر میں دنیا کے تیسرے سب سے بڑی مذہبی سالانہ عالمی تبلیغی اجتماع کی تیاریوں کا دور شروع ہوگیا۔ لمبی مشقت اور دن رات کی محنت سے اس کامیاب اجتماع کو گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ اور لمکا بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کرانے میں اہم کردار انہوں نے ادا کی۔ان کی اس کوشش میں میونسپل کارپوریشن کمشنر بی وجے کمار دتتا بھی شامل تھے اور ڈویژنل کمشنر کلپنا شریواستو کی مدد بھی انہیں حاصل تھی۔ اس بڑے اجتماع سے فارغ ہوتے ہوتے قانون میں ترمیم کو لے کر شروع احتجاجات ،مظاہرے،ریلیاں ، جلوس ،پروگرامس اور ستیہ گرہ کا دور شروع ہوگیا۔ اس چیلینج بھرے کام کو بھی ڈی آئی جی ارشاد ولی اور کلکٹر ترون پتھوڑے نے بخوبی ادا کیا۔ ان حالات سے گذرنے کے دوران ہی کورونا وائرس کی آمد ہوگئی اور دونوں افسران پورے جوش اور جذبہ کے ساتھ نئے ٹاسک پر مصروف ہوگئے ہیں۔ تقریباً دو مہینے سے مسلسل ڈیوٹی کے بعد بھی ان کی سرگرمی اور دلچسپی میں کوئی کمی دکھائی نہیںدے رہی ہے۔