بی جے پی میں وزیروں کے سامنے گڑگڑاتے ہیں سندھیا:کانگریس


بھوپال:27اپریل(نیانظریہ بیورو)
سابق مرکزی وزیر اور بی جے پی لیڈر جیوتی رادتیہ سندھیا کے ذریعہ زرعی وزیر کو لکھے گئے خط کو لے کر کانگریس نے طنز کسا ہے۔کانگریس کے میڈیا کوآرڈینیٹر نریندر سلوجا کا کہنا ہے کہ سندھیا زرعی وزیر کو روبرو کرارہے ہیں یا عاجزی کررہے ہیں۔ یہ وہی سندھیا ہے جو کانگریس میں رہ کر مطالبات پورے نہ ہونے پر سڑکوں پر اترنے کی دھمکی کے ساتھ افسران کو دھمکی دیتے تھے اور اب بی جے پی میں آتے ہی وزراءکے سامنے عاجزی کررہے ہیں۔سب کچھ بدل چکا ہے۔ اب آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔دراصل سندھیا نے وزیر زراعت کمل پٹیل کو خط لکھا تھا ،وہیں انہوں نے کسانوں کو لے کر کچھ مطالبات کئے تھے جس پر سلوجا نے اب طنز کسا ہے۔ میڈیا کوآرڈینیٹر سلوجا نے کہا کہ جیوتی رادتیہ سندھیا کا ریاست کے زرعی وزیر کمل پٹیل کو لکھا خط پڑھا۔خط کی زبان پڑھی، خط میں وہ کسانوں کی پریشانیوں کو لے کر زرعی وزیر سے عاجزی کررہے ہیں، انہیں رائے دے رہے ہیں۔ ان کی توجہ مرکوز کررہے ہیں، اور امید کررہے ہیںکہ ان کے اس خط پر وہ مثبت قدم اٹھائیںگے۔یہی جیوتی رادتیہ سندھیا کی حکومت میں سیدھے سڑکوں پر اترنے کی بات کرتے تھے۔اپنے حساب سے رہتے تھے۔ افسران کو سیدھے ہدایت دیتے تھے،دھمکی دیتے تھے،وہ آج بی جے پی حکومت آتے ہی وزراءکے سامنے عاجزی کرتے ہیں۔ ایک مہینے میں ہی ان کی یہ حالت دیکھ کر بڑی حیرانی ہورہی ہے۔ اب نہ معاہدہ ملازمین یاد آرہے ہیں،یہ کسان کا خیال آرہا ہے۔نہ قرض معافی یاد آرہا ہے، نہ ان کی پریشانیوں کا خیال آرہا ہے۔ نہ عوامی خدمات کا خیال ہورہا ہے،نہ غریبوں کی فکرستارہی ہے اور نہ سڑکوں پر اترنے کی دھمکی دی جارہی ہے۔