منقسم رہ کر ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا، راہل گاندھی سے خاص بات چیت میں رگھو رام راجن کا اظہار خیال

کورونا وائرس نے پہلے سے بدحال ہندوستان کی معیشت کو کتنا نقصان پہنچایا ہے اور اس سے باہر نکلنے کا کیا روڈ میپ ہونا چاہیے؟ ساتھ ہی ملک کے غریبوں کو موجودہ بحران سے باہر نکالنے کے لیے کتنے پیسے کی ضرورت ہے؟ آخر وہ کون سے مسائل ہیں جن پر فوراً توجہ دینے کی ضرورت ہے؟ انہی سب ایشوز پر کانگریس کے سابق صدر اور رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے مشہور و معروف ماہر معیشت اور آر بی آئی کے سابق گورنر ڈاکٹر رگھو رام راجن کے ساتھ طویل گفتگو کی۔ پڑھیے اس بات چیت کے اہم اقتباسات…

راہل گاندھی: کورونا وائرس کے دور میں لوگوں کے ذہن میں بہت سارے سوال ہیں کہ کیا ہو رہا ہے، کیا ہونے والا ہے، خاص طور سے معیشت کو لے کر۔ میں نے ان سوالوں کے جواب کے لیے ایک دلچسپ طریقہ سوچا ہے کہ آپ سے اس بارے میں بات کی جائے تاکہ مجھے بھی اور عام لوگوں کو بھی معلوم ہو سکے کہ آپ اس سب پر کیا سوچتے ہیں۔
رگھو رام راجن: مجھ سے اس ایشو پر بات کرنے کے لیے شکریہ۔ میرا ماننا ہے کہ اس اہم وقت میں اس ایشو پر جتنی بھی جانکاری مل سکتی ہے، لینی چاہیے اور جتنا ممکن ہو اسے لوگوں تک پہنچانا چاہیے۔
راہل گاندھی: مجھے اس وقت ایک بڑا ایشو جو لگتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم معیشت کو کس طرح کھولیں؟ وہ معیشت کے کون سے حصے ہیں جو آپ کو لگتا ہے کہ کھولنا بہت ضروری ہے، اور کیا طریقہ ہونا چاہیے انھیں کھولنے کا؟
رگھو رام راجن: یہ ایک اہم سوال ہے کیونکہ جیسے جیسے ہم انفیکشن پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اسپتالوں و میڈیکل سہولیات میں بھیڑ بڑھنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہمیں لوگوں کی معمولات زندگی پھر سے شروع کرنے کے بارے میں سوچنا شروع کرنا ہوگا۔ طویل مدت کے لیے لاک ڈاؤن لگا دینا بہت آسان ہے، لیکن ظاہر ہے کہ یہ معیشت کے لیے اچھا نہیں ہے۔
آپ کے پاس ایک یقینی سیکورٹی نہیں ہے۔ لیکن آپ ان شعبوں کو کھولنا شروع کر سکتے ہیں جن میں کم معاملے ہیں، اس سوچ اور پالیسی کے ساتھ کہ آپ جتنا ممکن ہو سکے اثرانداز طریقے سے لوگوں کی اسکریننگ کریں گے اور جب کیس سامنے آ جائے تو آپ اسے روکنے کی کوشش کریں گے اور یقینی بنائیں گے کہ اسے روکنے کے سارے انتظام ہیں۔
اس میں ایک سیکوئنس ہونا چاہیے۔ سب سے پہلے ایسی جگہیں نشان زد کرنی ہوں گی جہاں دوری بنائی رکھی جا سکتی ہو، اور یہ صرف کام کی جگہ یا دفتر پر ہی نہیں نافذ ہو، بلکہ کام کے لیے آتے جاتے وقت بھی نافذ ہو۔ ٹرانسپورٹ اسٹرکچر کو دیکھنا ہوگا۔ کیا لوگوں کے پاس پرائیویٹ گاڑیاں ہیں۔ ان کے پاس سائیکل یا اسکوٹر ہیں یا کار ہیں۔ یا پھر لوگ پبلک ٹرانسپورٹ سے آتے ہیں کام پر۔ آپ پبلک ٹرانسپورٹ میں ڈسٹنسنگ کیسے یقینی کریں گے۔
اس طرح کے انتظامات میں بہت محنت کرنی پڑے گی۔ ساتھ ہی یہ بھی یقینی کرنا ہوگا کہ ورک پلیس ایک محفوظ جگہ ہو۔ اس کے ساتھ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کہیں کوئی تازہ معاملے تو سامنے نہیں آ رہے، تو ہم بغیر تیسرے یا چوتھے لاک ڈاؤن کو نافذ کیے کتنی تیزی سے لوگوں کو آئسولیٹ کر سکتے ہیں۔
راہل گاندھی: بہت سے لوگ ایسا کہتے ہیں کہ اگر ہم سلسلہ وار طریقے سے لاک ڈاؤن ختم کریں، یا اگر ہم ابھی کھول دیں اور پھر دوبارہ لاک ڈاؤن کے لیے مجبور ہوں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو معیشت کے لیے بہت نقصان دہ ہوگا کیونکہ اس سے بھروسہ پوری طرح ختم ہو جائے گا۔ کیا آپ اس سے متفق ہیں؟
رگھو رام راجن: ہاں، مجھے لگتا ہے کہ یہ سوچنا درست ہے۔ دوسرے ہی لاک ڈاؤن کی بات کریں تو اس کا مطلب یہی ہے کہ پہلی بار میں ہم پوری طرح کامیاب نہیں ہوئے۔ اسی سے سوال اٹھتا ہے کہ اگر اس بار کھول دیا تو کہیں تیسرے لاک ڈاؤن کی ضرورت نہ پڑ جائے اور اس سے بھروسے پر آنچ آئے گی۔
راہل گاندھی: لیکن اس پورے معاملے میں یہ جاننا بے حد ضروری ہوگا کہ کہاں زیادہ انفیکشن ہے۔ اور اس کے لیے ٹیسٹنگ ہی واحد ذریعہ ہے۔ اس وقت ہندوستان میں یہ سوچ ہے کہ ہماری ٹیسٹنگ صلاحیت محدود ہے۔ ایک بڑے ملک میں امریکہ اور یوروپ ممالک کے مقابلے ہماری ٹیسٹنگ صلاحیت محدود ہے۔ کم تعداد میں ٹیسٹ ہونے کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟
رگھو رام راجن: امریکہ کی مثال لیں۔ وہاں ایک دن میں ڈیڑھ لاکھ تک ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔ لیکن وہاں ماہرین، خصوصاً انفیکشن والے امراض کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس صلاحیت کو تین گنا کرنے کی ضرورت ہے، یعنی 5 لاکھ ٹیسٹ روزانہ ہوں تبھی آپ معیشت کو کھولنے کے بارے میں سوچیں۔ کچھ تو 10 لاکھ تک ٹیسٹ کرنے کی بات کر رہے ہیں۔
ہندوستان کی آبادی کو دیکھتے ہوئے ہمیں اس کے چار گنا ٹیسٹ کرنے چاہئیں۔ اگر آپ کو امریکہ کی سطح پر پہنچنا ہے تو ہمیں 20 لاکھ ٹیسٹ روزانہ کرنے ہوں گے۔ لیکن ہم ابھی صرف 25 سے 30 ہزار ٹیسٹ ہی کر پا رہے ہیں۔
راہل گاندھی: دیکھیے، ابھی تو وائرس کا اثر ہے اور کچھ وقت بعد لوگوں پر معیشت کا اثر پڑے گا۔ یہ ایسا جھٹکا ہوگا جو آنے والے دو ایک مہینے میں لگنے والا ہے۔ آپ اگلے تین چار مہینے میں وائرس سے لڑائی اور اس کے اثرات کے درمیان کیسے توازن بنا سکتے ہیں؟
رگھو رام راجن: آپ کو ابھی ان دونوں پر سوچنا ہوگا۔ آپ اثر سامنے آنے کا انتظار نہیں کر سکتے۔ کیونکہ آپ ایک طرف وائرس سے لڑ رہے ہیں، دوسری طرف پورا ملک لاک ڈاؤن میں ہے۔ یقینی طور سے لوگوں کو کھانا مہیا کرانا ہے۔ گھروں کو نکل چکے مہاجروں کی حالت دیکھنی ہے، انھیں شیلٹر چاہیے، میڈیکل سہولیات چاہئیں۔ یہ سب ایک ساتھ کرنے کی ضرورت ہے۔
مجھے لگتا ہے اس میں ترجیحات طے کرنی ہوں گی۔ ہماری صلاحیت اور وسائل دونوں محدود ہیں۔ ہمارے مالی وسائل مغرب کے مقابلے بہت محدود ہیں۔ ہمیں کرنا یہ ہے کہ ہم طے کریں کہ وائرس سے لڑائی اور معیشت دونوں کو ایک ساتھ کیسے سنبھالیں۔ اگر ابھی ہم کھول دیتے ہیں تو یہ ایسا ہی ہوگا کہ بیماری سے بستر سے اٹھ کر آ گئے ہیں۔
سب سے پہلے تو لوگوں کو صحت اور زندہ رکھنا ہے۔ کھانا اس کے لیے بہت ہی اہم ہے۔ ایسے مقامات ہیں جہاں پی ڈی ایس پہنچا ہی نہیں۔ امرتیہ سین، ابھجیت بنرجی اور میں نے اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے غیر مستقل راشن کارڈ کی بات کی تھی۔ لیکن آپ کو اس وبا کو ایک غیر معمولی حالات کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ کس چیز کی ضرورت ہے، اس کے لیے ہمیں معمول سے ہٹ کر سوچنا ہوگا۔ سبھی بجٹ حدود کو دھیان میں رکھتے ہوئے فیصلے کرنے ہوں گے۔ بہت سے وسائل ہمارے پاس نہیں ہیں۔
راہل گاندھی: زراعتی شعبہ اور مزدوروں کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟ مہاجر مزدوروں کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ ان کی مالی حالت کے بارے میں کیا کچھ کیا جانا چاہیے؟
رگھو رام راجن: اس معاملے میں ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر ہی راستہ ہے اس وقت۔ ہم ان سبھی انتظامات کے بارے میں سوچیں جن سے ہم غریبوں تک پیسہ پہنچاتے ہیں۔ بیوہ پنشن اور منریگا میں ہی ہم کئی طریقے اختیار کرتے ہیں۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس روزگار نہیں ہے، جن کے پاس معمولات زندگی کے وسائل نہیں ہیں، اور اگلے تین چار مہینے جب تک یہ مسئلہ ہے، ہم ان کی مدد کریں گے۔
لیکن ترجیحات کو دیکھیں تو لوگوں کو زندہ رکھنا اور انھیں مخالفت کے لیے یا پھر کام کی تلاش میں لاک ڈاؤن کے درمیان ہی باہر نکلنے کے لیے مجبور نہ کرنا ہی سب سے مفید ہے۔ ہمیں ایسے راستے تلاش کرنے ہوں گے جس سے ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پیسہ بھی پہنچا پائیں اور انھیں پی ڈی ایس کے ذریعہ کھانا بھی مہیا کرا پائیں۔
راہل گاندھی: ڈاکٹر راجن کتنا پیسہ لگے گا غریبوں کی مدد کرنے کے لیے، سب سے غریب کو سیدھے کیش پہنچانے کے لیے؟
رگھو رام راجن: تقریباً 65 ہزار کروڑ۔ ہماری جی ڈی پی 200 لاکھ کروڑ کی ہے، اس میں سے 65 ہزار کروڑ نکالنا بہت بڑی رقم نہیں ہے۔ ہم ایسا کر سکتے ہیں۔ اگر اس سے غریبوں کی جان بچتی ہے تو ہمیں یہ ضرور کرنا چاہیے۔
راہل گاندھی: ابھی ہندوستان ایک مشکل حالات میں ہے۔ لیکن کووڈ وبا کے بعد کیا ہندوستان کو کوئی بڑا پالیسی پر مبنی فائدہ ہو سکتا ہے؟ کیا دنیا میں کچھ ایسی تبدیلی ہوگی جس کا فائدہ ہندوستان اٹھا سکے؟ آپ کے مطابق دنیا کس طرح بدلے گی؟
رگھو رام راجن: اس طرح کے حالات مشکل سے ہی کسی ملک کے لیے اچھے حالات لے کر آتی ہیں۔ پھر بھی کچھ طریقے ہیں جن سے ملک فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ اس بحران سے باہر آنے کے بعد عالمی معیشت کو بالکل نئے طریقے سے سوچنے کی ضرورت ہے۔
اگر ہندوستان کے لیے کوئی موقع ہے تو وہ ہے ہم ڈائیلاگ کیسے کرتے ہیں۔ اس ڈائیلاگ میں ہم ایک لیڈر سے زیادہ ہو کر سوچیں، یہ دو مخالف پارٹیوں کے درمیان کی بات تو ہے نہیں۔ لیکن ہندوستان اتنا بڑا ملک تو ہے ہی کہ عالمی معیشت میں ہماری بات اچھے سے سنی جائے۔
ایسے حالات میں ہندوستان صنعتوں میں مواقع تلاش کر سکتا ہے، اپنی سپلائی چین میں مواقع تلاش کر سکتا ہے۔ لیکن سب سے اہم ہے کہ ہم ڈائیلاگ کو اس سمت میں موڑیں جس میں زیادہ ملک شامل ہوں، کثیر مداراتی عالمی معیشت ہو نہ کہ دو مداراتی نظام۔
راہل گاندھی: یہ دلچسپ ہے جب آپ کہتے ہیں کہ انفراسٹرکچر سے لوگ جڑتے ہیں اور انھیں مواقع ملتے ہیں۔ لیکن اگر تقسیم کرنے والی باتیں ہوں، نفرت ہو جس سے لوگ نہیں جڑتے۔ یہ بھی تو ایک طرح کا انفراسٹرکچر ہے۔ اس وقت تقسیم کا انفراسٹرکچر کھڑا کر دیا گیا ہے، نفرت کا انفراسٹرکچر کھڑا کر دیا گیا ہے، اور یہ بڑا مسئلہ ہے۔
رگھو رام راجن: سماجی بھائی چارہ سے ہی لوگوں کا فائدہ ہوتا ہے۔ لوگوں کو یہ لگنا ضروری ہے کہ وہ محسوس کریں کہ سماج کا حصہ ہیں۔ ہم ایک منقسم گھر نہیں ہو سکتے۔ خاص طور سے ایسے چیلنجنگ وقت میں۔ تو میں کہنا چاہوں گا کہ ہمارے آبا و اجداد نے، ملک سازوں نے جو آئین لکھا اور شروع میں جو حکمرانی کی، انھیں نئے سرے سے پڑھنے-سیکھنے کی ضرورت ہے۔ لوگوں کو اب لگتا ہے کہ کچھ ایشوز تھے جنھیں درکنار کیا گیا، لیکن وہ ایسے ایشوز تھے جنھیں چھیڑا جاتا تو ہمارا سارا وقت ایک دوسرے سے لڑنے میں ہی چلا جاتا۔
راہل گاندھی: اس کے علاوہ آپ ایک طرف تقسیم کرتے ہو اور جب مستقبل کے بارے میں سوچتے ہو تو پیچھے مڑ کر تاریخ دیکھنے لگتے ہو۔ آپ جو کہہ رہے ہیں مجھے درست لگتا ہے کہ ہندوستان کو ایک نئے ویژن کی ضرورت ہے۔ آپ کی نظر میں وہ کیا ویژن ہونا چاہیے! یقینی طور پر آپ نے انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت خدمات کی بات کی۔ یہ سب گزشتہ 30 سال سے الگ یا مختلف کیسے ہوگا۔ وہ کون سا ستون ہوگا جو الگ ہوگا؟
رگھو رام راجن: مجھے لگتا ہے کہ آپ کو پہلے صلاحیتیں پیدا کرنی ہوں گی۔ اس کے لیے بہتر تعلیم، بہتر صحت خدمات، بہتر انفراسٹرکچر ضروری ہے۔ یاد رکھیے، جب ہم ان صلاحیتوں کی بات کریں تو ان پر عمل بھی ہونا چاہیے۔
لیکن ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہمارے صنعتی اور مارکیٹ نظام کیسے ہیں۔ آج بھی ہمارے یہاں پرانے لائسنس راج جیسا ہی نظام ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم کس طرح ایسی معیشت بنائیں جس میں ڈھیر ساری اچھی ملازمتیں پیدا ہوں۔ زیادہ آزادی ہو، زیادہ اعتماد اور بھروسہ ہو، لیکن اس کی تصدیق کرنا اچھا نظریہ ہے۔
راہل گاندھی: میں یہ دیکھ کر حیران ہوں کہ ماحول اور اعتماد معیشت کے لیے کتنے اہم ہیں۔ کورونا بحران کے درمیان جو چیز میں دیکھ رہا ہوں، وہ یہ کہ اعتماد کا ایشو اصل مسئلہ ہے۔ لوگوں کو سمجھ ہی نہیں آ رہا ہے کہ آخر آگے کیا ہونے والا ہے۔ اس سے ایک خوف ہے پورے سسٹم میں۔ آپ بے روزگاری کی بات کر لو، بہت بڑا مسئلہ ہے، بڑے پیمانے پر بے روزگاری ہے جو اب بہت بڑا ہونے والا ہے۔ بے روزگاری کے لیے ہم آگے کیسے بڑھیں، جب اس بحران سے آزادی ملے گی تو اگلے دو تین مہینے میں بے روزگاری سے کیسے نمٹیں گے۔
رگھو رام راجن: اعداد و شمار بہت ہی فکر انگیز ہیں۔ سی ایم آئی ای کے اعداد و شمار کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ کورونا بحران کی وجہ سے تقریباً 10 کروڑ مزید لوگ بے روزگار ہو جائیں گے۔ 5 کروڑ لوگوں کی تو ملازمت چلی جائے گی، تقریباً 6 کروڑ لوگ لیبر مارکیٹ سے باہر ہو جائیں گے۔ آپ کسی سروے پر سوال اٹھا سکتے ہو، لیکن ہمارے سامنے تو یہ اعداد و شمارے ہیں۔ اور یہ اعداد و شمار بہت وسیع ہیں۔ اس سے ہمیں سوچنا چاہیے کہ ناپ تول کر ہمیں معیشت کھولنی چاہیے، لیکن جتنا تیزی سے ہو سکے، اتنا تیزی سے یہ کرنا ہوگا جس سے لوگوں کو ملازمتیں ملنی شروع ہوں۔ ہمارے پاس سبھی طبقات کی مدد کی صلاحیت نہیں ہے۔ ہم ایک غریب ملک ہیں، لوگوں کے پاس زیادہ ب چت نہیں ہے۔
راہل گاندھی: ہندوستان کو جو نظریات پیچھے دھکیل رہے ہیں، وہ سماج میں گہرائی تک پہنچے ہوئے ہیں اور چھپے ہوئے ہیں۔ ایسے میں مجھے لگتا ہے کہ بہت ساری سماجی تبدیلیوں کی ہندوستان کو ضرورت ہے۔ اور یہ مسئلہ ہر ریاست میں الگ ہے۔ تمل ناڈو کی سیاست، وہاں کی ثقافت، وہاں کی زبان، وہاں کے لوگوں کی سوچ، یو پی والوں سے بالکل الگ ہے۔ ایسے میں آپ کو اس کے آس پاس ہی سسٹم تیار کرنے ہوں گے۔ پورے ہندوستان کے لیے ایک ہی فارمولہ کام نہیں کرے گا۔
اس کے علاوہ ہماری حکومت امریکہ سے بالکل الگ ہے۔ ہمارے نظام حکومت میں، ہماری حکمرانی میں کنٹرول کی ایک سوچ ہے۔ ایک پروڈکٹر کے مقابلے ہمارے پاس ایک ڈی ایم ہے۔ ہم صرف کنٹرول کے بارے میں سوچتے ہیں، لوگ کہتے ہیں کہ انگریزوں کے زمانے سے ایسا ہے۔ میرا ایسا ماننا نہیں ہے۔ میرا ماننا ہے کہ یہ انگریزوں سے بھی پہلے کا نظام ہے۔
ہندوستان میں حکومت کا طریقہ ہمیشہ سے کنٹرول کا رہا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ آج ہمارے سامنے یہی سب سے بڑا چیلنج ہے۔ کورونا بیماری کو ہم کنٹرول نہیں کر پا رہے، اس لیے جیسا کہ آپ نے کہا، اسے روکنا ہوگا۔
ایک اور چیز ہے جو مجھے پریشان کرتی ہے، وہ ہے نابرابری۔ ہندوستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے ایسا ہے۔ جیسی نابرابری ہندوستان میں ہے، امریکہ میں نظر نہیں آئے گی۔ تو میں جب بھی سوچتا ہوں تو یہی سوچتا ہوں کہ نابرابری کیسے کم ہو، کیونکہ جب کوئی سسٹم اپنے ہائی پوائنٹ پر پہنچ جاتا ہے تو وہ کام کرنا بند کر دیتا ہے۔ آپ کو گاندھی جی کا یہ جملہ یاد ہوگا کہ قطار کے آخر میں جاؤ اور دیکھو کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔ ایک لیڈر کے لیے یہ بہت بڑا سبق ہے، اس کا استعمال نہیں ہوتا، لیکن مجھے لگتا ہے کہ یہیں سے کافی چیزیں نکلیں گی۔
آپ کی نظر میں نابرابری سے کس طرح نپٹیں۔ کورونا بحران میں بھی یہ نظر آ رہی ہے۔ یعنی جس طرح سے ہندوستان غریبوں کے ساتھ سلوک کر رہا ہے، کس طرح ہم اپنے لوگوں کے ساتھ رویہ اپنا رہے ہیں۔ مہاجر بنام خوشحال کی بات ہے، دو الگ الگ نظریات ہیں۔ دو الگ الگ ہندوستان ہیں۔ آپ ان دونوں کو ایک ساتھ کیسے جوڑیں گے۔
رگھو رام راجن: دیکھیے، آپ پیرامڈ کی تلی کو جانتے ہیں۔ ہم غریبوں کی زندگی کو بہتر کرنے کے کچھ طریقے جانتے ہیں، لیکن ہمیں احتیاط سے سوچنا ہوگا جس سے ہم ہر کسی تک پہنچ سکیں۔ میرا ماننا ہے کہ کئی حکومتوں نے کھانا، صحت، تعلیم اور بہتر ملازمتوں کے لیے کام کیا ہے۔ لیکن چیلنجز کے بارے میں مجھے لگتا ہے کہ سب تک پہنچنے میں ایڈمنسٹریٹو چیلنجز ہیں۔ لیکن میری نظر میں بڑا چیلنج نچلے متوسط طبقہ سے لے کر متوسط طبقہ تک ہے۔ ان کی ضرورتیں ہیں، ملازمتیں، اچھی ملازمتیں تاکہ لوگ سرکاری ملازمت پر منحصر نہ رہیں۔
میرا ماننا ہے کہ اس محاذ پر کام کرنے کی ضرورت ہے اور اسی کے مدنظر معیشت کی توسیع کرنا ضروری ہے۔ ہم نے گزشتہ کچھ سالوں میں ہماری معاشی ترقی کو گرتے ہوئے دیکھا ہے، باوجود اس کے کہ ہمارے پاس نوجوان مزدوروں کی فوج ہے۔
اس لیے میں کہوں گا کہ صرف امکانات پر نہ جائیں بلکہ مواقع پیدا کریں جو پھلے پھولیں۔ اگر گزشتہ سالوں میں کچھ غلطیاں ہوئیں بھی تو، یہی راستہ ہے آگے بڑھنے کا۔ اس راستے کے بارے میں سوچیں جس میں ہم کامیابی سے بڑھتے رہے ہیں، سافٹ ویئر اور آؤٹ سورسنگ خدمات میں آگے بڑھیں۔ کون سوچ سکتا تھا کہ یہ سب ہندوستان کی طاقت بنے گا۔ لیکن یہ سب سامنے آیا ہے، اور کچھ لوگ دلیل دیتے ہیں کہ یہ اس لیے سامنے آیا کیونکہ حکومت نے اس کی طرف دھیان نہیں دیا۔ میں ایسا نہیں مانتا۔ لیکن ہمیں کسی بھی امکان کے بارے میں غور کرنا چاہیے، لوگوں کی صلاحیت کو موقع دینا چاہیے۔
راہل گاندھی: شکریہ، آپ کا بہت شکریہ ڈاکٹر راجن۔
رگھو رام راجن: شکریہ بہت بہت۔ آپ سے بات کر کے بہت اچھا لگا۔