عوام بے جاگھروں سے نہ نکلیں، حکومتی احکامات پرکریںعمل :قاضی مشتاق علی

رمضان المبارک:

بھوپال :30اپریل(نیانظریہ بیورو)
لاک ڈاو¿ن کوچالیس دن مکمل ہونے والے ہیں،پر لوگوں کا صبر اب ٹوٹنے لگاہے۔ اپنی ضروریات کے لئے سڑکوں پرنکلنا ،بھیڑ لگانا ، معاشرتی فاصلہ توڑنا اور لاک ڈاو¿ن کے اصولوں کے خلاف جانا جیسے حالات نظرآنے لگے ہیں۔ بگڑتی صورتحال سے جہاں علمائے کرام حیرت زدہ ہیںوہیں عوامی نمائندہ بھی پریشان ہےں۔ پورے شہر سے اپیلوں کی آوازیں آرہی ہیں کہ لوگ گھروں میں رہیں،باہرنہ نکلیں، تاکہ لاک ڈاو¿ن سے بہتر نتائج مل سکے۔
قاضیِ شہر سید مشتاق علی ندوی اور شہر مفتی ابوالکلام قاسمی نے شہر کی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ لاک ڈاو¿ن کی مکمل پیروی کریں اور محکمہ صحت اور سرکاری عملے کو ان کے کام میں مدد کریں۔ قاضی اور مفتی صاحبان نے کہا کہ رمضان کا مہینہ صبر اور سکون کا ہے ، گھروں میں ٹھہریں اور دعائیں اور نمازاداکریں۔قاضی صاحب نے لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری کام کے لئے گھرسے باہر نہ نکلیں اور بازاروں میں ہجوم نہ لگائیں۔ جس سے معاشرتی فاصلے کا تصور خراب ہو اور وائرس کے پھیلنے کے حالات پیدا ہوجائیں۔ قاضی مشتاق علی ندوی نے کہا کہ جس طرح رمضان کا مہینہ سادگی سے گزر رہا ہے اسی طرح عید کو بھی سادگی کے ساتھ منانا ضروری ہے لہذا بازاروں میں جاکر سامان خریدنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ عید سادگی سے منائیںاور بچے ہوئے پیسے سے ضرورت مند لوگوں کی مددکریں، غریب مسکین اورمحتاجوں تک سامانپہنچانے کی کوشش کریں ، تاکہ کوئی شخص بھوکا نہ سوئے۔ انہوں نے یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ ابھی بیماری کی حالت بہتر نہیں ہونے والی ہے اور کچھ وقت اسی طرح گزرنے والا ہے لہذا لوگوں کو اسراف سے بچنا چاہئے اور آنے والے دنوں میں اپنے اور کنبے کے لئے کچھ بچانا چاہئے ، تاکہ کل کو کسی بھی قسم کی پریشانی سے نمٹنے کے لئے دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی نوبت نہیں آئے۔یہ وقت کی ضرورت ہے۔ شہر قاضی نے لوگوں سے کہا کہ ماہ رمضان میںزکوٰة کے پیسے مستحقین تک پہنچائیں۔