لاک ڈاﺅن کی خلاف ورزی کرنے والوں کی اب خیر نہیں


ڈرون کیمروں سے رکھی جا رہی ہے نظر
دیواس27اپریل (نیا نظریہ بیورو) ان دنوں حکومت کے احکامات پر صد فیصد عمل کرتے ہوئے لوگ اپنے گھروں میں مقید ہیں مگر کچھ نہ سمجھ، لاپرواہ لوگوں کی سزا پورے شہر کو بھگتنی پڑ سکتی ہے۔ کوروناکا قہر جاری
مکمل ضلع ان دنوں کوروناکے قہر کا شکار ہے۔ ایڈمنسٹریٹو اسٹاف چاہے وہ محکمہ پولیس ہو یا محکمہ صحت جان خطرے میں ڈال کر اپنی ذمہ داری پوری ایما نداری سے نبھا رہا ہے۔ مگر کبھی کبھی کہیں کہیں سے ایسی غیر مصدقہ خبریں پہنچتی ہیں جو شہر میں سنسنی پھیلا دیتی ہیں اور سوچنے پر مجبور بھی کر دیتی ہیں ۔ شہر کوتوالی ٹی آئی اےم اےس پرمار کے مطابق ہمیں مسلسل اطلاع موصول ہو رہی تھی کہ گروسری اسٹورز پر اور مارکیٹ کے کچھ اہم راستوں پر لوگ بے وجہ بھیڑ لگا کر خریداری کرنے میں مصروف ہیں اس لئے انتظامیہ اور سخت ہوا ہے اور اب بھیڑ لگا کر کھڑے ہونے والوں کی خیر نہیں۔ اب ہم ڈرون کیمروں کی مدد سے بھیڑ لگا کر کھڑے ہونے والے افراد پر نگرانی رکھتے ہوئے ان تک پہنچیں گے اور ضرورت پڑنے پر ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی بھی کریں گے ۔ڈرون کیمرے آپریٹ کرنے والے شخص سے جب ہمارے دیواس نمائندے نے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ اس کیمرے کی رینج 300 میٹر تک ہے اور یہ 2 کلو میٹر تک علاقے ایک بار میں احاطہ کر سکتا ہے جس کی مدد سے آسانی سے بھیڑ لگا کر کھڑے ہونے والے لوگوں کی شناخت کی جائے گی اور ان پر قانونی کارروائی بھی ۔23اپریل کو دیواس ضلع میں کورونا کے نوڈل افسر ڈاکٹر ایس ایس مالویہ نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ ضلع میں اب تک 294 افراد کے خون کے نمونے جمع کرکے تحقیقات کے لئے بھیجے گئے ہیں جس سے 23 افراد کی اطلاع مثبت حاصل ہوئی ہے۔ساتھ ہی ضلع میں اب تک 7 افراد کی موت کورونا کی وجہ سے ہو چکی ہے ہم ضلع کے عوام سے شائستہ درخواست کر رہے ہیں کہ حکومت کی جانب سے بتائے جا رہے احکامات پر صد فیصد عمل کرتے ہوئے اپنے آپ کو گھروں میں مقید رکھیں، ایک دوسرے سے دوری بنائے رکھیں، گلے ملنے کی بالکل کوشش نہ کریں، ساتھ ہی رمضان کے مقدس مہینے شر وع ہو چکے ہیں تمام مسلم بھائی اپنے گھروں کو ہی مسجد سمجھتے ہوئے پورے دل کے ساتھ گھروں میں عبادت کریں اور خدا سے دعا مانگیں کہ اس وقت اس کے بندوں پر جو آفت آئی ہے اس سے وہ جلدی چھٹکارا دلا دے۔ ہم بھی معزز قارئین سے گزارش کرتے ہیں کہ کہیں بھی بھیڑ نہ لگائیں ۔ کہیں بھی تین شخص سے زیادہ کھڑے نہ ہوں ۔ انتظامیہ کو سخت کارروائی کرنے پر مجبور نہ کریں خود بھی محفوظ رہیں اپنے خاندان کو بھی محفوظ رکھیں اور تہوار گھر میں منائیں کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کی ایک غلطی آپ کے خاندان پر بھاری پڑ جائے اور حکومت کے کئے کرائے پر پانی پھیرنے کے لئے کافی ہو ۔