جمعیة علماءہندکی ایم پی یونٹ نے اشتعال انگیز اورنفرت پھیلانے والے افرادسے دوری بنانے کی اپیل کی

ہرمذہب کے لوگ اپنے تہوارکوسادگی سے منائیں:حاجی محمدہارون

بھوپال:2مئی(نیانظریہ بیورو)
جمعیة علماءمدھیہ پردیش کے ریاستی صدر حاجی محمد ہارون نے رمضان المبارک اورکورونا کی مہاماری کے سلسلے میں صحافیوں سے گفتگو کی ۔اس دوران انہوں نے کہا کہ میں پوری ذمہ داری کے ساتھ کہتا ہوں کہ پوری دنیا کے لئے یہ سال ” غم کا سال“ ہے ۔اس وقت پوری دنیامیںمعیشت کا براحال ہے۔تمام کاروبار بند ہےں ،روز مرہ کی زندگی مفلوج ہے ۔اس میں سب سے زیادہ مزدور طبقہ کے لوگ پریشان ہیں ۔تمام لوگ بے روزگار بیٹھے ہیں ۔اس وقت عالم یہ ہے کہ اگرکسی کے پاس کچھ پیسے یاخوردنی اشیاءہیں ،تواتنے دنوں میں وہ تقریباختم ہوچکے ہیں۔ایسے وقت میں تمام لوگوں کوچاہئیے کہ وہ ایک دوسرے کی مددکریں۔دریں اثناغریبوں، پڑوسیوں اور ضرورت مندوں کا خیال رکھنا چاہئے ،انہوں نے کہا کہ اس وقت جو تنظیمیں کام کررہی ہیں ، حکومت کو ان کی مدد کرنی چاہئے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے بہت سے مزدور بھائی دوسری ریاستوں میں پھنسے ہیں ، ان کا کام کاج بند ہے ،حکومت اس پر توجہ دے ،ساتھ ہی سماجی تنظیمیںایسے لوگوں کی مددکے لئے آگے آئیں۔ضروت مندوں کی مددکرنااس وقت ہم سب کی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ حاجی صاحب نے تمام برادران وطن سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے لئے غم کا سال ہے ،اسی لئے جو لوگ پریشان حال ہیں ان کی مدد کریں ، اور اپنے اخراجات میں کمی کرکے دوسروں کی ضرورت کو پورا کریں۔موجودہ وقت میں کچھ لوگوں کی طرف سے یہ اپیل کی جارہی ہے کہ ابھی جو حکومت مارکیٹ کھولنے جارہی ہے کوئی بھی مسلم بھائی اس میں خریداری نہ کریں،یہ غلط ہے۔ آپ خریداری کرسکتے ہیں۔لیکن ہمارا ماننا ہے کہ اس وقت جہاں لوگ بہت زیادہ روزی روٹی سے پریشان ہیں ۔ایسے وقت میں ہم کپڑوں کی خریداری کریں یہ اچھی بات نہیں ہے۔کیوں کہ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دوسروں کی مددکریں۔غرباءاورضرورت مندوں کوسامان پہنچائیں۔بہرحال فضول خرچی سے ہم سب کوبچنے کی سخت ضرورت ہے۔ سادگی کے ساتھ زندگی گذاریں۔حاجی صاحب نے زوردیکرکہا کہ اگرپوراسال ہی فضول خریداری سے بچاجائے توزیادہ بہترہے۔جب تک حالا معمول پرنہ آجائے،اس وقت تک غیرضروری اشیاءکی خریداری نہیں ہونی چاہئے۔وہیں پیسہ اگربچے گاتو آپ کے ہی کام آئے گااورضرورت مندوں کی کچھ حدتک مددہوسکے گی۔