دال ، چاول کی ڈمانڈ میں 10 گنا اضافہ:


لاک ڈاو¿ن کی مدت بڑھنے کے خوف سے گھروں میں خوردنی اشیاءاسٹاک کر رہے ہیں لوگ
بھوپال:24اپریل(نیانظریہ بیورو)
کورونا وائرس کے پیش نظر ملک اور ریاست میں لاک ڈاو¿ن نافذ ہے۔ لاک ڈاو¿ن کے دوران دال اور چاول کی ڈمانڈ میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ یہ مطالبہ عام دنوں سے 10 گنا بڑھ گیا ہے۔ لاک ڈاو¿ن میں انبار شدہ اناج کی معمولی کمی تھی ، لیکن حکومت کی جانب سے ضروری سامان کی نقل و حمل پر چھوٹ کے بعد دال چاول کی مناسب فراہمی کی جارہی ہے۔
راجدھانی کے تھوک اورفٹکر تاجر کمل نے بتایا کہ دال چاول کی طلب میں عام دنوں کے مقابلے میں 10 گنا اضافہ ہوا ہے۔ مثال کے طور پر اس نے بتایا کہ ، جہاں عام دنوں میں ، جولوگ چاول اوردال سوروپے کے خریدرہے تھے ،وہیں اب لاک ڈاو¿ن میں 1000 روپے کی دالیں اور چاول خریدے جارہے ہیں۔ نیز چھوٹے دکانداروں کو خاطر خواہ سپلائی کی جارہی ہے۔ تاہم ، چھوٹے دکانداروں کا کہنا ہے کہ انہیں نقل و حمل میں پریشانی کا سامنا ہے اور کچھ سامان کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اسی کے ساتھ ، چھوٹے تاجر دالیں ،چاول ، چینی اور پوہا کی مانگ میں بھی اضافہ کی بات کر رہے ہیں۔
خیال کیا جاتا ہے کہ لاک ڈاو¿ن کے دوران کورونا وائرس کے خطرہ کی وجہ سے لوگ سبز سبزیوں کے استعمال سے بھی گریز کررہے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جیسے جیسے راجمہ چاول اور دالوں جیسے کھانوں کی طلب میں اضافہ ہوا ہے ، بڑھتی ہوئی طلب کی دوسری بڑی وجہ کہیں لوگوں میں لاک ڈاو¿ن کا خوف بھی بتایاجارہا ہے۔ لوگ پریشان ہیں کہ اگر لاک ڈاو¿ن اسی طرح جاری رہا تو دال چاول جیسی خوردنی اشیا دستیاب نہیں ہوں گی۔ اسی خوف کی وجہ سے بہت سے لوگوں نے اپنے گھروں میں دال چاول کا ذخیرہ بھی رکھا ہوا ہے۔