“ثریا” ستارے کے بارے میں ایک گمراہ کن پروپیگنڈہ

مفتی محمد اشرف قاسمی
(مہدپور ضلع اجین ایم پی)
شریعت اسلامیہ جس طرح عقائد وعبادات کے بارے میں واضح ہدایات دیتی ہے، اسی طرح اپنی صاف وشفاف اور پاکیزہ رہنمائی کے ذریعے معاشرہ کو مادی ضررونقصان سے بچاتی اوراختلاف وانتشار سے محفوظ رکھتی ہے۔
اسی سلسلے میں باغوں میں قبل ازوقت فصلوں کی خرید وفروخت کے تعلق سے بھی اسلام میں انتہائی عادلانہ ومنصفانہ اور بہت ہی خوبصورت ہدایات موجودہیں۔
حکم یہ ہے کہ باغوں میں پھل آنے سے قبل خرید وفروخت کے معاملات نہ کیے جائیں؛ کیوں کہ اگر پہلے ہی معاملہ کرلیا گیا اور پھل نہ آیا تو خریدار کو بغیر کسی مبیع کے روپیہ ادا کرنا پڑے گا اور مالکِ باغ کو مفت میں خریدار سے روپیہ حاصل ہوگا۔ جب کہ معاملہ پھل پرہوا ہے۔ اور خریدار کووہ پھل دے نہیں سکا، اس میں ایک فریق کو نقصان دوسرے کو بغیر مبیع ادا کیے نفع حاصل ہوگا۔ اور پھر تنازع ہوگا؛ اس لئے شریعت نے اس سے منع فرمایا۔
اور باغ کے پھلوں کی خرید وفروخت کے بارے میں اس طرح حکم دیا کہ:
جب پھلوں کی پیداوار میں موسمی اثرات سے کسی نقصان کا خدشہ باقی نہ بچے، اور ان نقصاندہ اثرات کے خاتمے کے ساتھ قابل انتفاع صورت میں درختوں پر پھل آجائیں، تو ان پھلوں کی خرید وفروخت کی جاسکتی ہے۔ جب تک موسمی اثرات سے نقصان کا خطرہ ہو اور پھل قابل انتفاع صورت میں ظاہرنہ ہوجائیں اس وقت تک درختوں پر پھلوں کی خرید وفروخت کا معاملہ نہ کیا جائے۔
موسمی اثرات سے حفاظت اور قابل انتفاع صورت میں پھلوں کے ظہور کے لئے موسم کی ایک میقات متعین فرمائی گئی ہے کہ جب ثریا ستارہ طلوع ہوجاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ موسمی اثرات سے پھل محفوظ ہوگئے، اور موسم کی خرابی سے اس پیداوار پراثر نہیں پڑے گا۔ ثریا طلوع ہونے کے بعد چوں کہ قابلِ انتفاع صورت میں پھل تیار ہوگیے ہیں، اس لئے ان کی خرید وفروخت جائز ہے۔
اسی معاملے کے موقعِ جواز کو بتانے کے لئے ثریا ستارہ والی روایت وارد ہوئی ہے۔ یہ روایت مختلف کتبِ احادیث میں آئی ہے۔ بخاری شریف، کتاب البیوع 2193اورابوداود، کتاب البیوع 3372 میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ یہ روایت صورت مسئلہ کو اچھی طرح واضح کرنے والی ہے۔ اس لئے اسے ذیل میں مطالعہ کریں:
“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ پھلوں کی خرید و فروخت (درختوں پر پکنے سے پہلے) کرتے تھے۔ پھر جب پھل توڑنے کا وقت آتا، اور مالک (قیمت کا) تقاضا کرنے آتے توخریدار یہ عذر کرنے لگتے کہ پہلے ہی اس کا گابھا خراب اور کالا ہوگیا، اس کو بیماری ہوگئی، یہ تو ٹھٹھر گیا، پھل بہت ہی کم آئے۔ اسی طرح مختلف آفتوں کو بیان کر کے مالکوں سے جھگڑتے (تاکہ قیمت میں کمی کروالیں)
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس طرح کے مقدمات بکثرت آنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:جب اس طرح جھگڑے ختم نہیں ہوسکتے تو تم لوگ بھی میوے کے پکنے سے پہلے ان کو نہ بیچا کرو۔ گویا مقدمات کی کثرت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم فرمایا تھا۔
خارجہ بن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے باغ کے پھل اس وقت تک نہیں بیچتے جب تک ثریا نہ طلوع ہو جاتا اور زردی اور سرخی ظاہر نہ ہوجاتی۔” (بخاری شریف، کتاب البیوع: 2193۔ ابوداود، کتاب البیوع: 3372)
اس روایت میں پھلوں کی خرید وفروخت کے بارے میں ایک امکانی وقت بتلایا گیا ہے کہ اس وقت عموما پھلوں کی پیداوار میں، نیز ظاہر شدہ پھلوں میں موسمی اثرات سے خرابی کا امکان کم رہتا ہے؛ اس لئے ثریا ستارہ طلوع ہونے کے بعد اگر پھل قابلِ انتفاع صورت میں ظاہر ہوگئے ہیں تو پھر ان کی خرید وفروخت درست ہے۔
اتنی صاف اور واضح روایت کے ہوتے ہوئے شمسی تاریخ کے لحاظ سے 12؍ مئی کو ثریا ستارے کے طلوع ہونے کو بتلا کر کوروناوبا کے ختم ہونے کی بشارت کے لئے اس حدیث کو بیان کرنا ؛ مسلمانوں کو دھوکا دینے اور نعوذ باللہ غیر مسلموں کو اسلام پر ہنسنے کا موقع فراہم کرنے سے زیادہ کچھ حقیقت نہیں ہے۔
جنہوں نے بھی اس روایت کی بنیاد پر ایسا شگوفہ جاری کیا ہے، ان سے شعوری یاغیر شعوری طور پر بڑی نادانی۔ہوئی ہے۔
کاش طلوعِ ثریا کوکورونا کے خاتمے کا باعث سمجھنے سے پہلے ثریا ستارے کے بارے میں روایت کاوہ حصہ بھی ملاحظہ کر لیا ہوتا جس کو امام طبریؒ نے تفسیر سورۂ فلق میں نقل کیا ہے:
“ابن زید فرماتے ہیں کہ (غاسق اذا وقب) سے عرب حضرات کے نزدیک ثریا نامی ستارے کا ڈوبنا مراد ہے، وہ کہتے ہیں کہ بیماریاں اور وبائیں ثریا کے ڈوبنے کے وقت بڑھ جاتی تھیں، اورطلوع ہونے کے وقت اٹھ جاتی تھیں۔” (تفسیرطبری، سورہ فلق)
ابن زید کی روایت میں ثریا کے سقوط وطلوع دونوں اوقات کا تذکرہ ہے۔ ماہرینِ فلکیات کے بقول:
“ثریا کے سقوط (ڈوبنے) کا وقت: ماہِ نومبر کا درمیانی عشرہ ہے۔ اور طلوع کا وقت: ماہِ مئی کا درمیانی عشرہ ہے۔
روایت کا پہلا حصہ کہتا ہے کہ وبا کا ظہور سقوطِ ثریا (نومبر کے درمیانی عشرہ) میں ہونا چاہیے، جب کہ سوشل میڈیا کے مطابق کورونا وائرس کا ظہور چائینا میں 12؍دسمبر کو ہوا، یعنی سقوطِ ثریا کی تاریخ سے ایک مہینہ بعد۔ جس سے پتہ چلا کہ کورونا وائرس کوثریا نامی ستارہ کے طلوع وغروب سے مربوط کرنا درست نہیں ہے۔
کچھ روایتوں میں ثریا کے سقوط و طلوع کے دنوں میں انسانوں و مویشیوں کے امراض میں گرفتار ہونے کے امکانات کا زیادہ اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔” (زاد المعاد في هدي خير العباد” ج4؍ ص53)
وقد روي في حديث: (إذا طلع النجم ارتفعت العاهة عن كل بلد) .
[1] وفُسّر بطلوع الثريا.۔۔۔أما الثريا، فالأمراض تكثر وقت طلوعها مع الفجر وسقوطها۔ (امام ابن القيم رحمه الله في “زاد المعاد في هدي خير العباد” ج4؍ص53)
اس روایت میں موسم کے لحاظ سے عام امراض کا بیان ہے۔ مثلا گرمی کے دنوں میں الٹی، دست، کالرا، ملیریا۔سردی کے دنوں میں نیمونیا، کھانسی، نزلہ، زکام۔
ایسے ہی نومبر میں جب کہ ثریا ستارہ غروب ہوتا ہے اور مئی میں جب کہ وہ طلوع ہوتا ہے۔ ان دنوں میں کچھ زیادہ موسمی بیماریاں ہوتی ہیں۔ اس میں کسی خاص وبائی مرض کی خبر نہیں دی گئی ہے؛ اس لئے کروناوائرس کو ثریا ستارے کے غروب وطلوع سے جوڑنا بالکل غلط ہے۔
شروع کی سطور میں بتایا گیا ہے کہ ثریا ستارہ کی روایت
اصالۃ آفتوں سے محفوظ ہوکر
پھلوں کے قابل انتفاع ہوجانے پر ان کی خرید وفروخت سے متعلق ہے ۔نہ کہ کورونا وائرس کے بارے میں؛ اس لئے ثریا ستارے کے طلوع کے بعد درختوں پر پھلوں کی خرید وفروخت کاحکم بھی ذیل میں نقل کرنا مناسب، بلکہ ضروری معلوم ہوتا ہے۔
اس سلسلے میں تفصیل ملاحظہ کریں:
“اگرثریا ستارے کے طلوع ہونے کے بعد قابلِ انتفاع صورت میں پھل ظاہر نہیں ہوئے تو اس کے بعد بھی خرید وفروخت کا معاملہ کرناجائز نہیں ہوگا۔جیسا کہ دوسری احادیث میں صراحت ہے:
“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “تم پھل نہ بیچو، یہاں تک کہ اس کی صلاحیت ظاہر ہو جائے۔”(مسلم: 3869)
دوسری روایت ہے:
“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس وقت تک ) درخت پر لگے پھل کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، یا کہا: ہمیں منع فرمایا۔ یہاں تک کہ وہ ٹھیک ہو جائے۔” (مسلم: 3871)
الغرض پھلوں کی خرید و فروخت سے متعلق صحت اور عدمِ صحت کے بارے میں طلوعِ ثریا کی روایت ہے۔وہ بھی طلوعِ ثریا کے بعد کوئی حتمی وقتِ جواز بتانے کے لئے نہیں ہے؛ بلکہ موسم کی غالب حالت کے پیش نظر ایک استقرائی ہدایت ہے۔ اگرطلوعِ ثریا کے بعد پھل قابلِ انتفاع صورت میں نہ ظاہر ہو تو طلوعِ ثریا کے بعد بھی درختوں پر پھلوں کی خرید فروخت ممنوع ہوں گی۔
جن روایات میں پھلوں کے علاوہ انسانوں اور مویشیوں کو ثریا کے غروب و طلوع کے دنوں میں مبتلاے امراض ہونے کا خدشہ وامکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ان روایتوں سے مراد موسم کے لحاظ سے ان دنوں میں پائے جانے والے امراض ہیں نہ کہ کورونا وائرس یا کوئی خاص وبائی بیماری۔
آخری اور اہم بات یہ ہے کہ
چھوٹی بڑی ہر بیماری میں دواؤں کے ساتھ ہمیں دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے۔ خاص طور پر وبائی امراض کے موقع پر توبہ و استغفار کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔
اے میری قوم کے لوگو! تم اپنے پالنے والے سے اپنی تقصیروں کی معافی طلب کرو اور اس کی جناب میں توبہ کرو، تاکہ وہ برسنے والے بادل تم پر بھیج دے اور تمہاری طاقت پر اور طاقت قوت بڑھا دے اور تم جرم کرتے ہوئے روگردانی نہ کرو۔ (سورہ ہود: آیت 52)
کتبہ: محمد اشرف قاسمی
خادم الافتاء شہر مہدپور
ضلع اجین ایم پی
2؍ رمضان المبارک 1441ھ
مطابق: 26؍ اپریل 2020ء