دہلی فساد میں پولیس کی کارگردگی مشکوک:دگ وجئے سنگھ

دہلی فساد میں پولیس کی کارگردگی مشکوک:دگ وجئے سنگھ
بھوپال :2مارچ(نیانظریہ بیورو) مدھیہ پردیش کے سابق وزیراعلیٰ دگ وجئے سنگھ نے ایک بار پھر سی اے اے کےخلاف بیان دیاہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریت میں ترمیمی قانون کی ملک کو کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ قانون مذاہب کو تقسیم کرنے کے لئے لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ خود سی اے اے ، این پی آر اور این آر سی کوجوڑکردیکھ رہے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے جس سے لوگوں میں عدم اعتماد کی صورتحال پیدا کردی ہے۔ایسے کسی قانون کی ملک کوکوئی ضرورت نہیں ہے۔دگ وجئے سنگھ نے کہا ہے کہ این پی آر اور این آر سی کو آپس میں جوڑا جارہا ہے۔ سی اے اے پہلے ہی اس سے وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ غیر بی جے پی حکمران ریاستوں کے وزیراعلیٰ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ 2010 کے فارمیٹ کو اپنانے کی بات کریں۔
تشدد کے راستے پر چلنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے:وہیںدہلی تشدد پر دگ وجئے سنگھ نے کہاکسی بھی مذہب کے کسی فرد کو اشتعال انگیز تقریریں نہیں کرنی چاہئے۔ جولوگ تشدد کی راہ اپنائیں۔ان پرسخت سے سخت کارروائی ہونی چاہئے۔دگ وجئے سنگھ نے دہلی پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ، پولیس تشدد کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ دگ وجے سنگھ نے مزیدکہا کہ جس امید کے ساتھ دہلی حکومت منتخب ہوئی تھی ، حکومت اس میں مکمل ناکام ثابت ہوئی ہے۔ دگ وجے سنگھ نے کہا کہ جن افراد کومالی یاجانی نقصان پہنچا ہے دہلی حکومت کوچاہئے کہ ان کی فوری مدد کرے۔