حکومت غریبوں کے چاول سے امیروں کا سینیٹائز بنا رہی ہے: راہل گاندھی

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے چاول سے سینیٹائز بنانے کی حکومت کی منصوبہ بندی پر حیرانی ظاہر کرتے ہوئے اسے لاک ڈاؤن کی وجہ سے فاقہ کشی کا سامنا کرنے والے لوگوں کے ساتھ ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے غریبوں کو وقت رہتے اپنے حق کے لئے لڑنا چاہیے۔ راہل گاندھی نے ٹوئٹ کیا کہ ’’آخر ہندوستان کا غریب کب جاگے گا؟ آپ بھوکے مر رہے ہیں اور وہ آپ کے حصے کے چاول سے سینیٹائزر بنا کر امیروں کے ہاتھوں کی صفائی میں مصروف ہیں۔‘‘
اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک خبر بھی پوسٹ کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کورونا بحران کے درمیان حکومت کا یہ فیصلہ تنازعہ پیدا کر رہا ہے کہ جب لاک ڈاؤن کے سبب لوگ فاقہ کشی کے دور سے گزر رہے ہیں اور حکومت ان کے حصے کے چاول سے سینیٹائزر بنانے کا فیصلہ کر رہی ہے۔
این ڈی ٹی وی کی خبر کے مطابق ملک میں جاری کورونا بحران کے درمیان حکومت کے فیصلہ پر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے جس میں اس نے گوداموں میں موجود چاول کا استعمال ہینڈ سینیٹائزروں کی سپلائی کے لئے ضروری ایتھینال بنانے میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ چاول سے ایتھینال تیار کیا جائے گا تاکہ لوگوں کو سینیٹائزر آسانی سے دستیاب ہو سکے گا۔
حکومت نے یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا ہے جب لاک ڈاؤں کے سبب لاکھوں کی تعداد میں مہاجر مزدور بھکمری کی کگار پر پہنچ گئے ہیں۔ حکومت نے قومی حیاتیاتی ایندھن منصوبہ بندی 2018 (نیشنل بایوفیول پالیسی 2018)، جوکہ اضافی اناج کو ایتھینال میں بدلنے کی منظوری دیتا ہے، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا فیصلہ پٹرولیم کے وزیر دھرمیندر پردھان کی صدارت میں ہوئی قومی حیاتیاتی ایندھن تعاون کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔