تبلیغی جماعت کے لوگوں نے انسانیت کی مثال کی پیش


کورونا سے جنگ کیلئے پلازما عطیہ کر تاریخ کی رقم
دیواس یکم مئی (نیا نظریہ بیورو) جیسا کہ پوری دنیا جانتی ہے ، کورونا کی ابتدا قدرتی نہیں ہے بلکہ انسانی دماغ کا فتور ہے اس فتور میں چین کا سب سے بڑا ہاتھ ہے۔چین نے پوری دنیا کی معاشی حالت کو کمزور کرتے ہوئے سوچ سمجھ کر حکمت عملی کے تحت پراکسی وار کی حالت پیدا کی ہے ۔ انہوں نے بالادستی قائم کرنے کی نیت سے یہ کام کیا۔ کورونا کی آمد 30 جنوری کو کیرالہ کے راستے ہندوستان میں ہوئی تھی۔ 14 فروری کو ، ہم نے دنیا کے طاقتور ترین ملک ، امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا پرزور خیرمقدم کیا اور ان کے استقبال کے لئے گجرات میں لاکھوں افراد جمع ہوئے۔ اس دوران مدھیہ پردیش میں چالوں کے دم پر کانگریس حکومت کو گرا دیا گیا۔ مدھیہ پردیش میں 23 مارچ کو بی جے پی حکومت کی حلف برداری کی تقریب بھی منعقد ہوئی تھی ۔ اس کے علاوہ ہندوستان کی کئی دوسری ریاستوں میں بھی سیاسی کھیل کھیلے جارہے تھے اور ہجوم بھی جمع تھے ، تب تک مرکزی حکومت کورونا کے بارے میں زیادہ فکر مندنہیں تھی۔ دہلی کا نظام الدین تبلیغی مرکز پولیس اسٹیشن سے چند قدم کے فاصلے پر واقع ہے ۔اس تبلیغی جماعت کے مرکزمیں گزشتہ کئی سالوں سے ، بیرون ملک سے لوگ تشریف لاتے ہیں جس کی اطلاع پولیس کو روزانہ مرکز آفس سے ملتی ہے۔ دوسری بات یہاں ہونے والی سرگرمیوں اور مذہبی پروگرام پر نظر رکھنے کے لئے دہلی پولیس کی جانب سے بھی ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر ایک ہیڈ کانسٹیبل اور کچھ اور پولیس اہلکاروں کی تعیناتی بھی مسلسل رہتی ہے جو وقت وقت پر جماعت کی جانب یہاں ہونے والی سرگرمیوں کی محکمہ پولیس اور انٹلیجنس ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ عہدیداروں کو دیتے ہیں۔ یہاں آنے والے غیر ملکی اس سے پہلے بھی کئی سالوں سے اسی طرح آرہے ہیں ، ایسی صورتحال میں پولیس محکمہ اور ملک کے انٹلیجنس سسٹم سے سوال اٹھانا معقول ہے ، حکومت اور ان محکموں نے اس سے قبل مرکز میں منعقدہ مذہبی پروگراموں پر کیوں نہیں اعتراض کیا۔ جبکہ پولیس لمحہ لمحہ کی خبر جانتی ہے پولیس اس سے
قبل ایکشن موڈ میں کیوں نہیں آ سکی سمجھ سے بالاتر ہے ۔ 21 مارچ کو ، ملک کے وزیر اعظم ٹی وی پر آتے ہیں اور اچانک اعلان کرتے ہیں کہ آج رات 12 بجے سے پورے ہندوستان میں کرفیو نافذ کیا جارہا ہے اور جہاں جو ہے وہیں رہے گا ۔ جس وقت یہ اعلان کیا جارہا تھا ، 13 ممالک کے غیر ملکیوں سمیت تقریباً ڈھائی ہزار افراد مرکز میں موجود تھے ، مرکز کے منتظمین نے جلدی سے انتظامات کیے اور 1000 جماعتیوں کو ان کے گھر وں کوبھیجا لیکن لاکھ کوششوں کے باوجود بھی 15 سو آدمیوں کے جانے کا انتظام حکومت کی جانب سے نہیں کیا گیا جو وہیں پھنسے رہ گئے ، اس میں ان کی کوئی غلطی نہیں تھی جبکہ آپ 19 مارچ کو ہی کو روناکو لے کر آگاہ ہو گئے تھے تبھی آپ کہہ سکتے ہیں کہ جو بھی وہاں ہے وہ 3 دنوں کے اندر اپنے گھروں کو چلا جائے اور ان غیر ملکی مذہبی لوگوں کی روانگی کا پختہ انتظام کیا ہوتا ، تو شاید ہندوستان میں کورونا اتنا دائرہ نہیں بڑھاتااور حکومت پر انگلی بھی نہیں اٹھتی ، مگر کچھ لوگوں کے دماغ میں تو کچھ اور ہی چل رہا تھا انہیں صرف شہ اور مات کا کھیل نظر آ رہا تھا اس کا خمیازہ بے وقت موت لوگوں کو اپنی جان دے بھگتنا پڑا۔ اگر غیر ملکیوں کی جو مسلسل ہندستان میں آرہے تھے اگر ا ن کی جانچ ہوائی اڈے پر ہو جاتی تو شاید آج کورونا کا جو قہر ہے شاید ہی ہو تا ۔ لیکن یہاں تک کہ یہاں صرف تھرمل اسکیننگ کر لی گئی ۔ بہت سے لوگ اس سے اسکیننگ سے گزر کر ہمارے ملک میں داخل ہوگئے۔ یہاں پہنچنے کے بعد ، ان غیر ملکیوں اور ہندوستانیوں نے بہت سے بڑے پروگراموں میں پہنچ کر اپنی موجودگی درج کرائی اور ہزاروں افراد کے اشتراک سے اس وائرس کو پھیلانے کا بہترین موقع فراہم کیا۔ ہندوستان میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ کچھ صحافیوں نے کورونا کو تبلیغی جماعت سے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے ایک حصے کے طور پر منسلک کیا ہے ، جبکہ اس کی ذمہ دار تمام وجوہات کو نقطہ وار ظاہر کیا گیا ہے لیکن صرف دونوں معاشروں کے مابین تفرقہ پھیلانے اور ان کی ٹی آر پی میں اضافہ کرنے کے چکر میں انہوں نے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کو تار تار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور یہ آگ شہروں سے چلتے ہوئے آخر کارگا¶ں تک پہنچ گئی جبکہ ڈبلیو ایچ او نے اپنی انتباہ میں صاف صاف کہا ہے کہ کورونا کو مذہب سے جوڑنا ٹھیک نہیں مذہب سے جوڑنا یعنی آگ سے کھیلنے کے مماثل ہے اور اس کی تلافی بہت سے عام شہری شہریوں اور قصبوں میں رہنے والے ایک خاص مذہب کے مٹھی بھر لوگوں کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ یہاں بھی حکومت نے خاموشی اختیار کی اور اس آتش فکر کے کچھ صحافیوں نے یہ آگ پورے ملک میں پھیلادی۔ اگر حکومت نے بروقت مشور ے جاری کرکے ایسے صحافیوں اور نیوز چینلز پر پابندی عائد کرنے کی بات کی ہوتی تو آج ہندوستا
ن میں دونوں برادریوں کے مابین جو اعتماد میں کمی آئی ہے وہ شاید نہیں ہوتی ۔ مرکزی دھارے میں شامل میڈیا سے وابستہ کچھ صحافیوں نے مذہب کے نام پر اعدادوشمار پیش کرکے ہندوستان میں ایک نئے تنازعہ کو جنم دیا ہے ، افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت بھی اس کھیل میں شامل ہوگئی اور مذہبی طور پر کورونا کی تفصیلات میں جماعت کے لو گوں کے اعداد و شمار پیش کئے ۔ جو المناک بھی تھا اور قابل مذمت بھی ، اگر سرکاری محکمہ بچوں ،بزرگوں ، خواتین کے طور پر اعداد و شمار پیش کرتا ہے تو سمجھ آتا ہے مگر حکومت ہی ان اعداد و شمار کو مذہبی آئینے سے سے دیکھتے ہوئے تفصیلات دی اور ایک مذہب خاص کو بدنام کرنے کی کوشش کر ے تو اس نیت پر سوال اٹھنا لا زمی ہے۔ حکومت کی جانب سے جماعت کے لوگوں کے کورونا کے اعداد و شمار الگ سے دینے اور کورونا میں مبتلا مریضوں کی تعداد کو جماعت کے ساتھ جوڑنا اس کے ارادے کو ظاہر کرتا ہے ۔کیا یہ مناسب ہوگا کہ حکومت ہندو مسلمانوں کے ذریعہ کورونا سے ہونے والی اموات اور کورونا میں مبتلا مریضوں کی تعداد پر غور کرے۔ ہندو ،مسلم، سکھ، عیسا ئی کے ساتھ جوڑ کر دیکھیں ۔ لیکن حکومت یہاں نہیں رک سکی ، اپنی نظروں کے سامنے ، مرکزی دھارے میں شامل میڈیا سے وابستہ بہت سارے صحافیوں نے مذہب کی بنیاد پر اعداد و شمار پیش کیے اور حکومت آگ میں گھی ڈالنے کے لئے خاموشی سے کام کرتی رہی ، جس کی وجہ سے ملک میں بسنے والے مختلف مذاہب کے لوگوں میں آپسی اعتماد میں کمی ہوئی ہے۔ جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں۔ آج ، سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ، بہت سے کورونا سے متاثرہ مریض جو جماعت سے وابستہ تھے صحت یاب ہونے کے بعد اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں اور بیشتر جماعتی لوگ اپنے خون کا آخری قطرہ دے کر اس ملک کی خدمت کے جذبے کو ظاہر کرکے ان کے انسانی مذہب کی پیروی کرتے ہیں ۔ اسی کے ساتھ ہی ، تقریباً300-400 تبلیغی جماعت کے لوگوں نے اپنا پلازما عطیہ کرکے ایک تاریخ رقم کی اور بہت سے لوگوں نے اپنے ارادے کا اظہار کیا اور اپنے پیاروں کو پہنچنے والے نقصان کو دور کرنے کی کوشش کی۔ اسی کے ساتھ ہی انہوں نے حکومت کو بھی امید کی نگاہوں سے ان کی جانب دیکھنے پر مجبور کیا۔ ان کورونا جنگجو¶ں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا اور وہ جانیں بچانے میں سرفہرست ر ہیں گے ۔ اس طرح ، جن کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ آخر کار انہوں نے ہندوستان میں کورونا کو پھیلادیا ہے ، وہ کورونا کے جنگجو ثابت ہو رہے ہیں۔