لاک ڈاؤن: ہمارے لئے قرآنِ حکیم ہی مَنارۂ نور ہے !

(محمد قاسم ٹانڈؔوی=09319019005)
موجودہ وقت میں ہم ہندوستانیوں سمیت کل دنیا کی نصف سے زائد آبادی نے “کورونا وائرس” نامی عالمی وبا کے ڈر خوف کے سبب خود کو اپنے گھر مکان کی چہار دیواری میں قید و بند کر رکھا ہے۔(اور اللہ ہی زیادہ جاننے والے ہیں کہ کب اس آفت ناگہانی اور بلائے آسمانی سے انسانی معاشرے کو چھٹکارا حاصل ہوگا اور کب لوگوں کو امن و سکون میسر ہو گا تاکہ ان کی زندگی کی گاڑی پہلے کی مانند رواں دواں ہو کر آسان ہو سکے؟)
مگر اتنا طے ہےکہ عالمگیر پیمانے پر پھیلنے والی اس بیماری نے انسانی اذہان کے خلیوں میں بالخصوص ترقی یافتہ ممالک کے روشن خیال افراد کو اس امر بدیہی کے تئیں پختہ یقین اور ایک ذات باری کا تیقن کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہےکہ:
“انسانی دماغ کی بنیاد پر کی جانے والی تمام تر کھوج و بین اور تلاش و تحقیق؛ قدرت کی طرف سے صادر ہونے والے فیصلوں کا مقابلہ کرنے میں ابھی بھی نامکمل اور ناقص و ادھوری ہے؟ اور یہ کہ تم جیسے انسان؛ گرچہ تحقیق و ترقی کے میدان میں زمانہ کے امام بنے کھڑے ہیں، مگر ان کے پاس آج بھی ہر مشکل مسئلہ کا حل یا مصیبت و پریشانی میں مبتلا انسانیت کو بچانے اور نجات حاصل کرانے کا کوئی مستحکم نظام، نظریہ اور کیمیائی نسخہ ابھی بھی پلے میں نہیں ہے؟
یہی وجہ ہےکہ جب ہم کو اس وبا سے نمٹنے میں تمام اسباب و وسائل مفقود ہوتے نظر آئے تو ہم نے اپنی علمی بساط اور حاصل شدہ توفیقِ خداوندی کے طفیل قرآنی آیات سے مستنبَط مگر مختصر اور بامعنیٰ جملے فِقروں کے مفہوم کو آسان زبان میں ڈھال کر اپنے “واٹس اپ اسٹیٹس” پر چسپاں کر خود سے وابستہ احباب کی خدمت میں حاضر کرنا ضروری تصور کیا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے، جنہیں بروقت غور و تدبر کے ساتھ پڑھ کر بےانتہا پسندیدگی کا اظہار بھی کیا جاتا رہا اور مزید اس اصرار بھی کہ ہفتے بھر کے ان اسٹیٹس کو افادۂ عام و استفادۂ تام کی غرض سے حوالۂ قرطاس و قلم کر دیا جائے تو بہت بہتر و مناسب ہوگا تاکہ اس انوکھے سلسلہ کے افادہ کو دائرۂ محدود سے نکال کر غیر محدود دنیا کے حوالے کیا جا سکے۔ اسی عظیم مقصد کے تحت آج کی یہ تحریر اخبارات کے خصوصی کالم “اسلامیات” یا بروز جمعہ شائع ہونے والے “مذہبی صفحات” کی اشاعت کےلئے ارسال خدمت کی جا رہی ہے۔
بہر کیف! عالمی سطح پر پھوٹنے والی “کورونا وائرس” نامی ہلاکت خیز بیماری اور آزمائشی گھڑی کی بابت اس ہفتے کا ہمارا پہلا اسٹیٹس تھا:
﴿لَنْ یَّتِرَکُمْ أَعْمَالَکُمْ﴾
اس بات پر ہمارا اعتقادِ کُلّی ہونا چاہئے کہ:
“ہرطرح کی خیر و شر اور نفع و نقصان کا مالک اللہ ہی ہے”۔
اب امتحان و آزمائش کے وقت کسی طرح کی گھبراہٹ و بےچینی میں مبتلا ہونا یہ ایک خدا کی ذات پر یقین رکھنے اور اس کے احکام کی پابندی کرنے والوں کو ہرگز زیبا نہیں دیتا؛ بلکہ پُرآشوب حالات میں صبر و اِستقلال اور احکامِ الہی پر ثابِت قدمی کے ساتھ اللہ کی مدد اور اس کی مہربانی کا طالب ہونا چاہئے، وہ ذات آخرکار ہمیں غلبہ بھی عطا فرمائےگی اور گھاٹے نقصان سے بھی (إن شاءاللہ العزیز) بچائےگی۔
کورونا سے لڑنے اور اس سے پیچھا چھڑانے کےلئے ہمارے وزیراعظم ‘عوامی کرفیو’ کے دوران ہی 09/اپریل کو رات 09/بجکر 09/منٹ پر ملک بھر کے عوام سے ایک اور ٹوٹکا آزمانے کی اپیل کرتے ہیں، اس بابت ہم نے اہلِ ایمان کو اپنے اعمال کی حفاظت کرنے اور کسی خوش فہمی میں مبتلا ہو کر ان کو برباد کرنے سے بچانے کی اپیل اس طرح سے کی ،اور یہ دوسرا اسٹیٹس تھا:
﴿لَاتُبْطِلُوْآ أَعْمَالَکُمْ﴾
شریعتِ مُطہرہ میں عِبادت و رِیاضت اور ہرقسم کے مُجاہدہ میں قبولیت کی مُہر اس وقت لگتی ہے جسے اللہ اور اس کے پیارے رسول (ﷺ ) کے حکم اور طریقہ کے موافق کیا جائے بصورت دیگر ہر وہ قَدم ہمارے لئے حبطِ اعمال کا سبب ہوتا ہے جو محض طبیعت کے شوق یا خواہشِ نفس کی پیروی میں آکر کیا جائے۔ اور یہ ایک مسلمان کی شانِ محترم کے خِلاف ہےکہ:
“وہ کوئی بھی ایسا کام کرے جس سے کہ اس کے اعمال ضائع ہوتے ہوں”!
اس لئے کسی کے کہنے میں آکر چَراغاں کرنا/سیٹی بجانا یا کوئی بھی شرع مخالف بیہودہ کام میں خود کو لگانے سے احتراز کریں اور کی جانے والی ایسی تمام اپیلوں کو سِرے سے نظر انداز اور خارج کریں، کیونکہ ہم ایک دینِ حنیف کے ماننے اور اس کے سامنے سَرنِگوں ہونے والے ہیں، ہمیں ہمارا پیارا دین اسی بات کی تعلیم دیتا ہے۔
ہمارا تیسرا اسٹیٹس خود کو برے خیالات اور سوئے ظنی کے شکار ہونے سے بچانے پر موقوف تھا:
﴿بِاللہِ ظَنَّ السَّوْءِ﴾
ایمانِ کامل رکھنے والے اعمالِ ظاہرہ و باطنہ میں اللہ پاک کی حکمت و مصلحت کے پابند ہوا کرتے ہیں اور کسی طرح کی چوں چَرا کئے بغیر ادائیگی اعمال میں خود کو مشغول رکھتے ہیں۔ برخلاف ایمان و عقائد کے ناپُختہ لوگ (منافقین) جو پیش آمدہ دِقّت و پریشانی میں اُلٹے اللہ ہی پر بُری اٹکلیں کرنے لگتے ہیں۔ تو یاد رکھئے ! ایسے لوگ احتیاط و پیش بندی کے باوجود گردش و مصیبت کے چکر میں آ کر رہیں گے۔
چوتھا اسٹیٹس میں ہم نے احکامات الہی سے روگردانی کرنے والوں کو انجام سے باخبر کیاتھا:
﴿عَلَیْہِمْ دَآئِرَۃُالسَّوْءِ﴾
آیت میں وعید ہے ان لوگوں کےلئے جو کھلے طور احکامِ خداوندی سے رُو گردانی، شریعت مطہرہ کے اصول و ضوابط کی خلاف ورزی اور نبی کریم (ﷺ) کے ارشادات و پاکیزہ طریقہ کی مخالفت کرتے ہیں۔ ایسے نافرمان لوگ چاہے کتنے ہی حیلے بہانوں سے کام لیں اور کتنی ہی احتیاطی تدابیر اور بچاؤ کے راستے اختیار کریں؛ بالآخر اللہ کے عذاب اور اس کے غصے کا سامنا کرنا ہی پڑےگا اور مصیبت و پریشانی کے دائرہ (پھیر) میں آ کر رہیں گے۔
ایمان والوں کو چاہئے کہ ہر وقت اللہ کے عذاب اور اس کے غصہ سے ڈریں اور احکاماتِ رسولؐ کی پاسداری کریں!
ہمارا پانچواں اسٹیٹس ‘بےاعتدالی’ پر یوں مبنی تھا:
﴿یٰٓأُولِی الْأَلْبَابِ﴾
ہر ایک کو اللہ کی متعین کردہ حدود کی پابندی کرنا، ارکان اسلام کو تسلیم کرنا اور تمام احکام دین کو عملی زندگی میں داخل کرنا؛ یہ منشاء شریعت ہے۔ ان میں اگر لاپرواہی، بےاعتدالی یا کمی بیشی کی جاتی ہے تو دستور الہی کے مطابق پہلے تو متعدد مرتبہ ڈرایا جاتا ہے، وقفہ وقفہ سے حالات زمانہ میں رد و بدل سے کام لیا جاتا ہے اور انفرادی یا اجتماعی پریشانی میں مبتلا کرنے کے بعد لوگوں کو راہ راست پر آنے کا موقع دیا جاتا ہے؛ تاکہ پیش آمدہ حالات و واقعات میں غور و فکر کرنے کے بعد عقل مند عبرت و نصیحت حاصل کریں اور ڈریں کہ: “کہیں خدائی پکڑ اور عذاب کی زد میں نہ آ جائیں”؟
چھٹا اسٹیٹس لوگوں کو اپنی ‘اصلاح و احوال’ کے تعلق سے بیدار رہنے پر اس طرح تھا”
﴿نَبِّئْ عِبَادِیْٓ﴾
اصلاح حال و انجام کے واسطے بزبانِ نبی (ﷺ) ﷲ نے امت کو یہ بتا دیا ہےکہ:
“ہم نے لوگوں کےلئے (جزا و سزا کے واسطے) الگ الگ پیمانے قائم کر رکھے ہیں، جو جرم و نافرمانی کرکے آئیں گے؛ وہ سزا و عذاب بھگتیں گے اور جو تقویٰ و پرہیزگاری اختیار کرکے آئیں گے؛ ان کے ساتھ بخشش و مہربانی کا معاملہ ہوگا”۔
لوگو ! یہ دنیا “دارالامتحان” ہے اور اس کے سوالات کا پرچہ بھی “آؤٹ” کر دیا گیا ہے، انتہائی کامیاب و عقل مند ہے وہ شخص جو آؤٹ شدہ اس پرچہ کی عبارت پر غور کرتا ہے اور اپنی آخرت کی تیاری میں لگا رہتا ہے!
ہمارا ساتواں اسٹیٹس تھا کہ انسان خدائی نعمتوں اور مہربانیوں سے کب محروم ہا جاتا ہے؟
﴿مُغَیِّراًنِعْمَۃً﴾
خدائی نعمتوں کا چھن جانا، اللہ کا شان مہربانی کی جگہ انتقام سے کام لینا؛ یہ دراصل لوگوں کا میانہ روی اور راہ اعتدال کو چھوڑ دینے کے سبب ہوتا ہے۔ جو لوگ اپنی نیک عادت اور فطری استعداد کو گناہ و سرکشی کا عادی بنا لیتے ہیں اور شریعت کی بتائی ہوئی راہ پر نہیں چلتے تو حق تعالی سبحانہ ایسے لوگوں سے اپنی نعمتوں کو چھین لیتے ہیں اور اپنی شان کریمی و رحیمی کو انتقام سے بدل دیتے ہیں۔
اللہ پاک تمام بندوں کے ہرکام سے واقف ہے، کسی بھی کام کا اس سے پردہ اور خفا نہیں ہے۔ اس لئے بندوں کو ہر وقت ڈرتے رہنا اور اس کے رحم و کرم کا طالب ہونا چاہئے!
ایسے بدترین حالات جس میں دنیا کی کل آبادی کا نصف حصہ عالمگیر وبا کا سامنا کرنے پر مجبور ہے، اہلِ حق اور توحید و رسالت کے امین و پاسداری کرنے والوں کو چاہئے کہ وہ ہر قسم کے حالات سے نمٹنے اور انسانی معاشرے کو اس وبائی آفت سے نکالنے کےلئے امت کا رشتہ قرآن و حدیث سے وابستہ کریں، اس لئے کہ ہمارے پاس یہی دو نسخے ہیں جو سرچشمہ ہدایت اور منارۂ نور کی حیثیت رکھتے ہیں۔
(رامپور روڈ ٹانڈہ ضلع رامپور)