سوشل میڈیا پر فرقہ پرستی کا زہر


گزشتہ سال کی تصویر کو امسال کا بتا کر لوگوں کو ورغلانے کی کوشش
اُجین یکم مئی (نیا نظریہ بیورو) سوشل میڈیا کے ذریعہ جہاں لوگ اپنی بات آسانی سے دوسروں تک پہنچا رہے ہیں تو دوسری جانب اس کے غلط استعمال معاشرے میں بگاڑ پیدا کر رہا ہے۔ تازہ ترین معاملہ ایک پوسٹ کاہے راکیش بھارگو نام کی آئی ڈی سے یہ پوسٹ کیا گیا تھا جس میں ایک رات کی تصویر ہے جو ڈرون کیمرے سے لی گئی تھی ۔ اس تصویر کے ساتھ اس آئی ڈی یوزر نے لکھا تھا کہ یہ تصویر کل رات 02.30 بجے توپ خانہ کی ہے۔ جہاں سے کورونا مریض ملے ہیں، لیکن لگتا ہے کہ تہوار ان کا ہی ہے اور ہمارے تہوار نہیں ہیں۔ اب یہ کورونا بم کہا کہا پھٹے گا پتہ نہیں۔ انتظامیہ ان کے آگے نتمستک ہے، اب اگر ہم اپنے گھروں میں بیٹھے تو کیا فائدہ کتنے دن بچ سکیں گے شاید ہم نہیں جانتے۔ اس پوسٹ کے بعد پولیس انتظامیہ کی جانب سے توپ خانہ علاقہ کی کل رات کی سی سی ٹی وی فوٹو جاری کی اور بتایا کہ یہاں مکمل طور پر لاک ڈا¶ن پر عمل کیا جارہا ہے۔ اس کے بعد راکیش بھارکو فیس بک آئی ڈی سے اس پوسٹ کو ہٹا دیا گیا اور ساتھ ہی غلط پوسٹ کے لئے اس نے معافی مانگی۔ قابلِ ذکر ہے کہ اس آئی ڈی کا جو یوزر ہے وہ خود ایک تعلیم یافتہ شخص اور پیشہ سے ایڈوکیٹ ہے، اس کے بعد بھی وہ اسطرح کی غلط معلومات بغیر کسی تصدیق کے سوشل میڈیا پر پوسٹ کر رہے ہیں اندازا لگایا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا کا یہ فرقہ وارانہ زہر ہمارے معاشرے میں کس قدر پہنچ گیا ہے۔ دیکھنا ہو گا پولیس انتظامیہ یہ آئی ٹی سیل اس شخص پر کیا کارروائی کرتا ہے۔