ہم کہتے ہیں دوسرے مسلمان نہیں ، کافر کہتا ہے تم سب مسلمان ہو

ڈاکٹر علیم خان فلکی

صدر ، سوشیو ریفارمس سوسائٹی، حیدر آباد
9642571721
ہمار ے ایک دوست جن کا تعلق ایک ضلع سے ہے ، کسی کام سے پاس کے گاﺅں جاکر واپس ہورہے تھے کہ پولیس نے روک لیا۔ ان کا تعلق ایک جماعت سے ہے لیکن تبلیغی جماعت سے نہیں۔ مگر ظاہر پورا تبلیغی ہی ہے ۔ ان پر شک کیا گیا کہ وہ دہلی سے آرہے ہیں۔ انہوں نے پولیس والوں کو بہت سمجھایا کہ تبلیغی جماعت کیا ہے اور ان کی جماعت کیا ہے لیکن پولیس والوں نے ایک نہ مانی اور ان کے ہاتھ پر 14دن کے قرنطینہ کا اسٹامپ لگادیا۔ ہم نے پوچھا کہ انہوں نے پولیس والوں کو کیا بتایا ۔ انہوں نے جو کچھ جواب دیا اس کا حاصل یہ تھا کہ تبلیغی جماعت عقیدے اورایجنڈے کے لحاظ سے واقعی تھی ہی ایسی جماعت کہ اس کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ صحیح ہوا ، لیکن ہماری جماعت ہر اعتبار سے ارفع واعلی ہے ۔ دوسرے الفاظ میں انہوں نے وہی بتایا جو ہر فرقے اورہر جماعت میں پہلا بنیادی سبق پڑھایا جاتا ہے کہ ان کی جماعت 73ویں فرقے والی جماعت ہے اور باقی ساری جماعتیں 72فرقوں سے تعلق رکھنے والی جماعتیں ہیں۔ ہمیں ایسا ہی ایک واقعہ یاد آرہا ہے، ایک مسجد میں فاتحہ پر جھگڑا ہوگیا ۔ ایک گروپ یہ چاہتا تھا کہ امام وہ ہو جو نماز کے بعد دعا میں ‘فاتحہ ‘ بولنے والا ہو، لیکن دوسرا گروپ اسے بدعت سمجھتاتھا۔ ایک گروہ کے امام صاحب اقامت کے بعد جیسے ہی نماز پڑھانے آگے بڑھنے ، دوسرے گروپ کے دو لوگ آگے بڑھے اور انہوں نے امام صاحب کو بزور پیچھے کیا اور اپنے امام کو آگے کیا، پھر کیا تھا، دھکہ بازی شروع ہوگئی اور بات مکہ بازی تک پہنچ گئی۔ ایک دوکے منہ پھوٹے اور ایک دو کے دانت ٹوٹے۔ خیر دونوں نے الگ الگ جماعتیں کیں اور اس کے بعد دونوں پولیس اسٹیشن پہنچ گئے۔ انسپکٹر کوئی ریڈی صاحب تھے ۔ دونوں گروپ FIRلکھوانے پر بضد تھے ۔ دونوں گروپ ایک ساتھ بولے جارہے تھے۔ ایک گروپ ریڈی صاحب کو قائل کرنے کی کوشش کررہا تھا کہ فاتحہ اسلام کا کتنا اہم رکن ہے ، دوسرا گروپ ثابت کرنے کی کوشش کررہا تھا کہ یہ بدعت ہے۔ ریڈی صاحب پریشان تھے کہ یہ بدعت ہندوستانی آئین میں جرم ہے یا نہیں ، لکھیں تو کیا لکھیں۔ دونو ں ہی ایک دوسرے کو سلاخوں کے پیچھے دیکھنا چاہتے تھے ، دونوں کے نزدیک معاملہ کفر اور اسلام کا تھا۔ دونوں کو یہ یقین تھاکہ وہ جہاد علی الحق پر ہیں۔ ہمیں ان لوگوں سے کوئی شکوہ نہیں ۔یہ بے چارے سیدھے سادھے لوگ ہوتے ہیں۔ شفاعت اور مغفرت کا انہیں جو بھی راستہ بتا دیا جائے اسی پر چل پڑتے ہیں، اور جو کوئی اس سے اختلاف کرے اس سے الجھ پڑتے ہیں۔ ان کے لئے قرآن و حدیث وہی ہے جو ان کے مولوی صاحب نے یا مرشد نے یا جماعت کے امیر نے بتادیا ہے، انہی “احبار و رھبان”کی بات بلا چوں و چرا سننا اور عقل کو دخل دیئے بغیر عمل کرنا ہی دین ہے۔ شکوہ ان سے ہے جو ان کے مرشد وہ رہنما ہیں۔ کیا ان جبہ و عمامہ پوشوں کو کسی کلمہ گو کی تکفیر یا تحقیر کرنے کی حرمت کے احکام نہیں معلوم ؟۔کیا یہ شیروانیوں اور ٹوپیوں میں وعظ و تقریر کرنے والے مولوی حضرات ، صحابہ رضی اللہ عنھم کا کوئی ایک بھی واقعہ ایسا بتا سکتے ہیں جس میں کسی صحابی نے مذہبی اختلاف کی بنیاد پر کسی دوسرے صحابی کو منافق، مشرک، کفر یا بدعتی کہا ہو یا کوئی اور مذاق اڑانے والا نام دیا ہو؟۔
ہم کو ہمارے ہیں مذہب کے چوکیداروں نے مسلکوں اور عقیدوں میں اتنی سختی سے جکڑ رکھا ہے کہ ہم ایک دوسرے کو ہی پہلے مسلمان ماننے کو تیار نہیں، جب کہ کافر ہم کو منوا رہا ہے کہ تم سب مسلمان ہو۔ آج آپ سن رہے ہیں کہ مسلمان دوکاندار وں اور میوہ ترکاری فروشوں کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے،لاک ڈاﺅن ختم ہونے کے بعد آپ دیکھیں گے کہ مسلمانوں کو نوکریوں سے نکالا جائے گا۔ کافر یہ نہیں دیکھے گا کہ آپ تبلیغی ہیں یا سلفی ، دیوبندی ہیں یا بریلوی ، سنی ہیں یا شیعہ، آج امت پر جو ذلت ، تہمت اور غربت و افلاس کا عذاب آیا ہے یہ صرف انہی لوگوں کو وجہ سے آیا ہے جو اپنے مسلک اور عقیدے کے حق ہونے کی جنگ آپس میںلڑ رہے ہیں اور معصوم مسلمانوں کو لڑوارہے ہیں۔ ان جاہل مسلمانوں کو جن کو نہ قرآن سمجھ میں آتی ہے نہ حدیث۔ جو مکمل اندھی عقیدت کے ساتھ ان کے پیچھے چل رہے ہیں ۔ جو صبح سے شام تک پچاس چھچورے واٹس اپ تو دیکھ سکتے ہیں لیکن کسی سنجیدہ موضوع پر ایک ورق پڑھنا نہیں چاہتے۔ جمعہ کے دن اول وقت مسجد میں داخل ہوکر خطیب کو سننا نہیں چاہتے۔ آپ دوسرے فرقے یا دوسری جماعت کے مسلمانوں کو اپنی طرح کے مسلمان مانیں یا نہ مانیں لیکن دشمن کے ڈنڈے ، تلواریں ، گولیا ں اور گھروں کو جلانے والی مشعلیں مانتی ہیں کہ آپ مسلمان ہیں۔ آپ کو جو شودر بنائے تلے ہیں وہ بڑے دشمن نہیں ہیں۔ آپ کے اصل دشمن وہ ہیں جو مسلمانوں کو ہی مسلکوں اور عقیدوں کی بنیاد پر اونچ نیچ بنارہے ہیں۔ ان کی قرآن و حدیث انہیں مشرکوں کو “اسلام و ایمان یعنی سلامتی اور امان “کی دعوت دینے کے کا م نہیں آتی بلکہ مسلمانوں کو ہی اسلام سے خارج کرنے کے کام آتی ہے۔
آج فقہی موضوعات پر ضخیم کتابیں لکھنے والوں سے ، عقیدے پر گھنٹوں گرجدار وعظ و تقریر کرنے والوں سے اور اپنے اپنے مسلک کے حق ہونے پر ضد اور ہٹ دھرمی کے ساتھ اڑجانے والوں سے یہ ایک حدیث (کم سے کم ایک، ورنہ یو ں تو اور بھی حدیثیں ہیں)یہ فریاد کررہی ہے کہ اپنے مسلک اور عقیدے کو ہی حق سمجھنے کے غرور اور تکبر سے باہر آﺅ، دوسرے تمام موضوعات جن سے مسلک اور گروہی عقیدے تو قائم ہوسکتے ہیں لیکن اسلام کھڑا نہیں ہوسکتا، انہیں چھوڑو اور پہلے اس حدیث پر ایمان لاﺅ، اس کو اپنا ﺅ، اسی کو پھیلاﺅ اور اسی پر اڑ جاﺅ۔چاہے سامنے والے کا عقیدہ، مسلک اور عمل کتنا ہی برا کیوں نہ ہو ، تم اس کے حساب لینے والے اور اس پر لعنت کرنے والے یا سزا دینے والے نہ بنو، اپنی آخرت کا سوچوکیونکہ ہوسکتا ہے یہی ایک حدیث کل قیامت میں تمہارے خلاف نہ کھڑی ہوجائے ۔ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ و سلم نے “مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے دوسرے لوگ سلامت رہیں۔ اور مومن وہ ہے جس سے دوسرے لوگوں کی جان اور مال امان میں ہوں۔ (سنن ترمذی 2504، بخاری، مشکوة)۔ آج یقینا مسلمانوں کے اعمال کفر، شرک، منافقت اور بدعتوں سے بھرپور ہیں ۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم کو قرآن و حدیث میں کہیں ایک جگہ بھی کیا یہ حق دیا گیا ہے کہ ہم کسی کو کافر، مشرک ، منافق یا بدعتی کہہ سکتے ہیں ؟ اگر اس شخص کا خاتمہ ایمان پر ہوگیا تو کل قیامت میں ہمارا کیا ہوگا؟کیا ہماری تصانیف، وعظ و تقریر ارو بحث و حجتیںہمارے کام آئیں گی؟یہ الشیخ ۔۔۔ حفظہ اللہ ، دامت برکاتہ ، مولانا ، سید سادات یا سجادے ہونے کا لیبل کام آئے گا؟۔ ہم کو صرف ، صرف اور صرف دعوت پہنچانے اور اس شخص کے حق میں تہجد میں اٹھ کر دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لست علیھم بمصیطر (غاشیہ22)بخدا جس کا مذہب ،مسلک یاعقیدہ کسی دوسرے مسلمان کے بارے میں دل میں بھی یہ سوچنے کا حق دے کہ وہ کافر ، مشرک، منافق یا بدعتی ہے تو وہ مسلک یا عقیدہ ہی اس کو جہنم میں لے جائیگا۔ اگر آج ہندوستان میں عزت و وقار کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو دشمن سے عزت کی بھیک نہ مانگیں ، پہلے خود ایک دوسرے کو ویسی عزت دینا سیکھیں جیسی اس حدیث میں حکم دیاگیا ہے۔