ہریانہ: اجے چوٹالہ کی پیرول منسوخ کرنے کے لئے مرکزی وزیر داخلہ سے شکایت

سرسا: کورونا وبا کے سبب نافذ لاک ڈاؤن کے دوران ہریانہ کے نائب وزیر اعلیٰ دشینت چوٹالہ کے والد اور جن نائک جنتا پارٹی (جے جے پی) کے بانی اجے چوٹالہ کے ذریعہ ایک تقریب میں شرومنی گرودوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی ٹی) کے ذریعہ غریبوں کو معاشی مدد دینے کے مقصد سے بھیجے گئے چیک تقسیم کرنے پر، بار ایسوسی ایشن سرسا کے سابق صدر اور پنجابی لیڈر گررتنپال سنگھ کنگرا نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

گررتنپال سنگھ کنگرا نے اجے چوٹالہ کی پیرول منسوخ کرنے کے لئے مرکزی وزیرداخلہ، سی بی آئی ڈائریکٹر، تہاڑ جیل کے ڈائریکٹر، ہریانہ کے وزیر اعلیٰ و داخلہ اور ایس جی پی سی صدر کو خط لکھا ہے۔قابل ذکر ہے کہ جی بی ٹی اساتذہ کی بھرتی گھپلے میں قصوروار قرار اجے چوٹالہ دہلی تہاڑ جیل میں قید کی سزا کاٹ رہے ہیں اور اس وقت پیرول پر اپنے گھر آئے ہوئے ہیں۔

گررتنپال سنگھ کنگرا نے آج یہاں میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ ایس جی پی سی کے ذریعہ غریبوں کی مدد کی غرض سے بھیجے گئے چیک ایک سزا یافتہ قیدی کے ذریعہ تقسیم کرنا سراسر سِکھوں کے وقار کی توہین ہے۔ ایس جی پی سی غریبوں اور کینسر متاثرہ کی معاشی مدد کرتی رہی ہے۔ جبکہ اجے چوٹالہ نے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لئے ایس جی پی سی کے ممبران سے مل کر ایسا انتظام کیا جو قابل مذمت ہے اور کس انتظامی افسر نے اس کی اجازت دی اس کی جانچ ہونی چاہیے۔

انہوں نے جے جے پی لیڈر کو سزا سے پیرول اپنے گھر پر رہنے کے لئے ملی ہے نہ کہ سیاست کرنے کے لئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سیاسی مفاد کے حصول کے لئے اجے چوٹالہ سرسا اور فتح آباد اضلاع میں گاؤں گاؤں گھوم کر مبینہ طور پر اپنی پارٹی کے رنگ کے بنے ماسک اور سینیٹائزر تقسیم کرنے کی آڑ میں عوامی رابطہ مہم چھیڑے ہوئے ہیں۔ اس دوران ہریانہ پولیس کے کمانڈو بھی ان کی حفاظت میں رہتے ہیں آخر کس افسر نے اجے چوٹالہ کو دورہ کرنے کا پاس اور کمانڈو مہیا کرائے ہیں اس کی بھی جانچ ہونی چاہیے۔