لاک ڈاون میں فلاحی کام: وزیر اعظم کاخطاب بے معنی ، محکمہ صحت کوآلات مہیاکرائے حکومت:عارف مسعود


بھوپال:15اپریل(نیانظریہ بیورو)
راجدھانی کے مرکزی اسمبلی حلقے سے کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود نے کورونا وبا سے لڑنے کے لئے حکومتی نظام پر سوال اٹھایا ہے۔ لاک ڈاو¿ن کے دوران انتظامیہ نے بھی بڑھتی مہنگائی اور منافع خوروں پر سوال اٹھائے ہیں۔ عارف مسعود کاکہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان موجودہ وقت میں مکمل طور پر ناکام ہیں۔ نہ وہ محکمہ صحت کے لئے سہولیات مہیا کرسکے ہیں اور نہ ہی وہ لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے گھروں میں قید لوگوں کے لئے کوئی سہولیات مہیا کرسکے ہیں۔عارف مسعود نے کہا کہ ضرورت مند اشیاءمہنگی ہونے کی وجہ سے عام لوگ پریشان ہیں۔ بھوپال سے کانگریس کے ممبر اسمبلی عارف مسعود نے کہا کہ وزیر اعظم کا پیغام جس کی کل توقع کی جارہی تھی ، وہ ملک کے عوام کے حوصلے بلند کرے گی اور کچھ دے گی ، لیکن یہ پیغام مکمل طور پر ناکام ہوگیااورلوگوں کی امیدوں پرپوری طرح سے پانی پھیردیاگیا۔وزیراعظم نے صرف اپنی بات کی عوام کوراحت دینے سے متعلق کوئی ہدایت نہیں دی۔
وزیر اعظم مودی کی تقریر بے معنی:
عارف مسعود نے کہا کہ وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ نے وہی کام کیے جو پہلے سے کرتے آرہے ہیں ، لوگوں کو تعاون کرنا چاہئے ، لوگوں کو صبر کرنا چاہئے۔ پورا ملک جانتا ہے کہ کوروناسے تباہی سر فہرست ہے۔
تمام لوگ تعاون کر رہے ہیں ، اس بیچ میں حکومت کا کام یہ ہے کہ حکومت ناکامیوں پر قابو پانے کے لئے کیا کوشش کر سکتی ہے۔ اگر وہ اچھی کوششیں کرتی ہے تو ہم ان کا شکریہ ادا کریں گے ، لیکن وزیراعظم نے جن سات نکات پرگفتگوکی وہ بالکل بے معنی ہے۔ اس میں شکریہ ادا کرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔
وہیںکانگریس ایم ایل اے عارف مسعود نے کہا کہ میں وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ حکومت کی طرف سے صحت کارکنوں کوضروری کٹ کیوں نہیں دی گئی ۔ دن رات ڈیوٹی کرنے والے پولیس اہلکاروں کو اپنے پیسوں سے ماسک خریدنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر کے پاس پی پی ای کٹ نہیں ہے۔ بھوپال میں جانچ کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ لوگوں کے نمونے جانچ کے لئے دہلی بھیجناپڑتاہے اور چار پانچ دن میں رپورٹ آتی ہے۔ اس دوران مشتبہ فرد کاجورابطہ دیگرلوگوں سے ہوئے ہیں اس کی ذمہ داری کون لے گا۔
محکمہ صحت کے پاس آلات نہیں ہیں:
عارف مسعود نے شیو راج سنگھ سے پوچھاہے کہ کیا آپ کو مدھیہ پردیش اور بھوپال کے لوگوں کی پروا ہے یا نہیں؟ بھوپال میں 145افرادکے کورونامتاثرہ مریضوں میں سے 75 سے زیادہ افرادمحکمہ صحت کے ملازمین ہیں۔ محکمہ صحت جوکہ لوگوں کی دیکھ بھال کرتی ہے وہ خود ہی اس میں مبتلا ہیں ۔ محکمہ کے ملازمین انفکشن ہوچکے ہیں کیونکہ اعلی عہدیدار خود انفیکشن میں مبتلا تھے۔ جب محکمہ صحت کے پاس آلات نہیں ہونگے توظاہرہے کہ یہ کافی مایوسی کی بات ہے۔غورطلب ہے کہ مدھیہ پردیش میں کورونا وائرس نے تباہی مچا رکھا ہے۔ ادھر کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود نے ریاستی حکومت کے کام پر سوال اٹھایا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے وزیراعظم مودی کو بھی نشانہ بنایا۔ ساتھ ہی ان سے مطالبہ کیاہے کہ لوگوں کوسہولیات مہیاکرائے جائیں۔