سابق وزیرکا مہاراج پر حملہ:


کانگریس اور عوام کو غلام سمجھتے تھے،بی جے پی نے بتادی حیثیت:گووندسنگھ
بھوپال /گوالیار:24اپریل(نیانظریہ بیورو)
کابینہ کی تشکیل کے بعد سے وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ جتنا اپوزیشن کے نشانے پر نہیں ہےںا س سے زیادہ جیوتی رادتیہ سندھیا نشانے پر ہیں۔کانگریس کے کئی سینئر لیڈر اسے سندھیا کی پہلی ہار اور بی جے پی کے ذریعہ انہیں دیا گیا پہلا جھٹکا بتارہے ہیں۔ اب کانگریس کے سینئر لیڈر سابق وزیر لہار ایم اےل اے ڈاکٹر گووند سنگھ نے سندھیا پر نشانہ سادھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چوبے جی چھبے بننے گئے تھے،دوبے رہ گئے۔ بی جے پی نے ان کی حیثیت دکھا دی۔گوالیار میں سٹی سینٹر علاقے میں اپنے نجی مکان میں چنندہ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سینئر ایم ایل اے اور سابق وزیر گووند سنگھ نے کہا کہ کابینہ کی تشکیل وزیراعلیٰ کے حقیقی حلقہ کا معاملہ ہے ،لیکن ہمارے گوالیار حلقے کے لیڈر جیوتی رادتیہ سندھیا جو اپنے آپ کو ،ہج ہائنیس ،سمجھتے تھے جو اس حلقے کے کانگریس کارکنان کو غلام سمجھتے تھے،جو ان پر تاناشاہی چلا رہے تھے، بی جے پی نے ان کو ان کی حیثیت بتادی ہے۔ ڈاکٹر گووند سنگھ نے طنز کستے ہوئے کہا کہ چوبے جی چھبے بننے گئے تھے دوبے رہ گئے۔ انہوں نے کہا کہ سندھیا جی نے شیوراج سنگھ ،جے پی نڈا اور امت شاہ کے یہاں خوب چکر کاٹے، در در بھٹکے لیکن بی جے پی نے کہہ دیا حیثیت میں رہئے۔ سابق وزیرنے کہا کہ انہیں کانگریس میں بہت عزت ملی ،بی جے پی میں ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر گووند سنگھ نے کہا کہ بی جے پی نے گمراہ کرکے حکومت بنائی ہے ،ہمارے لوگوں کو توڑا ہے اس کا جواب عوام ضمنی انتخابات میں دےگی۔کس کی کتنی حیثیت ہے،سب آٹے دال کی قیمت کا پتہ چل جائیگا۔ وہیںایک اور سوال کے جواب میں ڈاکٹرسنگھ نے کہا کہ اگر سندھیا جی اتنے بڑے لیڈر تھے تو خود اپنے ہی کارکن سے سوالاکھ ووٹوں سے کیوں ہارے۔ان میں اگر طاقت تھی،وہ ٹکٹ دلاتے تھے،جتا تے تھے تو پھر خود کیوں ہار گئے۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنے حلقے کی عوام پر ڈکٹیٹر شپ چلاتے تھے، غلام سمجھتے تھے اسلئے عوام نے ہی ہرا دیا ۔سابق وزیر نے کہا کہ اب آزادی کے 75سال ہونے والے ہیں، غلامی چلی گئی ، ان جیسے کئی جیوتی رادتیہ ابھی بھی کانگریس میں ہیں جو ان سے زیادہ طاقتور ہیں،انتخابات میں سب معلوم ہوجائے گا۔