دوسری پاری کی امید: کمل ناتھ نے گوالیار اورچمبل علاقے میں لگائی اپنی پوری طاقت


بھوپال /گوالیار:یکم مئی(نیانظریہ بیورو)
جیوتی رادتیہ سندھیا کے ساتھ گئے 22ایم ایل اے کی وجہ سے اقتدار کی کنجی کھونے والی کانگریس ضمنی انتخابات کے راستے پھر اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ اس کا اہم فوکس گوالیار ،چمبل ڈویژنل کی 16سیٹیں ہیں۔ کانگریس ان سیٹوں پر ایسے امیدوار تلاش رہی ہے۔ جو پچھلی مرتبہ کانگریس کی سیٹ پر جیت کر گئے باغی امیدواروں کو کڑی ٹکر دے سکیں اور اس کے لئے سابق وزیرگووند سنگھ کے ساتھ غوروخوض کیا جارہا ہے۔ جیوتی رادتیہ سندھیاکے بی جے پی میں جانے کے بعد علاقے میں سب سے بڑا نام سینئر ایم ایل اے سابق وزیر ڈاکٹر گووندسنگھ کھل کر سامنے آئے ہیں۔ کبھی علاقے میں کانگریس کی سیاست سندھیا کے ارد گرد گھومتی تھی جس کی کنجی اب دگوجے حامی ڈاکٹر گووند سنگھ کے پاس ہے اور اس میں ان کا ساتھ دے رہے ہیں سینئر ایم ایل اے کے پی سنگھ اور اپیکس بینک کے سابق چیئرمین اشوک سنگھ ۔ ریاست کی بی جے پی حکومت اس وقت کورونا مہاماری میں مصروف ہے ،لیکن کانگریس جیت حاصل کرنے والے قابل امیدوار کی تلاش میں مصروف ہے۔ گذشتہ دنوں دہلی کے دورے کے دوران سابق وزیراعلیٰ کمل ناتھ نے فون کرکے ڈاکٹر گووند سنگھ کو بروز سنیچر بھوپال بلایا۔ ذرائع کے مطابق گووند سنگھ بروز سنیچر بھوپال پہنچے وہ پہلے دگوجے سنگھ سے ملے یہاں انہوں نے ممکنہ امیدواروں کے نام پر گفتگو کی پھر وہ کمل ناتھ سے ملے۔ سابق وزیراعلیٰ نے گووندسنگھ سے ایسے امیدوارکے نام بتانے کے لئے کہا جو گذشتہ میں گانگریس کی سیٹ سے جیت کر آئے امیدواروں کوہرا سکےں۔ یہاں دونوں کے درمیان گوالیار،چمبل کے امیدواروں کے ناموں پر گفتگو ہوئی ۔ دراصل کمل ناتھ چاہتے ہیں کہ علاقے کی تمام 22سیٹوں پر کانگریس کا ہی قبضہ ہو اور باغیوں کو سبق ملے۔