مسلسل چوتھے جمعہ کوبھی خاموش رہی میناریں اورخالی رہیں مساجد


لاک ڈاو¿ن کی اگلی تاریخ 3 مئی ہے، دوجمعہ اور اسی حال میں گزریں گی،اس دوران دوچارافرادسے زیادہ مساجد میں نمازادانہیں کرسکتے
بھوپال :17اپریل(نیانظریہ بیورو)لاک ڈاو¿ن کا پچیسواںدن مکمل ہوچکا ہے ، اس دوران شہر کی مساجد کوکورونا کے خوف نے ویران کردیا ہے۔ چند نمازیوں کی موجودگی میںنمازوں کی ادائیگی کے درمیان یہ چوتھا جمعہ تھا جب مساجد میں اجتماعی طورپرنماز نہیں پڑھی گئی۔ لاک ڈاو¿ن کی اگلی تاریخ 3 مئی ہے اور فی الحال دو اورجمعہ اسی انداز میں گزریں گی۔ مساجد بھی رمضان کے مہینے کی آمد سے قبل بارونق ہوجایاکرتی تھیں جو اس عرصے کے دوران شروع ہوتی ہیں۔لیکن ابھی تک مساجد بھی خالی اورسونی نظرآرہی ہیں۔چونکہ لاک ڈاو¿ن پورے ملک میں نافذ ہے۔اس دوران مہلک وباءسے بچنے کے لئے یہ تدابیراختیارکی جارہی ہےں۔ غورطلب ہے کہ شہر قاضی سید مشتاق علی ندوی نے لاک ڈاو¿ن کے آغاز پر مساجد میں اجتماعی طورپرنماز پڑھنے سے منع کردیاتھا۔ اس کے بعد سے چار جمعہ نماز پڑھے بغیر گزر گئی ہیں۔ شہر قاضی کے اعلان کے مطابق دو چار لوگ شہر کی تمام مساجد میں نماز پڑھ رہے ہیں۔ جبکہ دوسرے اپنے گھروں میں نماز پڑھ رہے ہیں۔ اگلے حکم تک اجتماعی طورپرنماز پڑھنے پر پابندی 3 مئی تک جاری رہے گی۔ اس کے بعد حکومت اور انتظامیہ کے ذریعہ دی جانے والی اگلی گائیڈ لائن کو عملی جامہ پہنایاجائے گا۔
ایک سو پچاس سے زائد نمازیں بغیر امام کے پڑھی گئیں:
واضح رہے کہ گزشتہ24 مارچ سے مساجد میں اب تک تقریبا ایک سو پچاس سے زائد نمازیں بغیر امام کے بغیر ادا کی گئیں۔ لاک ڈاو¿ن کی صورتحال کے پیش نظر ، 3 مئی تک گھر وںمیں تقریباً اسّی نمازیں اور لوگوں کو ادا کرنی ہے۔ مسجد میں پانچ وقت کی نماز کے دوران ہزاروں افراد روزانہ شہر کی سیکڑوں مساجد میں پہنچتے ہیں۔لیکن باجماعت نماز پڑھے بغیرلوٹ جاتے ہیں کیوں کہ مساجد میں 3یا4لوگوں سے زیادہ افراد ایک ساتھ نماز ادانہیں کرسکتے۔جس کی وجہ سے انہیں واپس گھرجاکرنماز اداکرنی پڑتی ہے۔
شب برا¿ت قیدمیں گزاری ، اب رمضان کی فکر:
لاک ڈاو¿ن کی صورتحال کے دوران مسلم برادری کا ایک اہم عبادت کی رات شب برات قیدمیںگزر گیا۔ فرزندان توحید نے اس رات قبرستان کی زیارت اور مساجد میں تلاوت نہیں کی ، لیکن لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے لوگ اپنا کام مکمل نہیں کرسکے۔ اب لاک ڈاو¿ن کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے چند دن بعد شروع ہونے والی رمضان المبارک کی نمازیں بھی متاثر ہورہی ہےں۔ جبکہ سحری اور افطارکے انتظامات رمضان المبارک میں مساجد میں ہوتے ہیں ، توپ کے گولوں کی آوازکے ساتھ افطارکرنے کا رواج بھی بھوپال میں موجود ہے، جواس مرتبہ نہیں ہونے کاامکان ہے۔اس سے لوگوں کوقاضی شہرنے آگاہ کردیاہے۔ اس کے علاوہ رمضان المبارک کی خصوصی نماز تراویح شہر کی سیکڑوں مساجد میں ادا کی جاتی ہے۔ لاک ڈاو¿ن کی صورتحال کی وجہ سے اس مرتبہ یہ پورا نہیں ہونے کاامکان صاف نظرآرہاہے۔
نہ افطار پارٹی ، نہ بازارمیں رونق :
شہر بھوپال میں نوابی روایت میں شامل افطار پارٹیوں کی رونق اوراس کااہتمام و انتظامات اس بار نظر نہیں آئیں گے۔ ریاست بھر میں مشہور وزیر اعلی کی رہائش گاہ کے افطار پارٹی سے ہر شام اقبال میدان پر سجنے والے دسترخوان کے نظارے اس بار نظر نہیں آئیں گے۔ افطار اور تراویح سے لے کر ، رات بھرعبادتوں کے خیالات ، اس بار بھی شہر سے غائب ہیں۔ اسی طرح چوک بازار مارکیٹ ، جو رمضان اور عید کی خریداری کے لئے رات بھر کھلا رہتا ہے ، لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے اس مرتبہ یہ نظارہ دیکھنے کونہیں مل سکتا ہے۔