کورونا کی دہشت کے درمیان فرقہ پرستی بھی عروج پر، سبزیوں میں مذہب تلاش کر رہے لوگ!

بشواجیت بنرجی
ہندوستان میں گزشتہ ایک مہینے میں بہت کچھ بدل گیا ہے۔ کورونا وائرس انفیکشن کے بڑھتے اثرات کے درمیان کئی لوگوں کی طرز زندگی بدل گئی ہے تو کئی لوگوں نے اپنا ذریعہ معاش ہی بدل دیا ہے۔ بیشتر لوگ تو گھروں میں بیٹھے کورونا ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ تقریباً ایک ماہ پہلے تک چنّو بڑھئی کا کام کرتا تھا، رفیق کباڑ کا اور مدثر کی سڑک کے کنارے بال-داڑھی بنانے کی دکان تھی۔ لاک ڈاؤن نافذ ہونے کے بعد ان کی دنیا جیسے پوری طرح بدل گئی۔ چونکہ سب کے کام ٹھپ ہو گئے تھے اس لیے ان لوگوں نے کچھ دوسرا کام کر کے پیٹ پالنے کا فیصلہ کیا۔ یہ لوگ محلے محلے پھیری لگا کر سبزیاں بیچتے ہیں، لیکن اس طرح سے دانا پانی حاصل کرنے میں مذہب ایک بڑی رکاوٹ بنتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
بیشتر مسلمان جو اپنا روایتی پیشہ چھوڑ کر سبزی اور پھول بیچنے کا کام اس لاک ڈاؤن کے درمیان کر رہے ہیں، ہندو طبقہ ان سے دوری بناتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ لوگوں نے یہ جاننے کا ذریعہ تلاش کر لیا ہے کہ ان کے محلے میں آنے والا ہاکر ہندو ہے یا مسلمان۔ وہ ان کے پاس آتے ہیں اور رام رام کہتے ہیں۔ جو اس کا جواب اسی طرح دیتے ہیں، انھیں تو گاہک مل جاتا ہے، اور باقی کو نہیں۔ پہلے گھر گھر جا کر کباڑ خریدنے کا کام کرنے والا رفیق کہتا ہے “میں اپنا پیشہ تو بدل سکتا ہوں، مذہب نہیں۔ آلو پیاز یا پھل کا کسی مذہب سے کیا لینا دینا۔”
پہلے بڑھئی کا کام کرتے رہے چنّو کو صوفہ سیٹ یا کرسی بنانے، ٹھیک کرنے میں 400 سے 500 روپے روزانہ کی کمائی ہو جاتی تھی۔ اس کی سڑک کے کنارے چھوٹی سی دکان تھی۔ لاک ڈاؤن نافذ ہونے کے بعد پولس نے اسے بتا دیا کہ ان دنوں وہ اپنی دکان نہیں کھول سکتا۔ اس نے کہا کہ شروع میں تو کچھ دن میں گھر پر ہی رہا۔ لیکن جب پاس کی جمع پونجی ختم ہونے لگی تو میرے ایک دوست نے مشورہ دیا کہ کیوں نہ وہ پھیری لگا کر سبزیاں بیچنے کا کام شروع کر دے۔ لوگ ان دنوں گھر سے باہر نکلنے سے گریز کر رہے ہیں اور اگر انھیں اپنے دروازے پر سبزیاں ملنے لگیں گی تو وہ خریدنے لگیں گے اور اس کی آمدنی بھی ہو جائے گی۔ وہ اس کے لیے تیار ہو گیا اور اس طرح اس نے یہ دھندا شروع کر دیا۔
وہ اب روزانہ تقریباً 200 روپے کما لیتا ہے۔ لیکن اس میں اسے 50 روپے کرایہ دینا پڑتا ہے جس شخص سے اس نے ٹھیلہ لیا ہے۔ وہ کہتا ہے “پھر بھی کچھ تو کمائی ہو ہی جاتی ہے۔ دو بچوں، بیوی، ماں اور دو چھٹے بھائیوں کے کھانے پینے کے لیے پیسہ تو چاہیے ہی۔ فی الحال کسی طرح گزر بسر کرنے کے لیے اتنی آمدنی تو ٹھیک ہی ہے۔”
رفیق پہلے کباڑی کا کام کرتا تھا۔ وہ گھر گھر جا کر اخبار، ردّی، پرانے کولر وغیرہ خرید لاتا تھا۔ اس نے کہا “میں جہاں یہ سب کام کرتا تھا، ان محلوں کو میں ٹھیک سے جانتا رہا ہوں۔ آخر دس سال سے میں یہ دھندا کر رہا ہوں، تو کئی لوگ مجھے ٹھیک سے جانتے ہیں، بلکہ کئی تو ایسے ہیں جنھیں اخبار وغیرہ بچینا ہو تو میرا انتظار بھی کرتے ہیں۔” اس نے مزید بتایا کہ “جب لاک ڈاؤن ہوا تو میں نے پھل و سبزی بیچنے کا فیصلہ کیا۔ میرے پاس چار پہیہ ٹھیلہ تھا ہی۔ اب میں انہی محلوں میں یہ دھندا کر رہا ہوں جہاں میں کباڑ خریدنے کا کام کرتا تھا۔”
لیکن اس وقت جو ماحول ہے، یہ کام بہت آسان نہیں رہ گیا ہے۔ رفیق نے کہا کہ “ہمیں دقت اس لیے ہو رہی ہے کیونکہ ہم مسلمان ہیں۔ جو غیر مسلم ہیں وہ ہم سے کنارہ کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ سوشل میڈیا میں چل رہے وہ ویڈیوز ہیں جس میں کچھ مسلمانوں کو پھلوں اور سبزیوں پر تھوکتے ہوئے دکھایا جا رہا ہے۔ کئی ہندو ہم سے پھل-سبزی لینے میں کتراتے ہیں۔ ویسے، ایسا بھی نہیں ہے کہ سبھی ہندو ایسا کر رہے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ سبزی وغیرہ خریدنے سے پہلے مجھ سے میرا نام پوچھتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنی بات چیت رام رام کہہ کر شروع کرتے ہیں۔ جب ہم کوئی جواب نہیں دیتے تو وہ یہ کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ تم مسلمان ہو کیا!”
ایسا بھی ویڈیو وائرل ہو رہا ہے جس میں لوگ وینڈروں سے ان کا شناختی کارڈ مانگ رہے ہیں۔ ایک ویڈیو میں کچھ لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا جا رہا ہے کہ وہ صرف ہندو وینڈروں سے ہی سامان خریدیں گے۔ انہی اسباب سے چنّو اب پھل نہیں، صرف سبزی بیچتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ گرمی آ گئی ہے تو کیلا اور انگور جلدی خراب ہو جاتے ہیں۔ لوگ ہم لوگوں سے پھل خریدنے سے پرہیز بھی کرتے ہیں۔ ابھی کل ہی مجھے تقریباً 150 روپے کا نقصان ہو گیا۔ اس لیے اب میں نے صرف آلو-پیاز بیچنے کا فیصلہ کیا ہے۔” وہ مزید کہتا ہے کہ “اب حکومت نے لاک ڈاؤن 3 مئی تک بڑھا دیا ہے۔ یہ بھی نہیں پتہ کہ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد کیا ہوگا۔ یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ تب بھی میں اپنی دکان کھول پاؤں گا یا نہیں۔ تب تک اسی طرح ٹھیلے پر سبزی بیچ کر اپنی روزی روٹی چلانی ہے، چاہے لوگ اسے خریدیں یا نہیں۔”
انٹرنیشنل ہندو پریشد کے ریاستی سربراہ وید پرکاش سچان ان لوگوں میں سے ہیں جنھوں نے مسلمانوں سے سبزیاں اور دیگر چیزیں نہ خریدنے کی اپیل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں “ہندوؤں کو مسلم تاجروں کے پاس جانا ہی کیوں چاہیے؟ ہم لوگ ایسے ویڈیو دیکھ رہے ہیں جن میں گاہکوں کو بیچنے سے پہلے مسلمان تھوک لگا رہے ہیں۔ مذہب کی بات تو چھوڑیے، یہ تو صحت کے لیے بھی خطرناک ہے۔”
اس طرح کے ویڈیو اور اس طرح کی اپیل کا اثر بہت ہو رہا ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے منیش شرما اب صرف ہندوؤں سے ہی سبزی خریدنے لگے ہیں۔ وہ بھی یہی بات کہتے ہیں کہ “آپ نے دیکھا نہیں کہ مسلمان بیچنے سے پہلے کس طرح سبزیوں پر تھوک لگا رہے ہیں۔ ایسے ایک شخص کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ نہ بابا، ہم بھوکوں مر جائیں گے لیکن کسی مسلمان وینڈر سے پھل اور سبزی نہیں خریدیں گے۔”
ویسے کچھ سمجھدار لوگوں نے ویڈیو جاری کر لوگوں سے اپیل بھی کی ہے کہ پھل-سبزی فروخت کرنے والے کا مذہب نہ دیکھیں اور ہر کسی سے خریداری کریں۔ لیکن چنّو جیسے لوگوں کو ایسی امید نہیں کہ حالات بہتر ہوں گے۔ بہر حال، جیسا کہ عموماً ہوتا ہے، سوشل میڈیا میں اس طرح کی مہم چلنے یا لوگوں کے رویہ میں تبدیلی کی جانکاری اب تک پولس انتظامیہ کو نہیں ہے۔ ایک مقامی پولس انسپکٹر نے کہا کہ “اس طرح کی شکایت یا خبر لے کر اب تک کوئی نہیں آیا۔ جب تک شکایت آئے گی نہیں، ہم کوئی کارروائی نہیں کر سکتے۔”