پنجاب میں لاک ڈاؤن 17 مئی تک بڑھانے کا اعلان، روزانہ کچھ گھنٹے کی چھوٹ

پنجاب:ہندوستان میں کورونا وائرس کے معاملے لگاتار بڑھ رہے ہیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے بھی لگاتار کوششیں ہو رہی ہیں کہ اس وائرس کو زیادہ پھیلنے سے روکا جائے۔ ریاستی حکومت بھی اپنی سطح پر ہر ممکن کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ ملک بھر میں فی الحال 3 مئی تک کے لیے لاک ڈاؤن ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ اس لاک ڈاؤن کو ابھی مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔
اس درمیان پنجاب حکومت نے کسی بھی طرح کا خطرہ مول نہ لیتے ہوئے مرکزی حکومت کے کسی بھی فیصلہ سے پہلے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ وزیر اعلیٰ کیپٹن امرندر سنگھ نے بدھ کو ریاست میں نافذ کرفیو اور لاک ڈاؤن کو بڑھائے جانے کا اعلان کیا ہے۔ حالانکہ اس درمیان لاک ڈاؤن میں کچھ مقامات پر تھوڑی ڈھیل دی جائے گی۔ ایک ویڈیو کانفرنس میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن میں پنجاب کے شہریوں کو روزانہ صبح 7 سے 11 بجے تک چھوٹ دی جا رہی ہے۔ اس دوران لوگ اپنے گھروں سے باہر آ سکتے ہیں اور دکانیں کھلی ہوں گی۔
کیپٹن امرندر سنگھ نے مزید کہا کہ ہم نے ریاست میں کرفیو کو دو مزید ہفتوں تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کہا کہ دو ہفتہ بعد حالات کا جائزہ لیا جائے گا اور وبا کے کنٹرول میں رہنے کی صورت میں مزید ڈھیل دی جائے گی۔ انھوں نے آگے کہا کہ آج کرفیو میں ڈھیل دینے کا فیصلہ ان لوگوں کی مشکلوں کو دھیان میں رکھ کر لیا گیا ہے جو گزشتہ 38 دنوں سے سخت پابندی کا سامنا کر رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ امرندر سنگھ کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ میں زیادہ تر اراکین اسمبلی نے مشورہ دیا ہے کہ اگر لاک ڈاؤن یا کرفیو مزید بڑھایا جاتا ہے تو ہر گھر میں راشن پہنچانے کا انتظام ہونا چاہیے۔ راشن کے پیکٹ دینے میں نیلے کارڈ ہولڈر یا دیگر کوئی کیٹگری کی جگہ ڈور-ٹو-ڈور تقسیم کا سسٹم بنے گا تو سبھی کو راحت ملے گی۔