تبلیغ کے لوگ ’قرنطینہ‘ میں دوگنی مدت گزار چکے، پھر بھی نظر بند کیوں؟ دہلی اقلیتی کمیشن

نئی دہلی: دہلی اقلیتی کمیشن نے دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین کو خط لکھا ہے کہ حضرت نظام الدین میں تبلیغی مرکز سے قرنطینہ کیمپوں میں رکھے گئے لوگوں کو 27 اپریل تک 28 دن پورے ہو جائیں گے، جوکہ کورونا مشتبہ افراد کے قرنطینہ کے لئے امریکی اور عالمی ادارہ صحت کے رہنما خطوط کے مطابق لازمی مدت سے دوگنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب متاثرہ افراد میں کورونا وائرس کے علامات کے ظہور کے لئے 14 دن سب سے طویل مدت ہوتی ہے تو مذکورہ لوگوں کو غیر ضروری طور پر نظربند رکھا جا رہا ہے۔ ملک میں دوسرے قرنطینہ مراکز میں بند لوگوں کا نگیٹیو ٹسٹ آنے پر ان کو 14 دن کے بعد گھر جانے کی اجازت دیدی جاتی ہے۔
چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان اور ممبر کرتار سنگھ کوچر کے دستخط کردہ خط میں کمیشن نے کہا کہ’’اب مناسب یہی ہے کہ ایسے تمام افراد جنہوں نے ان کیمپوں میں 28 دن گزار لئے ہیں اور جن کا ٹسٹ نگیٹیو آیا ہے ان کو اجازت دی جانی چاہئے کہ وہ گھر چلے جائیں یا جب تک لاک ڈاؤن جاری ہے دہلی میں کہیں اور رہ لیں۔‘‘
کمیشن نے اپنے خط میں کہا ہے کہ اس وقت دہلی کے کورونا قرنطینہ کیمپوں جیسے سلطان پوری، وزیرآباد، نریلا اور دوارکا وغیرہ میں ہزاروں ایسے قیدی موجود ہیں لیکن ان کیمپوں میں خوراک اور طبی دیکھ بھال کی فراہمی قابل اطمینان نہیں ہے۔
کمیشن نے مزید کہا کہ قرنطینہ میں موجود افراد میں عمر رسیدہ لوگوں کے ساتھ ساتھ ذیابیطس اور دل کی پریشانی جیسے صحت کے مسائل سے دوچار افراد بھی شامل ہیں۔ ان میں سے ذیابیطس کے دو مریض حالیہ دنوں میں مناسب طبی دیکھ بھال نہ ہونے اور بروقت ادویہ اور خوراک کی فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے سلطانپوری کیمپ میں وفات پا گئے۔
کمیشن نے اپنے خط میں کہا کہ یہ رمضان کا مہینہ ہے اور ان کیمپوں میں بیشتر مسلم نظر بند روزے رکھ رہے ہیں لیکن قرنطینہ مراکز کے موجودہ حالات میں انھیں سخت دقت پیش آرہی ہے۔
کمیشن نے کہا کہ ان افرادکے بلا وجہ نظر بند رکھنے سے مسلم معاشرے میں بے چینی پھیل رہی ہے اور اس کی وجہ سے کچھ لوگ عدالتی چارہ جوئی بھی کر سکتے ہیں۔
اسی سلسلے میں دہلی اقلیتی کمیشن کو معلوم ہوا ہے کہ وزیرآباد میں پولیس ٹریننگ اسکول میں چل رہے قرنطینہ کیمپ کی صورتحال اور بھی زیادہ خراب ہے۔ اس کیمپ کی نگرانی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ شمالی ضلع کرتے ہیں جو بظاہر اس کیمپ کے قیدیوں کے حالات سے غافل ہیں۔ یہاں بجلی کے پنکھے اور یہاں تک کہ مگ اور بالٹی بھی مہیا نہیں کی گئی ہے اور قیدیوں کو باہر سے کچھ بھی خریدنے کی اجازت نہیں ہے۔
سنیچر کورمضان کا پہلا دن تھا لیکن وزیر آباد کیمپ میں قیدیوں نے خالی پیٹ روزہ رکھا کیونکہ سحری کا کھانا فراہم نہیں کیا گیا۔ پھر سنیچر کی شام کو غروب آفتاب کے وقت افطار کرنے کے لئے ان لوگوں کو فی کس صرف دو عدد کیلے اور تین عدد کھجور مہیا کئے گئے اور کوئی باقاعدہ کھانا فراہم نہیں کیا گیا۔ اس وجہ سے جمعیۃ علماء نے آگے بڑھ کر ان لوگوں کو سحری کا کھانا مہیا کیا جو کیمپ کے منتظمین کے لئے شرم کی بات ہے۔
اس سلسلے میں کمیشن نے سنیچر کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ شمالی ضلع کو نوٹس جاری کیا۔ پھر اتوار کو یہ جاننے کے بعد کہ وزیرآباد کیمپ میں صورتحال بہتر نہیں ہوئی ہے ، کمیشن نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ شمالی ضلع کو دوسرا نوٹس ارسال کیا ہے جس میں ان کو ہدایت دی ہے کہ وہ سامان کی فراہمی کی ذاتی طور پر نگرانی کریں اور خصوصا بروقت مناسب خوراک نظر بند لوگوں کو پہنچائیں ۔