یہ لڑائی اگرمسلمانوں کی ہوتی تو گوپی ناتھن استعفیٰ نہیں دیتے:ملک محتسم


اقبال میدان میں متنازعہ قانون کےخلاف تمام مذاہب کے رہنماو¿ں کااعلان،قانون واپس ہونے تک پیچھے نہیں ہٹیں گے
بھوپال:3مارچ(نیانظریہ بیورو)راجدھانی کے تاریخی اقبال میدان میں گزشتہ روز سی اے اے ،این آرسی اوراین پی آرکے خلاف جماعت اسلامی مدھیہ پردیش اور الائنس اگیسٹ کے زیراہتمام بڑااجلاس منعقد ہوا۔جس میں جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری ملک محتسم نے شرکت کی۔اس کے علاوہ الائنس اگینسٹ سی اے اے اوراین پی آر سمیت این آرسی کے آرگنائزرمعروف ایڈووکیٹ روی نائر ،مشہورسماجی کارکن سوامی اگنیویش اورشاہین باغ میں لنگرکااہتمام کرنے والے ایڈووکیٹ ڈی ایس بندرا اورمعروف نوجوان لیڈر عمرخالد نے شرکت کی۔پروگرام کی صدارت فرمارہے جماعت اسلامی کے سکریٹری ملک محتسم نے کہا کہ یہ لڑائی صرف مسلمانوں کی لڑائی نہیں ہے۔بلکہ یہاں کے تمام باشندوں کی لڑائی ہے۔ تمام مذاہب کے رہنما آج اس اسٹیج پراس متنازعہ قانون کے خلاف آواز اٹھارہے ہیں۔ اگریہ لڑائی صرف مسلمانوں کی ہوتی تو کیرالہ کے آئی ایس آفیسرگوپی ناتھن اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہوکر جگہ جگہ جاکر لوگوں سی اے اے اوراین آرسی سمیت این پی آر کے خطرناکی اورتباہی سے واقف نہیں کراتے۔یہ پروگرام تقریباً سات بجے سے شروع ہوکر رات 12بجے تک جاری رہا۔جس میں شہرکے ہزاروںمرد وخواتین نے اپنی موجودگی درج کرائی۔
آپ لوگ فرقوں میں بنٹے ہیں یہ وقت اتحاد کاہے:ڈی ایس بندرا
پروگرام میں ڈی ایس بندرا نے کہا کہ آج اللہ تعالی نے آپ کواصل کام پرلگادیا ہے۔ اس سے قبل آپ شیعہ ،سنی،بریلوی ،وہابی،دیوبندی کے نام پرفرقوں میں بنٹے تھے۔آج آپ یہاں سب ایک ساتھ کاندھے سے کاندھے ملا کربیٹھے ہیں۔ میں آپ سے کہناچاہتاہوں کہ آج یہاں کیوں نہیں آپ نے اس اجلاس میں خیموں کوفرقوں میں بانٹ دیا ہے۔ بانٹ دیجے اسے کیوں ایک ساتھ بیٹھے ہیں۔اگرنہیں بانٹ سکتے تو پھرمسجدوں میں کیوں ایسا کرتے ہیں کہ ہم اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھیں گے تودوسرا کہتا ہے کہ ہم اس کے پیچھے نہیں جائیں گے۔اس کے نتیجے میں اللہ نے ایسے حالات پیداکئے ہیں سب ایک ساتھ آگئے ہیں۔ اللہ کے سدھارنے کاطریقہ مختلف ہوتا ہے ۔آپ اگرآج بھی نہیں سدھریں گے اوراپنی اصلاح کرتے ہوئے اصل میں جوکام ہے وہ نہیں کریں گے توآپ کوکوئی نہیں سدھارسکتا ۔ آپ سے گزارش ہے کہ آپ اپنے گھروں پرروزانہ پانچ غیرمسلموں مشمول سکھوں کوچائے کی دعوت دیجئے ،آج ہم نے آگے بڑھ آپ سے دوستی کاہاتھ ملایاہے،آپ بھی دوستی کاثبوت پیش کرتے ہوئے دوستی کی طاقت کومضبوط کیجیے۔کیوں کہ اس ملک میں دوہی قومیں ہیں جن کی عورتیں شیروں کوپیداکرتی ہیں اوروہ ہیں ایک مسلم اورسکھ۔تواپنی شیرنیوں کی قربانی جوشاہین باغ میں ہم سب کی لڑائی لڑرہی ہیںان کاحوصلہ یہاں غیرمسلموں سے دوستی بڑھاکرپیش کیجئے۔
مسلمانوں کے کردارنے اللہ کورب المسلمین بنادیاہے: سوامی اگنیویش
وہیں سوامی اگنیویشن نے ایک حدیث کاحوالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا اللہ کی مخلوق ہے۔ اللہ نے اپنے آپ کورب العالمین کہا ہے ۔لیکن مسلمانوں کے کردار سے ایسا لگتا ہے کہ وہ رب المسلمین ہوکر رہ گیا ہے۔ اسی طرح محمد کورحمت اللعالمین کہاگیا ہے۔ لیکن مسلمانوں نے اسے بھی رحمت المسلمین بنادیا ہے۔انہیں رحمت اللعالمین ہی رہنے دیں۔
ہم اپنی تحریک کوسول نافرمانی تک لےکر جائیں گے:ایڈووکیٹ روی نائر
سی اے اے ،این پی آر اوراین آرسی کی تحریک کومزید آگے بڑھانے کے سلسلے میں کہا کہ ہم آگے بڑھتے رہیں چاہے وزیرداخلہ پیچھے ہٹیں یانہ ہٹیں۔ ہم اپنی تحریک کو آگے بڑھا کرگاندھی جی کی راستے پرچلتے ہوئے سول نافرمانی تک لےکر جائیں گے۔ سول نافرمانی کئی مثالین بھی پیش کیں۔ میراریاستی حکومت سے مطالبہ ہے کہ اگرآپ این آرسی کے خلاف ہیں تو پھر آج ریاست کے مختلف مقامات این پی آر کے عمل شروع ہونے کی خبرکیوں آرہی ہے۔ریاستی حکومت اپنی منشاواضح کرے ۔ساتھ ہی میں عوام سے کہنا چاہتاہوں کہ اگر این پی آر کرنے کے لئے سرکاری ملازمین آئیں تو انہیں عزت کے ساتھ چائے پانی سے خدمت کررخصت کردیں اوران سے کہیں کہ ہم آپ کوکوئی بھی معلومات فراہم نہیں کرسکتے۔یہ ہمارا آئینی حق ہے۔
گمراہ حزب مخالف نہیں بلکہ مرکزی حکومت کررہی ہے:عمرخالد
نوجوان معروف لیڈرعمرخالد نے کہا کہ آج بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ملک میں کسی کے خلاف کوئی الزام عائد کیاجاتا ہے تو اس کا سب سے پہلے میڈیا ٹرائل شروع ہوجاتاہے۔ آج پورے دن میڈیا نے میرے خلاف پروپیگنڈہ کیا ہے۔ لیکن آج میں پھرآپ سے بتادیناچاہتاہوں کہ ہم حق کی خاطر گاندھی جی کے عدم تشددکے راستے کواختیارکرتے ہوئے اپنی جان بھی قربان کردیں گے۔ لیکن ملک کے بے قصورعوام پر ظلم نہیں ہونے دیں گے۔وزیرداخلہ امیت شاہ کے شہریت دینے والے بیان پرطنزکرتے ہوئے کہا کہ وہ جگہ جگہ جاکرکہتے ہیں کہ یہ قانون شہریت دینے والا ہے لینے والانہیں۔لیکن میں وزیرداخلہ سے پوچھنا چاہتاہوں کہ کیا اس سے قبل ہمارے ملک میں شہریت دینے کاکوئی قانو ن نہیں تھا؟توآج پھرکون سی ضرورت آن پڑی ہے کہ مذہب کی بنیاد پرشہریت دینے کی بات کررہے ہیں۔ جواس ملک کے سیکولرزم اورجمہوری اقدارکے خلاف ہے۔مودی جی اورامت شاہ ہرجگہ پہنچ کرکہتے ہیں کہ مسلمانوں کوڈرنے کی ضرورت نہیں ہے،مسلمانوں کوحذب مخالف گمراہ کررہی ہے اورڈرارہی ہے۔اس سے کسی مسلمان کی شہریت پرکوئی آنچ نہیں آئے گی۔تومیں ان دونوں سے پوچھنا چاہتاہوں کہ آسام میں 19لاکھ لوگ بے گھرہوئے ہیں جس میں پانچ لاکھ مسلمان ہیں۔وزیرداخلہ کیوں نہیں کہہ دیتے کہ ہم آسام کے کسی مسلمان کوملک سے باہرنہیں کریں گے۔گمراہ حزب مخالف نہیں بلکہ مرکزی حکومت کررہی ہے۔