آرڈی گارڈی میں کورونا مریضوں کے علاج میں ہو رہی لا پرواہی :کانگریس کونسلر مایا ترویدی


اُجین24اپریل (نیا نظریہ بیورو) کورونا کی زد میں آنے والے لوگوں کے علاج میں لاپرواہی کا الزام کانگریس کونسلر محترمہ مایا راجیش ترویدی نے لگایا ہے۔ مایا ترویدی کے مطابق جن مثبت مریضوں کو آر ڈی گارڈ ی اسپتال میں لے جایا جا رہا ہے انہیں ڈاکٹر تک دیکھنے نہیں آ رہے جس کی وجہ وہ اپنی جان گنوانے کے لیے مجبور ہیں۔مایا راجیش ترویدی کے مطابق کلکٹر آفس میں تعینات دھرمیندر جوشی کی موت جمعہ کو ہوئی جس کا سبب انتظامیہ کی لاپرواہی رہی۔ مایا ترویدی نے بتایا کہ موت سے قبل دھرمیندر جوشی سے ان کی بات ہوئی تھی جس میں دھرمیندر جوشی نے فون پر کہا تھا کہ مجھے اسپتال سے باہر نکلوا دو نہیں تو میں نے یہاں مر جاﺅںگا۔ مجھے سانس لینے میں دقت ہو رہی ہے اور مجھے آکسیجن بھی نہیں دی جا رہی ہے۔ دو دن پہلے رات 12 بجے دھرمیندر جوشی نے خود ہی فون لگایا تھا کہ انہیں کورونا کی رپورٹ مثبت آئی ہے ، اس پر ہم نے انہیں تسلی دی تھی کہ آپ ٹھیک ہو جائیں گے ، علاج ہو گا کیونکہ اس سے پہلے بھی لوگ علاج سے ٹھیک ہو کر گھر آئے ہیں لیکن دوسرے ہی دن دھرمیندر نے کہا کہ یہاں کوئی علاج نہیں کیا جا رہا ہے ، کوئی ڈاکٹر دیکھنے کے لئے نہیں آ رہا ہے۔ دھرمیندر جوشی کے فون کے بعد مایا ترویدی کی جانب سے اے ڈی ایم جناب ڈابر کو اس معاملے سے آگاہ بھی کیا گیاتھا۔ جس میں انہوں نے ڈابر سے کہا تھاکہ آپ کے ڈپارٹمنٹ کے ملازم دھرمیندر جوشی کو آررڈی گارڈی لے کر گئے ہیں ، جہاں ایک بھی ڈاکٹر انہیں دیکھنے نہیں آیا۔ مایا ترویدی نے کہا کہ کیا آرڈی گارڈی میں لوگوں کو مارنے کے لئے لے جا رہے ہیں۔ یہ پہلی بار نہیں ہے جب کورونا کے مریض کے علاج میں لاپرواہی کی گئی ہے۔ ایسے ہی ماضی میں رام پرساد بھارگو ر مارگ ساکن فرزانہ خان شوہر ناصر خان کی موت سی ایچ ایل ہاسپٹل لے جاتے وقت صبح ہو گئی تھی ۔ لیکن سی ایچ ایل اسپتال نے باڈی کو صبح سے شام تک صرف یہ کہہ کر رکھے رکھا کہ ان کا نمونہ لینا ہے۔ لواحقین پریشان ہوتے رہے اور فرزانہ کی لاش کو لے کر آنے میں انہیں پورا دن لگ گیا ۔