لاک ڈاون کے پیش نظر مساجد کمیٹی کے زیراہتمام چندہدایات مسلمانوں کے نام


بھوپال:20اپریل(نیانظریہ بیورو)
رمضان کا مبارک و مقدس مہینہ شروع ہو رہا ہے ۔ جو ایک برکت ،رحمت،صبر اور غم گساری کا مہینہ ہے۔ اس ماہ کے روزے اللہ نے فرض فرمائے ہیں ۔ اس ماہ میں اللہ نے قرآن پاک نازل فرمایا جو پوری انسانیت کو سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔تراویح کو سنت مو¿کدہ قرار دیا گیا۔فی الحال کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاﺅن چل رہا ہے جس کی پابندیوں کا پورا پورا لحاظ کرنا ضروری ہے۔
٭اپنے بدن، کپڑے گھر سے باہر اور مسجدوں کو بالکل صاف رکھنے کا اہتمام کریں۔٭فرض نماز اور تراویح اپنے گھروں میں پڑھیں۔ مسجدوں میں امام مو¿ذن کے علاوہ مشورہ سے تین مقتدی طے کر لئے جائیں۔ مشورہ میں طے نہ ہونے کی صورت میں مسجد کے صدر سکریٹری اور خزانچی مقتدی ہوں گے۔ امام صاحب مشورہ کے امیر ہوں گے۔ جس طرح ایک ماہ سے نماز پڑھ رہے ہیں اسی طرح پڑھیں۔ مسجدوں میں ان کے علاوہ کوئی اور نماز پڑھنے کی کوشش نہ کریں۔ اس مصیبت و وبا کی بنا پر جو نمازیں گھر میں ادا کریں گے۔ انشاءاللہ اس کا پورا ثواب ملے گا۔مسجد یا گھر میں جہاں حافظ کا بآسانی انتظام ہو سکے وہاں مکمل قرآن پاک سن سکتے ہیں ورنہ الم تر کیف سے تراویح ادا کریں۔٭لاک ڈاﺅن کے زمانہ میں جمعہ کے دن گھروں میں ظہر کی نماز ادا کریں۔ مسجدوں میں صرف امام مو¿ذن ، صدر و سکریٹری اور خزانچی نماز پڑھیں۔٭ترایح یا کسی بھی نماز میں گھروں میں پڑوسی جمع نہ ہوں۔ صرف گھر والے نماز پڑھیں۔ جماعت سے نماز پڑھنے کا اہتمام کریں۔مغرب کی اذان جنتری کے وقت کے مطابق دی جائے،روزہ افطار گولوںکی آواز یا اذان کی آواز پر کیا جائے۔بعض مرتبہ دھوکہ میں یا شرارتاً گولے وقت سے پہلے چلنے لگتے ہیں اس سے دھوکہ نہ کھائےںوقت بھی دیکھ لیا کریں۔٭جنتری میں صبح صادق کا جووقت لکھا ہے اس میں دس منٹ پہلے سحری ختم کریں۔صبح صادق کے پانچ منٹ بعد فجر کی اذان دیں۔ باشرع مو¿ذن خوبصورت لہجے میں تجوید کی رعایت کے ساتھ اذان دیں۔٭انتظامیہ ، پولس، صفائی عملہ، ڈاکٹرس ، نرس وغیرہ کے ساتھ اچھا برتاﺅ کریں اچھے کاموںپر ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ ان کے ساتھ کسی طرح کی بدسلوکی نہ کریں۔٭موبائل پر جھوٹی اور نفرت پھیلانے والی باتیں نہ ڈالیں۔
٭سحر و افطار کے وقت ساری انسانیت کے لئے خیر کی دعاکریں اور اس وبا سے نجات و حفاظت کو مانگیں۔٭اپنے خرچ پر کنٹرول کر کے غریب نادار لوگوں پر خوب خرچ کریں ان کی ضرورتوں کا خیال رکھیں ، زکوٰة پوری پوری ادا کریں۔٭صدقہ فطر فی نفر ایک کلو چھ سو تینتیس گرام گیہوں یا اس کی قیمت پچاس (۰۵) روپئے ہے جس کو رمضان میں یا رمضان سے پہلے ادا کر سکتے ہیں۔٭وبائی امراض کے موقع پر شریعت نے جو رہنمائی کی ہے اس کے مطابق عمل کریں۔ شوق پورا کرنے کا نام دین نہیں ہے بلکہ شریعت کو ماننے کا نام دین ہے۔ ٭کرونا وائرس ایک وبا ہے جس کا شکار کوئی بھی ہو سکتا ہے ۔ا س کو کسی مذہب سے جوڑنا انصاف کے خلاف ہے۔سب کو مل کر ہر طرح کی خفاظتی تدابیر اختیار کرنا چاہےے۔واضح رہے کہ بروزپیر شہر قاضی سید مشتاق علی ندوی نے مساجد کمیٹی دفترمیں ایک بار پھر اعلان کیا کہ رمضان کے مہینے میں ہر ایک کو اپنے گھروں میں نماز پڑھنی چاہئے۔ مساجد کمیٹی دفترمیں سوشل ڈسٹینس کالحاظ رکھتے ہوئے منعقدہ ا میٹنگ میں نائب شہر قاضی سید بابر حسین ، مفتی محمدابوالکلام ، مفتی رئیس احمد قاسمی ، قاری جسیم داد ، مسجد کمیٹی کے صدر عبد الحفیظ ، سکریٹری ایس ایم سلمان موجود تھے۔ اس موقع پر قاضی سید مشتاق علی ندوی نے کہا کہ رمضان کا روزہ ہے ، اسے کسی بھی حالت میں نہیں چھوڑاجائے گا۔