کانگریس ممبران کو حکومت گرانے کےلئے 30 کروڑ کی پیش کش : دگ وجے سنگھ

کانگریس ممبران کو حکومت گرانے کےلئے 30 کروڑ کی پیش کش : دگ وجے سنگھ
بھوپال :2مارچ(نیانظریہ بیورو) ریاست کی سیاست میں سابق وزیراعلیٰ دگ وجئے سنگھ کے ایک بیان سے سیاسی گلیاروں میںخوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ دگ وجئےسنگھ نے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی کے کچھ لیڈر ان 25 سے 30 کروڑ روپے کے لالچ دیکر کانگریس کے ایم ایل اےز کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دگ وجے سنگھ نے کہا کہ بی جے پی لیڈران کہہ رہے ہیں کہ ابھی 5 کروڑ لے لو دوسری قسط راجیہ سبھا اور تیسری قسط حکومت گرانے کے بعد مل جائے گی۔ لیکن میں انھیں متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ ، یہ کرناٹک نہیں ہے۔ مدھیہ پردیش میں کانگریس کا ایک بھی ایم ایل اے فروخت نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ایک طرف تحقیقاتی ایجنسی منتخب لوگوں پر چھاپے مار رہی ہے ، وہیں سی بی آئی ، ای ڈی ، آئی ٹی کانگریس کی حکومتیں بھی کروڑوں روپے تقسیم کرنے کا وعدہ کرتی ہیں۔ بی جے پی کیوں اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رہی ہے۔
شیو راج اور نروتم میں جگل بندی چل رہی ہے:دگ وجئے سنگھ نے مزید کہا کہ وہ حقائق کے بغیر کبھی بھی کسی پر الزامات عائد نہیں کرتے ہیں۔ شیو راج سنگھ اور نروتم مشرا کے درمیان پہلے سی ایم عہدے کے بارے میں جھگڑا ہوا تھا۔ لیکن اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ دونوں ، ایک سی ایم اور دوسرا ڈپٹی سی ایم کے عہدے پرقابض ہونگے۔ اگرچہ یہ مونگیری لال کے خواب کی طرح ہے۔ یہ سب مل کر کانگریس کے ایم ایل اےز کو بلا رہے ہیں ، جس کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ دگ وجئے سنگھ نے کہا کہ بی جے پی لیڈران کو عداوتوں سے باز آنا چاہئے۔ ہم پانچ سال تک حزب اختلاف میں رہے اور پھر جب ہم میدان میں آئیں گے تب ہم دیکھیں گے۔ دگ وجے سنگھ نے کہا کہ 8 سے 10 ایم ایل اےز کو پیش کش کی گئی ہے ۔لیکن ہمارے ایم ایل اےز نے ہمیں اس بارے میں آگاہ کیا ہے۔