رمضان ، کورونا، زکوٰة اور ہماری ذمہ داری

پروفےسر اسلم جمشےد پوری
Mob:8279767070
ماہِ رمضان شروع ہوئے کئی دن ہو گئے ہےں۔ ےہ وہی مہےنہ ہے جس کا اےمان والے بے صبری سے انتظار کرتے ہےں۔اس ماہ کو ہم کئی اہم عبادتوں کے لےے ےاد کرتے ہےں۔ اس ماہ مےں روزہ رکھنا فرض ہے۔ اسی ماہ قرآن کا نزول ہوا۔اسی ماہ تراوےح کا سلسلہ بھی ہوتا ہے۔ شب قدر بھی اس ماہ کے آخری عشرے کی طاق راتوں مےں پنہاں ہے۔ اس ماہ ہر نےکی کا اجر ستر گنا بڑھا دےا جاتا ہے۔ شےطان کو بھی قےد کر دےا جاتا ہے، ےعنی انسان خود شےطانی حرکات نہ کرے تو ےہ مہےنہ نےکےوں اور رحمتوں کا ہے۔ اس ماہ کو ہم زکوٰة کی ادائےگی کے لےے بھی ےاد رکھتے ہےں۔زکوٰة ، اسلام کے بنےادی پانچ ارکان مےںسے اےک ہے۔
اس برس کا رمضان ، مخصوص حالات مےں آےا ہے۔ کورونا وائرس نے خطرناک وبائی مرض کی طرح دنےا کے اےک بڑے حصّے کو گذشتہ کئی ماہ سے اپنی گرفت مےں لے رکھا ہے۔ دنےا مےں اس بےماری سے متاثرےن کی تعداد 29 لاکھ سے تجاوز ہو چکی ہے اور دو لاکھ سے زائدا فراد لقمہ¿ اجل بن چکے ہےں۔ ےہ مرض اےک سے دوسرے مےں تےزی سے پھلتا ہے، ےہی سبب ہے کہ لوگوں کو گھروں مےں خود قےد ہونے کی تاکےد کی گئی ہے۔ ساری اجتماعی عبادتےں، بھےڑ بھاڑ اورشور و غل کے علاقوں کو بند کر دےا گےا ہے۔ خانہ کعبہ¿ ، مسجد نبوی سے لے کر تمام چھوٹی بڑی مساجد نماز اور نمازےوں کے لےے بند کر دی گئی ہےں۔ دوسری طرف دنےا کی اےک بڑی آبادی، جو ضروری اشےاءکے حصول سے محروم ہے۔ غرےب بے چارے،جو روز کما کر روز کھانے کے دور سے گذرتے ہےں،ان کے لےے ےہ دور بڑا مشکل دور ہے۔ اس پس منظر مےں رمضان کے مہےنے کی آمد ۔ اےسا لگتا ہے تپتی دھوپ ، آگ برساتا آسمان اور شعلے اگلتی زمےن کے درمےان بادل کا ٹکڑا نظر آگےا ہو۔رمضان غربےوں ، ےتےموں ، مسکےنوں اوردبے کچلے افراد کے لےے اےک بڑی اُمےد بن کر آےا ہے۔
رمضان مےں زکوٰة کے علاوہ صدقات، عطےات، فطرات اور امداد کا سلسلہ بھی دراز ہوتا ہے۔ زکوٰة دراصل ہر صاحب نصاب (52تولہ چاندی ےا7.5 تولہ سونا ےا اس کے برابر دولت کی ملکےت) پر فرض ہے۔ ےہ ہم سب جانتے ہےں۔ جس طرح بنا وضو کے نماز ادا نہےں ہوتی۔ کلمہ کے بغےر انسان اسلام مےں داخل نہےں ہوتا ، روزہ کے طے وقت کے اندربنا کھائے پئے روزہ پورا نہےں ہوتا ٹھےک اسی طرح بنا حساب کتاب کے زکوٰة کا فرض ادا نہےں ہوتا۔ ہم مےں سے بےشتربنا حساب کتاب کے اندازے سے زکوٰة نکال دےتے ہےں۔ زےورات ، بےنک اور گھر مےں رکھا کےش،استعمال ہونے والے گھر کے علاوہ زمےن جائےداد ، دوسروں کو قرض دی گئی رقم، سب کا حساب اس طرح کرنا کہ اےک اےک پائی شامل ہو جائے، ےعنی ساری ملکےت کو رقم مےں تبدےل کر کے کل پر 2.5%حصّہ زکوٰة دےنا ہے۔ ہم مےں سے کتنے ہےں جو اس طرح پائی پائی کا حساب لگا کر زکوٰة دےتے ہےں۔ مجھے اےسے مےں جمشےد پور مےں اپنے مکان مالک مرحوم اسلام انصاری ےا د آرہے ہےں۔ اسلام صاحب شہر آہن کے اےک بڑے بزنس مےن کی حےثےت رکھتے تھے۔ ان کی شہر کے معروف بازاروں مےں رولڈ گولڈ کے زےورات(مصنوعی زےورات) اور عورتوں کی آرائش و زےبائش کے سامان کی تےن دکانےں تھےں۔اچھی خاصی روزانہ کی آمد تھی۔ رمضان کے مہےنے مےں ےوں ہوا کرتا تھاکہ وہ دکان مےں موجود ہر سامان کی فہرست بنواتے تھے۔پھر اس کی قےمت کا حساب کتاب اوراس طرح زکوٰة نکالا کرتے تھے۔ کتنا ضروری ہے زکوٰة کے لےے حساب کتاب، ےہ دراصل زکوٰة کے لےے روح جےسا ہے۔ اس کام کے لےے افسوس ہے کہ ہمارے ےہاں اجتماعی طور پر کوئی طرےقہ رائج نہےں ہے۔ ہمارے ملک مےں زکوٰة کا مصرف کرنے والے مدارس کی اےک طوےل فہرست ہے لےکن Zakat Calculation centres نہےں ہےں۔
زکوٰة سے متعلق دوسرا اہم مسئلہ ، اس کا مستحقےن تک پہنچنا ہے۔ ےہاں بھی ہم لوگ اپنی طبعےت کی کسلمندی، سستی ، کاہلی اور بے توجہی کا شکار ہو کر کسی کوبھی رقم دے کر اپنا دامن جھاڑ لےتے ہےں اور خوش ہوتے ہےں کہ ہم نے زکوٰة ادا کر دی۔ زکوٰة کا مستحقےن تک پہنچانا بھی اےک اہم ذمہ داری کا کام ہے ۔ےہ مسئلہ موجود ہ عہد مےں خصوصاً امسال کورونا جےسی مہلک بےماری کے زمانے مےں جب لاکھوں کروڑوں افراد، دانے دانے کو محتاج ہےں۔ کچھ اےک وقت اور دو وقت کھا کر گذارا کر رہےں۔ اےسے مےں زکوٰةکے مستحقےن کی تلاش زےادہ مشکل کام نہےں ہے۔ اےسے مسلمان جو اپنے کام کاج کے بند ہو جانے سے فاقے تک پہنچ رہے ہےں، ان تک آپ کا پہنچنا ضروری ہے۔ ےتےم ، بےوائےں ، بے سہارا مسلمانوں تک آپ کی زکوٰة پہنچ جاتی ہے تو سمجھےں زکوٰة کا فرض ادا ہو ا، باقی معاملہ اللہ کا ہے کہ وہ شرف قبولےت بخشے۔
مذکورہ بالا دونوں معاملے ےعنی زکوٰة کا صحےح حساب کتاب اور ادائےگی کے لےے زکوٰة فاو¿نڈےشن آف انڈےا ، ملک کے بڑے مدارس ، اور بڑی تعلےم گاہوں ( اے۔ اےم۔ ےو، جامعہ ملےہ اسلامےہ ، جامعہ ہمدرد جےسے ادارے) کو چاہےے کہ وہ ہر شہر مےں اےک اےسا مرکز قائم کرےں ۔فی الحال آن لائن ہی کرنا ہوگا۔ ا ن مراکز پر لوگ اپنی دولت و جائےداد کا بےورا بتائےں اور مرکز مےں ماہرےن رِےاضی جو دےن کی بارےکےوں سے بھی کما حقہ واقف ہوں، وہ سارا حساب لگا کر ڈھائی فی صد کے حساب سے زکوٰة
کی رقم بتائےں۔ زکوٰة کے مستحقےن کے نام پتے بھی بتا دےں۔زکوٰة دےنے والے پہلے اپنے رشتہ داروں ، اقرباء،محّلے ، بستی کے حقداروںکو زکوٰة دےں۔ بعد مےں پورے ملک اور دنےا کے مستحقےن افراد کوزکوٰة کا حصّہ ادا کرےں۔ زکوٰةنقد اوراشےاءکی شکل مےں بھی دی جاسکتی ہے۔ اس کام مےں مختلف شہروں کے قاضی حضرات ، پرسنل لا بورڈ کی شرعی عدالتوں کے قاضی، مفتےان کرام بھی اپنا تعاون پےش کر سکتے ہےں۔ اےسے تمام حضرات سے ےہ بھی گذارش ہے کہ وہ اپنی اپنی سطح پر لوگوں کو زکوٰة صحےح صحےح ادا کرنے کی طرف مائل کرےں اور زکوٰة کا حساب کتاب بہتر طور پرکروانے کے لےے اپنے موبائل نمبر ، وہاٹس اےپ اور فےس بک کے ذرےعہ مشتہر کرےں، تاکہ زکوٰة کے ادا کرنے والے افراد ان سے رابطہ کرےں اور اسلام کا اےک اہم فرےضہ اےمانداری اور دےانت داری سے ادا ہو سکے۔
جہاں تک مستحقےن کا معاملہ ہے اس مےں ہمارے کچھ غےر سرکاری ادارے NGO’S اس وقت افطار کٹ وغےرہ کا انتظام کر کے، مستحقےن تک پہنچانے کا کام کر رہے ہےں۔ زکوٰة کی رقم ان اداروں کو بھی دی جاسکتی ہے اور زکوٰة دہندہ خود اپنی کوشش سے اےسے افراد کا پتہ لگا کر انہےں زکوٰة پہچا دے ےہ مزےد بہتر کام ہوگا۔
زکوٰة کے علاوہ اس ماہ صدقات ،فطرات اور عطےات بھی بڑے پےمانے پر دےے جاتے ہےں۔ ےہ رقوم ےااشےاءکی شکل مےں کسی بھی غرےب ، بے سہارا ، ےتےم ، فقےر ، بےمار کو دےے جا سکتے ہےں۔ ےہ وقت دوسروں کے کام آنے کا ہے۔ اےسے مےں ہمےں دےگر برسوں سے زےادہ محنت، اےمانداری اور دےانت داری سے غرےبوں کی مدد کرنی چاہےے۔
آخر ی بات کے طور پر ےہ کہناچاہتا ہوں کہ ہم مےں سے بہت سارے لوگ ماہِ رمضان مےں افطار پارٹی کرتے ہےں۔ مساجد مےں افطار بھجواتے ہےں۔ دروازے پر آئے غرباءو فقراءکی بھی مدد کرتے ہےں۔ براہ کرام اس برس افطار پارٹی کی رقم کا اندازہ کرتے ہوئے وہ رقم بھی ضرورت مندوں مےں تقسےم کر دےں۔ ملک اس وقت جس دور سے گذر رہا ہے، اےسے مےں ہمارا متحد ہونا اور جن کے پاس ہے وہ، جن کے پاس نہےں ہے ، کی کھل کر مدد کرےں۔ ےہ رمضان آپ کے لےے سنہرے موقع کے طور پر آےا ہے ۔اس برس زےادہ سے زےادہ نےکےاں کمانے کا موقع ہے۔ دوسروں کی مدد کرکے دےنی فرےضہ بھی ادا کرےں اورفی الحال خطرناک بےماری کورونا سے پےدا شدہ حالات مےں دنےاوی ذمہ داری بھی ۔ اللہ آپ کو ستر گنا سے بھی زےادہ عطا کرے گا، ساتھ ہی آپ کے مال و دولت کی حفاظت کی بھی صد فی صد ضمانت ہوگی۔