دہلی میں مہاجر مزدوروں کی حالت خراب، نہیں مل رہا کھانا اور راشن

دہلی میں سی پی ایم اور سیٹو تنظیم نے ٹیلی فون پر ایک سروے کیا ہے اور اس سروے سے جو معلومات حاصل ہوئی ہیں اس نے دہلی کی کیجریوال حکومت پر سوال کھڑے کر دیئے ہیں۔ اس سروے میں سب سے زیادہ چونکانے والی بات یہ ہے کہ 65 فیصد مہاجر مزدوروں کو حکومت کی جانب سے کسی قسم کے کھانے سے متعلق کوئی مدد نہیں ملی ہے۔
سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے جو مہاجر مزدور دہلی میں پھنس گئے ہیں ان کی حالت بہت خراب ہے اور ان کو عام آدمی پارٹی کی حکومت سے کوئی مدد نہیں مل پا رہی ہے۔ 8870 مزدوروں سے اس سروے کے سلسلے میں بات کی گئی اور اس سے پتہ لگا کہ زیادہ تر مزدوروں کے پاس نہ تو راشن کارڈ ہے اور نہ ہی آدھار کارڈ ہے۔ بہت سے مزدوروں کے پاس تو موبائل ریچارج کرانے تک کے پیسے نہیں ہیں۔
سروے سے یہ حققیت بھی سامنے آئی کہ دہلی میں پھنسے زیادہ تر مہاجر مزدور گھر واپس جانا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے پاس پسیے ختم ہو چکے ہیں۔ سروے میں حاصل ہوئیں کچھ حقیقتیں مندرجہ ذیل ہیں۔
13 فیصد لوگ وہ ہیں جو اپنا کام کرتے ہیں اور ان کی آمدنی مختصر ہے اور یہ آمدنی بدلتی بھی رہتی ہے۔
91 فیصد مہاجرین دہلی میں ماہانہ پندرہ ہزار یا اس سے کم کماتے ہیں۔
27 فیصد مزدور اپنے گھر پیسے نہیں بھیج پائے کیونکہ ان کی بچت ختم ہو گئی تھی۔
واضح رہے دہلی کی مہنگی زندگی کی وجہ سے یہاں کے مہاجر مزدوروں کی حالت بہت خراب ہے اور وہ جن حالات میں یہاں رہتے ہیں وہ بہت ہی بدتر ہیں۔ سروے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کیجریوال حکومت جتنا کہتی ہے اس کا کچھ حصہ بھی زمین پر نظر نہیں آتا۔
سروے سے حاصل کچھ معلومات۔
29 فیصد مہاجرین کے پاس چاول کا کوئی اسٹاک نہیں ہے
51 فیصد مہاجرین کے پاس کوئی آٹا نہیں ہے
52 فیصد مہاجرین کے پاس دالوں کا کوئی اسٹاک نہیں ہے
54 فیصد مہاجرین کے پاس کھانے پکانے کا تیل نہیں ہے
65 فیصد مہاجرین کو حکوت کی جانب سے راشن کے تعلق سے کوئی مدد نہیں ملی ہے
جن 35 فیصد مہاجرین کو راشن سے متعلق مدد ملی ہے اس میں 48 فیصد کا یہ کہنا ہے کہ وہ مدد معقول نہیں ہے