رائسین کے قلع سے افطاراورسحری کےلئے چلنے والا توپ اس مرتبہ نہیں چلے گا

200 سالہ قدیم روایت پرقدغن:

بھوپال/رائسین:24اپریل(نیانظریہ بیورو)
عالمی وبا کی وجہ سے پورے ملک میں لاک ڈاو¿ن ہے۔ کورونا کی وجہ سے ، اس بار رائسین میں 200 سال سے چل رہی توپ چلاکرروزہ افطارکرنے والاسلسلہ اس مرتبہ نہیں دہرایا جائے گا۔واضح رہے کہ رمضان المبارک کے مہینے میں رائسین قلعے سے توپ کا چلاکر سحری اور روزہ افطارکرنے کی روایت رہی ہے۔ اس توپ کی آواز کے ساتھ ہی ضلع کے آس پاس کے 50 گاو¿ں ، ختم سحری اور روزہ افطار کیاکرتے تھے۔۔
200 سال پرانی روایت:
بتایاجاتاہے کہ توپ کی فائرنگ کے عارضی لائسنس کی درخواست مسلم تہوار کمیٹی کو دی گئی ہے ، لیکن اس مرتبہ پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ ساتھ معاشرے کے لوگوں نے توپ نہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ در حقیقت ، رائسین میں کورونا مثبت مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور یہ تعداد 26 ہوگئی ہے۔ یہ شہر ریڈ زون میں آچکا ہے اور مکمل طور پر لاک ڈاو¿ن ہے ، اسی وجہ سے اس مرتبہ توپ نہ چلانے کا فیصلہ متفقہ طور پر لیا گیا ہے۔
مسلم تہوار کمیٹی کے چیئرمین یامین محمد بابو بھائی نے بتایا کہ رمضان کے مہینے میں پرانی روایت کے مطابق تقریباً 50 گاو¿ں کے لوگ رائسین قلع سے چلنے والی توپ کی آواز سے ہر سال سحری اور افطارکرتے آرہے ہیں۔ یہ اپنی نوعیت کی ایک انوکھی روایت ہے ، اس روایت کو ضلع انتظامیہ نے بھی برقرار رکھا تھا۔ لہذا ، ضلع کلکٹر ہر سال مسلم تہوار کمیٹی کو رائسین قلع سے یہ توپ چلانے اور رمضان کے مہینے کی ایک محدود مدت کے لئے لائسینس کی اجازت دیتے ہیں۔
بتایاجاتاہے کہ نوابی دور کے زمانے سے ہی ، رمضان کے مہینے میں یہاں توپ چلاروزہ افطار اورختم سحری کا اشارہ ملتا رہا ہے۔ معلومات کے مطابق اس توپ کا پہلا لائسنس 1956 میں اس وقت کے کلکٹر بدری عالم نے جاری کیا تھا۔ رمضان کے مہینے کے بعد یہتوپ ٹھیک طریقے سے کلکٹریٹ اسٹور میں جمع کی جاتی ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ عید کے چاند دیکھنے کے بعد یہی توپ دس بارہ مرتبہ چلاکر اشارہ کیاجاتا ہے۔واضح رہے کورونا کی وبا کی وجہ سے ، مسلم تہوار کمیٹی نے مسلم مذہبی رہنماو¿ں سے مشورہ کرنے کے بعد اس بار توپ نہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مساجد کی بجائے گھر پر ہینماز پڑھنے کی اپیل کی گئی ہے۔