بھوپال میں یومیہ مزدوروں کی حالت خراب،فاقہ کشی کی آئی نوبت


بھوپال:15اپریل(نیانظریہ بیورو)
کورونا کی تباہی نے پوری دنیا میں کہرام مچا دیا ہے ، سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ اس وقت معیشت بے بس اور لاچار نظر آرہی ہیں ، بھارت بھی کورونا کے خلاف براہ راست جنگ لڑرہا ہے ، اس جنگ میں کورونا سے بچاو¿ کےلئے بہت سارے چیلنجز ہیں ، جس میں غریبوں کی بھوک مٹانااصل کام ہے۔ لیکن سب سے بڑا چیلنج ان کے ٹھنڈے چولہے کو جلا دینا ہے۔ لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے ، جہاں لوگوں کا روزگار ختم ہوگیا ہے ، وہیں کورونا سے بڑا وائرس ان کے سامنے بھوک شکل میں کھڑا ہے۔انتظامیہ کی جانب سے یہ دعوی کیا جارہا ہے کہ وہ غریبوں کو تمام تر سہولیات مہیا کرارہی ہے ، لیکن زمینی طور پر یہ دعوے کھوکھلے ثابت ہورہے ہیں۔ بھوپال میں سیکڑوں مزدور ہیں جو لوہے سے اوزاربنانے کاکام کرتے ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں یہ افراد برسوں سے جھونپڑی بنا کر زندگی گزار رہے ہیں ، جو آج 2 وقت کی روٹی کے لئے پریشان ہیں۔واضح رہے کہ یہ لوگ بھوپال کے جواہر چوک کی ایک جھونپڑی میں رہتے ہوئے بھوپال روزگار کی تلاش میں راجستھان سے آئے تھے ، لیکن آج وہ سب بھوک سے دوچار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں اوران کے جیسے دیگرافرادکو حکومت کی طرف سے کوئی مدد فراہم نہیں کی جارہی ہے۔ ایک اسکول کا ٹیچر ہے جو ان کی بھوک مٹانے میں مددکررہا ہے۔ ان کے پاس نہ راشن کارڈ ہے اور نہ ہی کوئی آدھار کارڈ۔ یہ پورے سال بھوپال میں قیام کرتے ہیں اور اپناروایتی کام کرکے اپنے اورخاندان کاپیٹ بھرتے ہیں۔غورطلب ہے کہ یہ معاملہ صرف جواہر چوک میں ہی نہیں ، یہ لوگ شہر کے مختلف علاقوں جیسے مسرود ، خان پور میں بھی کام کرتے ہیں اوروہیں جھونپڑی بناکررہتے ہیں۔ لہذا اگر حکومت ان پر دھیان نہیں دیتی ہے تو پھر دہلی ممبئی اور سورت جیسے حالات یہاں بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔