لوگ کہتے ہیں علماء کرام کا سیاست سے کیا تعلق ہے

از: حفظ الرحمن ندوی

یہ ایسا جملہ ہے جو بار بار سننے میں آتا ہے ،ذہن ودماغ سے ٹکراتا،کچوکے لگاتا ایک درد وچبھن دیکر گزر جاتا ہے۔ لیکن درد وچبھن اور ٹیس اس وقت کم ہوتی ہے

جب یہ جملہ جاہل وانپڑھ لوگوں سے سنا جاتاہے

کیونکہ جاہل طبقہ اپنی سادہ لوحی اور قلت معلومات کے سبب علماء کرام کو سیاست سے دور دیکھنا پسند کرتا ہے۔

اس لئے کہ وہ اپنی کم علمی کےسبب نماز وروزہ ہی تک دین داری کو منحصر رکھتا ہے۔ اور موجودہ گندی وجھوٹی سیاست اور جھوٹےو مکار سیاستدانوں کو دیکھ کر سیاست کوایک برا و بے دینی کا عمل اور علماء کی شان کے خلاف تصور کرتا ہے۔

لیکن۔۔۔۔۔۔۔لیکن

حیراں ہوں دل کو رووں، کہ پیٹوں جگر کو میں جب یہ جملہ پڑھے لکھے ، تعلیم یافتہ حضرات اور ان میں بھی علماء حضرات کی زبان سے سننے کو ملتا ہے تو جگر چھلنی ہوجاتا ہے ، آنکھیں خشک ہو کر دل کو خون کے آنسو رونے پر مجبور کردیتی ہیں اور ان علماء حضرات کی خدمت میں جو صرف روزہ ونماز، تصوف وسلوک کو دین سمجھتے ہیں۔ جوصرف قیل وقال اور صرف ونحو کی کھتیاں سلجھانے ہی تک شریعت کو منحصر کرنا چاہتے ہیں

جو صرف ہر طرز کہن پر اڑے رہنے کی تلقین کرتے ہیں اور ہرآئین نو کو قوموں کے لئے زہر ہلاہل گردانتے ہیں۔

یہ عرض کرنے پر مجبور ہوجاتاہوں کہ ۔۔۔۔۔۔۔

خدارا خدارا بہت ۔۔۔۔۔۔۔ہوچکا ۔۔ہوش کے ناخن لیں

ہم نے اپنی ماوں، بہنوں کی عصمتیں تار تار ہوتے ہوئے بہت دیکھ لیں ہم نے اپنی قوم کے نونہالوں کی زندگیوں کو بے بنیاد مقدمات میں پھنس کر برباد ہوتے بہت دیکھ لیا۔ ہماری قوم نے اپنے حقوق کے لئے غیروں کی دربانی اور ان کی چوکھٹ پر اپنی جبین بہت خم کر لی بس ۔۔۔۔۔۔۔۔کیجیے

امت مسلمہ پررحم کیجئے اور اپنی بے جا تاویلات کے ذریعہ انہیں مذید مشکلات میں مت ڈالئے ۔

ورنہ مستقبل کا مورخ آپ کو تاریخ کے صفحات میں ابو الفصل وفیضی کا کردار نبھانے والا لکھے گا۔ اخیر میں عالم اسلام کے مشہور ومعروف مورخ وفقیہ ،فلسفی و سیاست داں ابن خلدون اور تصوف وسلوک کے امام اور اسلامی فلاسفر امام غزالی رحمہااللہ کا سیاست سے متعلق قول اور کچھ اپنی ذاتی آراء ان حضرات کی خدمت میں ادباً عرض کرتا ہوں جو دور حاضر کی پلید اور خواہش پرستی پر مبنی سیاست اور سیاستدانوں کو دیکھ اور پڑھ کر سیاست ہی کو برا اور گندہ عمل تصور کرتے ہیں۔

ابن خلدون رح ۔۔۔ سیاست کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں سیاست اور سلطنت مخلوق کی نگہبانی اور ان کے مفادات کی کفالت اور ضمانت کا کام ہے جو اللہ پاک کی نیابت ہے۔

امام غزالی رحمہ اللہ لکھتے ہیں سیاست وہ تدابیر ہے جو زندگی کے وسائل اور ان کے دائرہ میں معاشرے کے افراد کےدرمیان باہمی محبت، تعاون، اور اتحاد پیدا کرے۔

ان دونوں تعریفوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سیاست ایک ایسا خوبصورت اور بہترین انسانی زندگی اور حفاظت عالم کے اصول طے کرنے والا عمل ہے جسکے ہرمفہوم کے اندر فلاح وصلاح کے بہترین معنی پنہاں ہیں۔

لہذا ہمیں سب سے پہلے موجودہ گندی وپلید اور مکر و فریب پر مبنی سیاست کا تصور اپنے ذہن ودماغ سے نکالنا ہوگا جس کی بنیاد جھوٹ، وعدہ خلافی، الزام تراشی، دھوکہ بازی، خود غرضی اور حکومت سازی کیلئے چال بازی ودھوکہ دہی پررکھی گئی ہے جس کے سبب آج ہم نے سیاست ہی کو گندہ اور گھناؤنا عمل سمجھ لیا ہے اور اس سے متعلق افراد کو برا سمجھنے لگے ہیں ۔

ہمیں سیاست کے صحیح لغوی واصطلاحی، کاسلامی وقرآنی معنی ومفہوم کا مطالعہ اور اسلامی فلاسفرو سیاستدانوں کی زندگیوں کا جائزہ لینا ہوگا تاکہ ہم سیاست کے صحیح مفہوم ومطلب سے واقف ہوں اور ہمیں اس کی اہمیت و ضرورت کا اندازہ ہو سکے جسکے سبب ہم میدان سیاست میں قدم رکھیں اور ہر جھوٹ کو سچ،ہر نفرت کو محبت سے کچل کر ایک بار پھر انسانیت کی مرجھائی ہوئی کھیتی کو دوبارہ لہلہانے کا موقع دیں۔