یہ یومِ مزدور نہیں، یومِ مجبور ہے… مرنال پانڈے

دہلی سے حیدر آباد تک لاک ڈاؤن کے درمیان سر پر گٹھری-مٹھری رکھے ہوئے گھر واپسی کو بے چین بھوکے پیاسے مہاجر مزدوروں اور شہروں کی گندی بستیوں میں بدحواس بیٹھے راتوں رات بے روزگار بن گئے لاکھوں دہاڑی مزدوروں کو دیکھ کر 2020 کے اِس یومِ مزدور کو یومِ مجبور کہنے کو دل کر رہا ہے۔

حکومت کے اپنے 10-2009 کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تقریباً 50 کروڑ مزدور ہیں۔ ان میں سے صرف 10 فیصد منظم سیکٹر میں کام کرتے ہیں۔ بقیہ غیر منظم سیکٹر سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان کی صحیح تعداد اور کام و آمدنی کی بابت صحیح اعداد و شمار حکومت کے پاس بھی ٹھیک طرح سے نہیں ملیں گے۔ ایسا اس لیے کیونکہ ان میں سے 24.6 کروڑ گاؤں کے زراعتی سیکٹر میں موسم کے مطابق دہاڑی پر کام کرتے ہیں، 4.4 کروڑ شہری تعمیراتی کام سے جڑے ہیں۔

علاوہ ازیں ایک بڑی تعداد میں وہ شہروں میں سروس سیکٹر میں نچلے درجہ کا کام کر کے کماتے کھاتے ہیں۔ تقریباً 3 کروڑ گھمنتو مزدور ہیں جو سب سے کمزور ہیں۔ کیونکہ ایک بار زراعت کے موسمی کام بوائی، نرائی، کٹائی نمٹ گئے تب وہ جب جس ریاست میں کام مل جائے وہاں جانے کو مجبور ہیں۔ نہ ان کے پاس اپنی چھت ہوتی ہے، نہ غیر ریاست کا راشن کارڈ یا کوئی صحت تحفظ بیمہ۔

اس کے باوجود غیر منظم سیکٹر کے ان لوگوں کا ملک کی جی ڈی پی میں نصف تعاون ہے۔ ہمارے دہلی، ممبئی، کولکاتا، چنئی اور بنگلورو یا حیدر آباد جیسے میٹرو پولیٹن سٹی کے محل ور عظیم عمارتیں، فیکٹریاں اور رہائشی کالونیاں انہی کے بوتے بنیں اور اب بھی ان کی سستی خدمات کی طاقت پر چلتی ہیں۔ یہی حال ہمارے تھوک اور خوردہ بازاروں، منڈیوں اور سیاحتی مقامات کا ہے، جہاں سارے مال کی ڈھلائی، اترائی، صفائی اور سستے کھانے کی سپلائی ان کے ہی ٹھیلوں و ڈھابوں کے سہارے چلتی ہے۔

آج کورونا کے درمیان کہیں محلوں میں پابندی لگاتے، کہیں بستیوں کو دھیرے دھیرے کھولتے ہوئے، مہاجر مزدوروں کے کھانے پینے، کوارنٹائن کیمپوں اور گھر واپسی کا انتظام کرتے ہوئے ان نظر نہ آنے والے مزدوروں کی اہمیت سب کو پتہ چل رہی ہے، ساتھ ہی یہ تلخ حقیقت بھی کہ ان کو ملک کی کل آمدنی میں 50 فیصد دیتے ہوئے بھی کس قدر غیر انسانی سلوک، کم ادائیگی اور سماجی بے رخی کے درمیان زندگی گزارنی پڑتی ہے۔

مزدوروں کے تحفظ کے لیے ملک میں 1947 سے اب تک کئی قوانین بنے ہیں۔ لیکن وہ کم و بیش منظم سیکٹر کے 4 سے 5 فیصد مزدوروں کو ہی فائدہ دیتے ہیں جن کے اپنے یونین اور کامگار ادارے ہیں، جو ان کی کھل کر نمائندگی کرتے ہیں۔ ان ناتجربہ کار غیر منظم مزدوروں کی خبر تبھی لی جاتی ہے جب الیکشن آتے ہیں۔

فکر کی بات ہے کہ جیسے جیسے مشین کاری ہو رہی ہے اور نئی تکنیک سامنے آ رہی ہے، ویسے ویسے منظم سیکٹر میں بھی چھنٹنی بڑھ رہی ہے اور ہنرمند مزدوروں کے ذریعہ غیر منظم سیکٹر میں جگہ جگہ بڑی کمائی کے کام لیے جا رہے ہیں۔ نتیجتاً ناتجربہ کار مزدرووں، خاص کر خواتین کو پہلے سے کم مزدوری پر کام کرنا پڑ رہا ہے۔ رہی سہی کسر کورونا وائرس کے حملے اور لازمی لاک ڈاؤن نے پورا کر دی ہے۔

امید کی جانی چاہیے کہ وبا کے دوران ملک کے پروڈکشن سسٹم میں ہندوستانی مزدوروں کی مرکزی اہمیت کے ساتھ ان کی نجی زندگی اور صحت کی بابت حکومت اور سماج کی جو شرمناک عدم توجہی اور بدحالی ظاہر ہوئی ہے، وہ آنے والے وقت میں ہم سب کو ان کے بارے میں گہرائی سے سوچنے اور ضروری قدم اٹھانے کو مجبور کرے گی۔ ملک کی ترقی کا مدار مزدور خوشحال ہوگا تبھی ملک خوشحال ہو سکے گا، ورنہ یہ ہمارے سارے جگمگ محل، چوبارے، صنعتی پروڈکشن سیکٹر اور کھیتی سے بنکری تک سارے سیکٹر دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔